Friday, 28 September 2018

علیؑ کا احتساب

علیؑ کا احتساب
حضرت علی کرم الله وجہہ کے دور خلافت میں ایک قاضی نے گھر خرید لیا - جب یہ معاملہ آپ کے علم میں آیا - تو آپ نے قاضی کو خط لکھا - جس میں چند اہم نکات پر استفسار فرمایا کہ آپ نے گھر کیوں خریدا ? کیا تمہارے وسائل بڑھ گیے ہیں ? یا تمہارا موجودہ گھر تمھارے مقام کے مطابق نہیں ? کہیں ایسا تو نہیں کہ تم نے اپنے عہدہ کا استعمال کر کے کم قیمت ادا کی ہے ? کہیں تم نے بیت المال کا استعمال تو نہیں کیا ? "
یہ ہے نظام اسلام -
مگر آج ایک کے حکمران اپنے ماتحت سے کیسے پوچھ سکتے ہیں - کیونکہ وہ انہی ماتحتوں کے ذریعے حرام اکٹھا کرتے ہیں - ہر محکمے میں ناجائز کمائی سربراہ تک تقسیم ہوتی ہے - کون کرے گا احتساب - کون پوچھے گا کہ یہ اربوں کے اثاثے اور بنک بلینس کہاں سے ملے -
کون پوچھنے والا ہے کہ یہ کک بیک والے منصوبوں میں دلچسپی کیوں ہے -
جج بک جاتے ہیں , محتسب بک جاتے ہیں , محافظ بک جاتے ہیں - پھر کون پوچھے گا - میڈیا , صحافی , دانشور , ملا اور لیڈر سب کے سب بک رہے ہیں -
پھر کون پوچھے گا ?
حکمران سوداگر ہو جاے تو سب کچھ بکاؤ ہو جاتا ہے - روایات اور کردار بھی منڈی میں آ جاتے ہیں - قلم اور دھرم بھی بکنے لگتا ہے -
اے الله ہم پر رحم کر دے.
آزاد ہاشمی
28 ستمبر 2017

No comments:

Post a Comment