" کربلا کے بعد تاریخ کس نے لکھی؟ "
ایمان کے اساسی پہلو یہی ہیں کہ ہم جو قرآن میں لکھا ہے ، اسے قبول کریں اور اسکے متوازی کوئی دوسری توجیہ تلاش نہ کریں ۔ قرآن میں فاسق کسے کہا گیا اور اس پر اللہ نے کیا حد مقرر کی ، اس پر دوسری کوئی رائے قائم کرنا " کفر " ہے ۔ دوسرا اساسی پہلو یہ ہے کہ جو اللہ کے رسولؐ نے کہا ، اسے بعینہ مان لیا جائے ۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ " انا من الحسین و حسین منی " اس حدیث پر کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کرتا ۔ اگر اس حدیث کو بنیاد نہ بھی بنایا جائے تو رسولؐ پاک کی جو محبت " حسنین " سے تھی ، وہ مسلمہ بھی ہے اور فطری طور پر بھی تسلیم شدہ ہے ۔
حضور پاکؐ کے بعد ، خلافت راشدہ نہایت ہم آہنگی سے برقرار رہی ۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دور شروع ہوا ، تو بنو امیہ کے جانشین ، بنو ہاشم سے انتقام اور مخاصمت کی راہ پر چل نکلے ۔ اول تینوں خلفاء قبائلی روایت میں بنو امیہ کا حدف نہیں تھے ، مگر حضرت علیؑ کا براہ راست تقابل بنا کر شورش اور سازش کی فضا قائم کر دی گئی ۔ معاویہ پوری طاقت سے میدان میں کود پڑے ۔ سیاسی چپقلش کو اگر سیاسی حد تک رکھا جائے تو بھی مصالحانہ حل نکل آتے ہیں ۔ مگر حضرت علیؑ پر مساجد میں طعن و تشنیع اور خطبہ جمعہ میں توہین کرنا ، ایک واجب کیطرح اختیار کر لیا گیا ۔ بنو امیہ نے پوری طرح شہنشاہت قائم کردی اور نام امیرالمومنین ہی رکھا اور اسے خلافت کا نام ہی دیا ۔ آل رسولؐ ہی نہیں ، کئی دیگر صحابہؓ کی اولاد بھی ستم رسیدہ ہوئی ۔ خلافت شام نے مکہ اور مدینہ پر بھی چڑھائی کی ۔ سوال یہ ہے کہ اس چڑھائی کے اسباب کیا تھے اور سلطنت بنو امیہ کے اہداف کیا تھے ؟ واقعہ حرہ ، مکہ اور مدینہ پر یلغار کرنے سے کونسی اسلام کی خدمت ہو رہی تھی ۔ تاریخ لکھنے والوں نے ان تمام حالات و واقعات پر کیوں چپ سادھ لی ؟ تاریخ لکھنے والوں نے کیوں نہیں لکھا کہ اسلام میں احادیث کے حوالے سے کتنا مواد شامل کردیا جو صرف بنو امیہ کی تقویت کیلئے کیا گیا ۔ آل رسولؐ کی امامت سے اعراض کر کے عراق ، شام اور ایران کے محققین کو سند امامت کیسے مل گئی ؟
تاریخ لکھنے والوں نے یہ اہم سوال حل کیوں نہیں کئے ؟ ان اہم موضوعات پر خاموشی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ بنو امیہ کی مرضی اور منشاء ہی سے سب کچھ لکھا گیا ۔ بیعت یزید کو ، یزید کے حق پر ہونے کی دلیل لکھنے والوں نے یہ کیوں نہیں لکھا کہ بیعت کیلئے جبر نہیں کیا جا سکتا ، لابنگ نہیں کی جا سکتی ۔ یہ ایک صوابدیدی اختیار ہے ، جسے بنو امیہ نے کلی طور پر ختم کردیا ۔ تاریخ دانوں نے کیوں نہیں لکھا کہ جس جس نے بیعت نہیں کی ، اسکا کیا حشر ہوا ۔ تاریخ کیوں نہیں بتاتی کہ جب مکہ پر حملہ ہوا تو کتنے غیر مسلم لشکر یزید میں شامل تھے ۔
یہ تاریخ لکھنے والے کون تھے ؟ انہوں اسلام کی خدمت کی یا ملوکیت کو پروان چڑھایا ؟ اسلام کی ہیئت بدل کر ساری دنیا بھی فتح کر لی جاتی تو کونسا کمال تھا ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ ستمبر ٢٠١٨
Sunday, 23 September 2018
کربلا کے بعد تاریخ کس نے لکھی؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment