Thursday, 11 October 2018

معاویہ کے بعد کیا ہوا (1)

معاویہ کے بعد کیا ہوا  (1)"
معاویہ نے اقتدار کیلئے ہر ممکن حربہ اختیار کیا کہ کسی طرح اقتدار اسکی نسل کے پاس رہے ۔ یہ وہ روایت تھی جس نے اسلام جیسے پرامن مذہب کے اندر خونریزی کا بیج بو دیا ۔ امام حسنؑ نے اس شرط پر معاویہ سے معاہدہ کر لیا تھا کہ وہ خلافت کیلئے اسلام کے مطابق طریقہ اختیار کرے گا مگر ایسا نہ ہوا ۔ امام حسنؑ کے فیصلے پر بہت سے اکابر صحابہ کو اعتراض تھا کہ معاویہ کو اسطرح کھلی چھوٹ نہ دی جائے ۔ جس پر  حضرت حسنؑ نے فرمایا "اگر خلافت میرا حق تھا تو یہ میں نے ان کو بخش دیا اور اگر یہ ان کا حق تھا تو یہ ان تک پہنچ گیا۔"
جب یزید اقتدار پر بیٹھ گیا ، تو یزید کے سامنے چند حدف تھے ، جن کو پورا کرنا ضروری سمجھ رہا تھا ۔ اسے خطرہ تھا کہ کچھ اکابرین اسکی خلافت کی مخالفت کریں گے ۔ ان میں کچھ مصلحت کے ساتھ رستے سے ہٹائے جا سکتے تھے اور کچھ کو زبردستی قابو کرنا ہی مناسب سمجھتا تھا ۔ امام حسینؑ وہ رکاوٹ تھی ، جو یزید کیلئے درد سر بنی ہوئی تھی ، حالانکہ امامؑ نے یزید کے اقتدار پر بیٹھ جانے پر کوئی تحریک شروع نہیں کی تھی اور نہ رائے عامہ ہموار کرنے کی کوئی مثال موجود تھی  - یزید کے زیر تسلط علاقوں سے امام حسینؑ سے مدد کی درخواست ، بیعت کے لئے خطوط ، اور پھر اہل کوفہ کا خا موش ہو کر آل رسولؑ پر مظالم کا تماشا کرنا ۔ یزید ہی کی ہوس رانی کی سازش کا ایک رخ تھا ۔ مورخ جو ہمیشہ وہی لکھتے رہے جو بنو امیہ کی منشاء ہوتی تھی ۔ مورخ نے یہی لکھا کہ اہل کوفہ نے بیوفائی کی ۔ اہل کوفہ تو پوری طرح سے معاویہ کے مطیع تھے ، کیونکہ ان میں ایمان کا فقدان بھی تھا ، اخلاقی جرات سے بھی قاصر تھے اور بزدل بھی تھے ۔ سوائے چند کے اکثریت اسی طرح کی تھی کہ ان پر اعتماد کرنا ہی مناسب نہیں تھا۔ حقائق بتاتے ہیں کہ امام حسینؑ نے اعتماد نہیں کیا ، بلکہ اپنے بھائی مسلم بن عقیلؓ کو حالات سے اگاہی کیلئے بھیجا ۔ مسلم بن عقیل نے کیا لکھا اور حسینؑ کو کیا پیغام ملا ، یہی وہ سازش تھی جس نے آمادہ سفر کیا۔ امامت کا تقاضا بھی تھا اور بحیثیت امامؑ ذمہ داری بھی تھی کہ جب بھی امت دین کی احیاء کیلئے بلائے تو امامؑ کو ہر حال میں جانا تھا ۔ یہ سب ایک سازش کے تحت ہو رہا تھا ۔
جب یزید نے مدینہ سے اتنی دور اپنا جال پھیلا کر امامؑ کو گھیر لیا اور یقین ہو گیا کہ اب اہل مدینہ اور آل رسولؐ کے ماننے والے مدد کو نہیں پہنچ سکیں گے تو اپنے وار سے آل رسولؑ کو کاٹ ڈالا ۔
(جاری ہے ۔۔۔۔۔ )
آزاد ھاشمی
١١ اکتوبر ٢٠١٨

قادیانیوں پر عتاب

" قادیانیوں پر عتاب "
عقیدہ , مذہب , ایمان اور مسلک ہر کسی کی اپنی سوچ اور صوابدید ہے . صحیح اور غلط پر اپنی اپنی تحقیق کا حق ہر کسی کو ہے . سیاسی نمائندے اگر کسی کو کافر قرار دے دیں تو یہ کسی مسلک کی حق تلفی بھی ہے اور زور زبردستی بھی . قادیانیوں کے عقائد پر پورا سیاسی , مذہبی اور سوشل میڈیا متحرک نظر آ رہا ہے . وہ اپنی تنظیم سازی میں , اس حد تک آگے جا چکے ہیں . کہ پوری دنیا میں انکے کردار پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا . انہیں امن کی پہچان  مانا جاتا ہے . تنظیم کے لحاظ سے خلافت کو اصل میں کارفرما دیکھنا ہو تو انکی تنظیم سر فہرست ہے . مجال نہیں کہ کوئی اپنے سربراہ کی بات سے انحراف کرے . اگر ان کے عقائد مسلم دنیا سے متضاد ہیں , کفر ہیں , توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں . تو عقائد پر مثبت طریقے سے بحث و تمحیص اور مسلمانوں کو اگاہی کا فریضہ ادا کرنا مناسب ہے یا کندھے پہ کلہاڑی رکھ لینا موزوں ہے . اگر یہ سچ ہے کہ انہوں نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں تو اسکے ثبوت عدالت میں رکھے جائیں , ایجینسیوں کو دئیے جائیں . عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے . عالمی امن کے مذاکروں میں ان کو بلایا جاتا ہے , سنا جاتا ہے اور تسلیم کیا جاتا ہے . یہ سب اس کردار کی وجہ سے ہے , اس شائستگی کی وجہ سے ہے , جو ان لوگوں نے اپنا رکھی ہے .
مسلمان کی پہچان اسکا کردار ہے . اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے کردار سے کفر کو شکست دی . اس اسوہ کو بھول کر دشنام سازی کی راہ اختیار کر لینے سے قادیانیت کا کیا بگڑا .
پوری دنیا میں انکا نیٹ ورک پھیل رہا ہے . افریقہ , ایشیا , یورپ , آسٹریلیا اور امریکہ میں انکے عبادت خانوں میں  اذان بھی دیتے ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں . کلمہ پڑھتے ہیں , قران کی تلاوت کرتے ہیں .
کسی ایک خطے میں انکے خلاف کوئی ایک شکایت نہیں . کیا رائے ہے کہ دیکھنے والے اسلام کے قریب تر کسے سمجھیں گے .
" لکم دینکم ولی الدین " کو اختیار کریں . یا پھر ان سے مذاکرے کریں , انہیں سنیں اور انکو سنائیں . یہ اسلام  کی راہ ہے .
اسمبلی کے اندر کردار ساز لوگ ہوں تو انکی رائے تسلیم کی جائے گی . مگر جہاں چور اور لٹیرے بیٹھے ہیں , وہاں کونسی مثبت امید رکھی جا سکتی ہے .
اسلامی فکر سے معاشرے کو سنوارنے کی کوشش میں کوئی آگے نہیں آتا . فرقہ ورانہ آگ بھڑکانے کیلئے ہر کوئی کمر بستہ ہے .
امید کروں گا کہ کفر کا فتوی دینے سے پہلے تحریر کو اسکے سیاق و سباق میں پڑھ لیا جائے .
ازاد ھاشمی

Wednesday, 10 October 2018

ندامت

" ندامت "
آج چند مزدور لوگ کسی کام سے میرے گھر پہ تھے . ان میں سے ایک مسلمان اور باقی عیسائی تھے . میں نے چائے پیش کی کیونکہ وہ لوگ بہت تھک گئے تھے . ان میں سے دو نے شراب یا بئیر کی خواہش کا اظہار کیا . میں نے معذرت کر لی کہ ہم مسلمان ہیں . ہمارے مذہب میں شراب , جوا , زنا اور ایسے معاشرتی جرائم پر سخت پابندی ہے . حتی کہ مرد اور عورت کا اختلاط بھی ممنوع ہے .
وہ یہ سن کر خاموش ہونے کی بجائے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے . مجھے غصہ بھی آیا کہ انہوں نے میری مہمان نوازی کا تمسخر اڑایا ہے . ان میں سے ایک بولا .
" کیا یہ آپ کے ملک کا قانون ہے , یا اسلام کا "
میں نے تفصیل سے بتایا کہ یہ اسلام کا قانون ہے اور کیوں ہے . اس سے معاشرے کو کیا فائدہ ملتا ہے . وغیرہ وغیرہ .
" جب یہ سب آپکے مذہب کے اصول ہیں تو پھر تمہارے مسلمان بھائی ان اصولوں کو یہاں آکر کیوں بھول جاتے ہیں . مسلمانوں کو چھوڑیں , آپ کے پاکستانی تو یہاں پر شراب بھی پیتے ہیں , زنا بھی کرتے ہیں , تمام کسینو میں بیشمار پاکستانی , عرب اور دیگر مسلمان جوا بھی کھیلتے ہیں . اگر سچ بولوں تو یہ تمام جوا خانے مسلمان لوگوں سے آباد ہیں . ہمارے کالے تو اس قابل ہی نہیں کہ جوا کھیل سکیں "
وہ بڑی شدت سے میری حالت کو جھنجھوڑ رہا تھا .
" صاحب ! میں نے کئی مسلمانوں کے گھروں میں مزدوری کی ہے . انکے کچن کیبنٹ , اعلی قسم کی شرابوں سے بھرے دیکھے ہیں . میں نے انہیں گھروں میں جوا کھیلتے دیکھا ہے . انکے گھروں کی ملازمائیں انکی بیویاں لگتی ہیں . "
میرے پاس , سوائے اسکے کہ میں ان تمام الزامات سے انکار کر دوں , کوئی راہ فرار نہیں تھا . ندامت کا احساس ضرور تھا .
ازاد ہاشمی
6 اکتوبر 2017

تاریخ کیوں چھپائی جاتی ہے؟

تاریخ کیوں چھپائی جاتی ہے ؟ "
علیؑ اور معاویہ میں کونسی ایسی قدر مشترک تھی ،  جس پر معاویہ  اور علی ، دونوں کو ایک معیار پر پرکھا جا سکتا ہے ۔ علیؑ کی تربیت رسولؐ اللہ کے زیر سایہ ہوئی ، علیؑ کو اعزاز حاصل رہا کہ رسولؐ کی رسالت کی پہلی گواہی دینے والوں میں شمار ہوئے ۔ اللہ کے رسولؐ کے سامنے جو بھی مشکل آئی ، خواہ وہ ہجرت والی رات کی سنگینی تھی ، بدر کا غزوہ تھا ، غزوہ احد کی مشکل تھی ، خندق کا امتحان تھا یا خیبر کا معرکہ ، علیؑ پوری استقامت کے ساتھ رسولؐ کے ساتھ کھڑے تھے ۔ تاریخ اس حقیقت کو کیسے چھپا سکتی ہے کہ جو اعتماد رسولؐ کو علیؑ پر تھا وہ کسی دوسرے پر کبھی نہیں ہوا ۔
خلافت کے ابتدائی دور میں ، تینوں خلفاء کو علیؑ کے کردار پر ، علیؑ  کی استقامت پر اور علیؑ کی وفا پر کبھی شک نہیں ہوا ۔ تاریخ میں واحد علیؑ تھے جنہوں نے دین کو اپنی ذات سے بلند سمجھا اور کوئی ایسا میدان نہیں جہاں دین کو ضرورت پڑی ہو تو علیؑ نے لبیک نہ کہا ہو ۔
اب ہم تاریخ کے ان اوراق کی طرف لوٹتے ہیں ، جو فتح مکہ سے متعلق ہیں  ۔ فتح مکہ اسلام کے استحکام کا نام ہے ۔ جب اسلام ایک فاتح دین  کی صورت میں غلبہ حاصل کرتا ہے ۔ فاتح کے سامنے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ،  ایک وہ جو شکست تسلیم نہیں کرتے اور جان دے دیتے ہیں ۔ دوسرے وہ جو مصلحت کے تحت فاتح کو حاکم مان لیتے ہیں ۔ معاویہ کے جد امجد اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے  جنہوں نے مصلحت کے تحت اسلام قبول کر لیا ۔ یہاں یہ سوال زیر بحث نہیں کہ ایمان لانے کے بعد ، کون کس درجہ پہ فائز ہو جاتا ہے اور کون اپنی غلطی کا دل سےاعتراف کرتا ہے یا کون مجبوری سے اسلام کے ساتھ جڑا رہتا ہے ۔ تاریخ کے وہ حقائق جن پر تمام مسالک متفق ہیں کہ خلیفہ ثالث کو علیؑ کے کردار پر نہ شک تھا اور نہ کبھی شبے کا اظہار کیا نہ ہی ایسا کوئی تاثر گردش کر رہا تھا ۔ یہاں تک تاریخ پر سب متفق ہیں ۔ جیسے ہی خلافت پر علیؑ کو فائز کیا گیا ، اور یہ عمل باقاعدہ مروج طریقے سے ہوا ، جبکہ علیؑ کو خلافت سے نہ کوئی رغبت تھی اور نہ اسکی کبھی آرزو رہی ۔ علیؑ کی خلافت پر معاویہ نے مسائل کھڑے کر دئیے ۔ تاریخی حوالہ جات کے مطابق معاویہ کی تاریخ پیدائش 603 عیسوی بتائی جاتی ہے ، فتح مکہ 630 عیسوی کو ہوا جب معاویہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے  اسوقت معاویہ کی کل عمر ستائیس سال کے لگ بھگ تھی ،  جبکہ معاویہ سے زیادہ عمر رسیدہ ، زیادہ با عمل اور نبیؐ کی قربت والے دوسرے بہت سے صحابہ موجود تھے ، جو تقویٰ ،  علم اور اسلام کی خدمات میں کہیں آگے تھے ۔ جبکہ معاویہ کا خاندان نہ صرف اسلام کا مخالف تھا  بلکہ مسلمانوں کے قتال و جدال میں بھی ہراول دستوں میں شامل تھا ۔  معاویہ اسلام قبول کر لینے کے ٹھیک نو سال بعد 639 سے 661 عیسوی تک شام کے گورنر کے منصب پر فائز کر دئیے گئے  ۔ اس دلیل کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ کی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے ان سے بہتر شاید کوئی دوسرا صحابہ میں سے یا صحابہ کی اولاد میں سے نہیں تھا ۔  مگر یہ بات تاریخ میں کیوں نہیں  بتائی جاتی کہ  معاویہ نے گورنر ہونے کے دوران ہی  خلیفہ وقت اور امیرالمومنین کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور اپنی متوازن  حیثیت از خود  کیوں قائم کرنا شروع  کردی ۔ کیا اصولی طور پر یہ درست اقدام تھا یا انتظامی لحاظ سے  اسلام کو سنگین زک پہنچانا مقصود تھا ۔  اس خود سری کا جنگ صفین کے بعد نتیجہ سامنے آگیا اور مسلمانوں کی دو ریاستیں اور دو امیر المومنین بن گئے ۔ یہ پہلی تقسیم تھی ، جس کا محرک معاویہ بن ابوسفیان تھا ۔  حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد معاویہ نے پورا اقتدار  اپنی جھولی میں ڈال لیا اور  661  سے 680  تک بطور خلیفہ المومنین رہے ۔ یہ سب تاریخ کے غیر اختلافی حقائق ہیں ۔ اس صورت حال تک ، اگر کوئی مسلمان یہ رائے قائم کرتا ہے کہ یہ رویہ اقتدار کی ہوس کا آئینہ دار تھا اور وہ معاویہ پر ایمان لانے سے انکار کر دیتا ہے ، تو یقینی طور پر وہ کفر کا مرتکب نہیں ہوتا ۔ ان تاریخی حوالہ جات کو دبا کر رکھنا اور توجہ نہ جانے دینا ، کسی بھی طور حقائق شناسی نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ ستمبر ٢٠١٨

Tuesday, 9 October 2018

فوج اور فوجی

" فوج اور فوجی "
فوج ایک ایسی دیوار ہوا کرتی ہے , جس کے اس پار دشمن کی نہ تو رسائی ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی دشمن اندر کے بھید جان پاتا ہے . کسی بھی ملک کی سالمیت کا انحصار فوج کی قابلیت , حب الوطنی اور اصول ہوتے ہیں . ملک کتنا بھی معاشی بلندیوں پر کیوں نہ ہو , فوج کے بغیر ریت کا گھروندا ہوتا ہے . پاکستان شومئی قسمت سے بیرونی دشمنوں میں گھرا ہوا ملک ہے . دوسری بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ غداری کا پودا بہت سرعت سے اگ آتا ہے . غداروں کی آماجگاہ ہونے کی وجہ سے فوج کی اہمیت اور بھی مسلم ہے . تیسری بڑی خرابی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان نہ صرف نا اہل ہوتے ہیں بلکہ بھوکے کتے سے بھی بد تر حرص کے پروردہ ہوتے رہے ہیں . چوتھی خرابی کہ برادری , خاندانی سیاست نے بیڑہ غرق کر رکھا ہے . پانچویں بڑی خرابی کہ لسانی تعصب عروج پر ہے , مذہبی فرقہ بندی کی انارکی کا ناسور پوری طرح مثبت فکر کو کھا گیا ہے .
اب اندرونی اور بیرونی دشمنوں کی انتہائی کوشش ہے کہ کسی طرح فوج کا تشخص برباد کر دیا جائے . اور یہ کوشش تسلسل سے جاری و ساری ہے .
اب اس برائی میں کچھ فوجی بھی شامل ہو گئے ہیں . ایک جرنیل بننے تک جو تربیت درکار ہوتی ہے , اسکا فقدان سامنے آنے لگا ہے . سینکڑوں جرنیلوں میں اگر ایک آدھ کرپشن کرتا ہے , یا اپنے اختیارات کو اپنے وسائل کیلئے استعمال کرتا ہے , تو اسکا یہ جرم وطن دشمنی سے کم نہیں . اس کے جرم کی پاداش , عام غدار سے کہیں زیادہ ہونا چاہئے تھی . چہ جائیکہ اس کے جرم پر پردہ ڈال دیا جائے .
فوجی کی اپنی ایک پہچان , اسکی اصول پرستی ہے . جس پر وہ مرنے تک کاربند رہتا ہے . اسکی اولین ترجیح وطن کے خلاف ہر سازش کو کچلنا ہوتی ہے , چہ جائیکہ وہ خود مصلحت اندیش ہو کر سازشوں سے سمجھوتے کرنے لگے . یہ وہ خرابی ہے جو سامنے آنا شروع ہو چکی ہے . جس سے فوج کی وہ قدر نہیں رہی جو ہوا کرتی تھی . سیاست کا چسکا , جرنیلی کا زعم اور امیر بننے کا خواب بھی فوجیوں کی کمزوری بن گیا ہے .
تعجب  ہوتا ہے جب فوج کے کرتا دھرتا سیاسی میدان والوں  جیسی چالبازیاں کرنے لگتے ہیں . بیانات سے سومنات کا مندر برباد کر دیتے ہیں , عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہوتا . امن کی فاختہ اڑاتے ہیں مگر وہ فاختہ بم باندھے قوم کے پرخچے اڑاتی رہتی ہے .  فوجی کے ذاتی کردار کو فوج کا کردار بننے سے روکنا ہو گا . ورنہ خاکی وردی اور کالی وردی کی ایک سی پہچان بن جائیگی . ڈی آئی جی پولیس اور چیف آف آرمی کو ایک جیسا سمجھنے کا رحجان تقویت پکڑ رہا ہے .
ازاد ھاشمی
9 اکتوبر 2017

Monday, 8 October 2018

عظیم سجدے

" عظیم سجدے "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدمؑ کے سامنے سجدے کا کیوں حکم دیا ؟ ابلیس کا انکار اور تکرار کہ میں اس بت کو کیوں سجدہ کروں ، جسے مٹی جیسے حقیر عنصر سے تخلیق کیا گیا ہے اور میری اس سے بہتر تخلیق ہے ۔ مگر وہ ایک محدود علم و فکر کا مالک کیا جانے کہ جسے وہ حقیر بت سمجھ رہا ہے ، اسکے تسلسل میں چند سجدے کرنے والے ہیں ، جو سجدوں کو معراج دیں گے ۔ عبدیت کی جو مثال اس تخلیق سے قائم ہوگی وہ دنیا کی کسی دوسری مخلوق کے بس میں نہیں ۔
" سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم " پڑھتے رہنا اور اس عظمت کا عملی اقرار دو مختلف منزلیں ہیں ۔
سجدے کی عظمت اگر نظر آتی ہے تو آل نبیؐ میں نظر آتی ہے ۔ جنہوں نے ہر حال میں اللہ کی پاکیزگی بیان کی اور اللہ کی عظمت کو ثابت کیا ۔
مستند ہے کہ جب رسولؐ سجدے میں ہوتے تو کبھی کبھی حسنؑ اور حسینؑ ، آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو جاتے ۔ آپؐ سجدے کو طویل فرماتے تاوقتیکہ کہ معصومین کمر سے اتار نہ لئے جاتے یا خود نہ اترتے ۔ آپؐ نے کبھی نہیں ڈانٹا اور کبھی منع نہیں فرمایا ۔ کیوں ؟ یہ سوال شاید قیامت تک تشنہ ہی رہتا اگر حسنؑ خون تھوکتے ہوئے بھی سجدہ ریز نظر نہ آتے ۔ اگر حسینؑ کا سر کربلا میں سجدے کی حالت میں نہ کٹتا ۔ سجدے کا انہماک دیکھا جائے کہ قاتل کمر پر سوار ہے اور گردن کی پشت سے سر کاٹ رہا ہے ۔ گردن کے سامنے سے پہلے شہ رگ کٹتی ہے جبکہ گردن کی پشت سے ہڈی کٹے گی ۔ جسے کاٹنا مشکل بھی ہو گا اور کٹنے والا حوش و ہواس میں بھی رہے گا ۔ درد کو محسوس بھی کرے گا ۔ پھر ایک وار میں گردن نہیں کاٹی گئی ، تسلسل کے ساتھ ایک ایک ہڈی کاٹی جائے اور کند آلے سے کاٹی جا رہی ہو تو تکلیف کا عالم کیا ہو گا ۔ حسینؑ کا بیمثال سجدہ اور اللہ سے اس قدر قربت کہ ایک بار بھی جسم میں جنبش نہیں ہوئی ۔ سجدے کا تسلسل برقرار رکھا ۔ گویا اس فانی دنیا سے سجدہ شروع ہوا اور جاری تھا کہ عالم آخرت میں چلے گئے ۔ اس دنیا سے اس دنیا تک کا سجدہ ۔ 
مستند ہے کہ جب حسینؑ کے بابا علیؑ کے جسم میں کسی تیر یا بھالے کا حصہ رہ جاتا تو اسے آپؑ کے جسم سے حالت سجدہ میں نکالا جاتا ۔
کسی نے حسینؑ کی عظیم ماں سے سوال کیا ۔
" اے رسولؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ! کوئی ایسا ارمان جو پورا نہیں ہوا ؟ "
تو فرمایا
" ہاں ایک خواہش کبھی پوری نہیں ہوئی کہ کبھی کوئی رات اتنی طویل نہیں ملی کہ میرا ایک سجدہ مکمل ہو جاتا " 
کربلا سے شام تک اور شام سے مدینہ تک ، قید میں اور سفر میں ، بندھے ہاتھوں سے اور کھلے بالوں سے ، زمین پر سر لگا کر یا سر لگائے بغیر کتنے سجدے ہوئے ، کس کس نے کئے ، رب کی عظمت کو کیسے بلند کیا ، کیسے لکھے جائیں اور کیسے سمجھے جائیں ، ایک ادنیٰ لکھاری کے بس میں بھی نہیں اور الفاظ سے احاطہ ممکن بھی نہیں ۔
مجھے ان بیشمار سجدوں پر رونا آتا ہے ، جو زین العابدین نے مدینہ میں پینتیس سال ادا کئے ۔ جن کیلئے وضو کرتے جب بھی پانی چلی میں لیا ، کربلا آنکھوں میں گھوم جاتی ۔ امامؑ کا رنگ زرد پڑ جاتا اور آنکھیں بہنے لگتیں ۔ کون جانے امامؑ کی آنکھوں میں بابا کا کٹتا سر آجاتا تھا ، بھائی کے سینے میں ٹوٹا ہوا بھالا آجاتا تھا ، چچا کے کٹتے بازو آ جاتے تھے ، معصوم بھائی کے گلے میں پیوست تیر آ جاتا تھا یا بیبیوں کے ننگے سر نظر آتے تھے ۔ اس حالت میں ان گنت سجدے ، اللہ کی عظمت کیلئے ان گنت الفاظ ، اس دکھ کے عالم میں بھی ایک لفظ شکایت کا کبھی نہیں نکلا ۔ اللہ کی رضا کا یہ ادراک فرشتے بھی دیکھتے ہونگے ، ابلیس کو بھی سمجھ آتی ہوگی کہ اللہ نے آدمؑ  کے سامنے جھکنے حکم کیوں دیا تھا ۔
وہ ان سجدوں کو سجدہ تھا ۔
مٹی کے بیجان بت کو نہیں ۔ اللہ کی مشییت کبھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی ۔  جتنا فکر کرو اتنا سمجھ آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
7 اکتوبر 2018