Monday, 8 October 2018

عظیم سجدے

" عظیم سجدے "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدمؑ کے سامنے سجدے کا کیوں حکم دیا ؟ ابلیس کا انکار اور تکرار کہ میں اس بت کو کیوں سجدہ کروں ، جسے مٹی جیسے حقیر عنصر سے تخلیق کیا گیا ہے اور میری اس سے بہتر تخلیق ہے ۔ مگر وہ ایک محدود علم و فکر کا مالک کیا جانے کہ جسے وہ حقیر بت سمجھ رہا ہے ، اسکے تسلسل میں چند سجدے کرنے والے ہیں ، جو سجدوں کو معراج دیں گے ۔ عبدیت کی جو مثال اس تخلیق سے قائم ہوگی وہ دنیا کی کسی دوسری مخلوق کے بس میں نہیں ۔
" سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم " پڑھتے رہنا اور اس عظمت کا عملی اقرار دو مختلف منزلیں ہیں ۔
سجدے کی عظمت اگر نظر آتی ہے تو آل نبیؐ میں نظر آتی ہے ۔ جنہوں نے ہر حال میں اللہ کی پاکیزگی بیان کی اور اللہ کی عظمت کو ثابت کیا ۔
مستند ہے کہ جب رسولؐ سجدے میں ہوتے تو کبھی کبھی حسنؑ اور حسینؑ ، آپ کی کمر مبارک پر سوار ہو جاتے ۔ آپؐ سجدے کو طویل فرماتے تاوقتیکہ کہ معصومین کمر سے اتار نہ لئے جاتے یا خود نہ اترتے ۔ آپؐ نے کبھی نہیں ڈانٹا اور کبھی منع نہیں فرمایا ۔ کیوں ؟ یہ سوال شاید قیامت تک تشنہ ہی رہتا اگر حسنؑ خون تھوکتے ہوئے بھی سجدہ ریز نظر نہ آتے ۔ اگر حسینؑ کا سر کربلا میں سجدے کی حالت میں نہ کٹتا ۔ سجدے کا انہماک دیکھا جائے کہ قاتل کمر پر سوار ہے اور گردن کی پشت سے سر کاٹ رہا ہے ۔ گردن کے سامنے سے پہلے شہ رگ کٹتی ہے جبکہ گردن کی پشت سے ہڈی کٹے گی ۔ جسے کاٹنا مشکل بھی ہو گا اور کٹنے والا حوش و ہواس میں بھی رہے گا ۔ درد کو محسوس بھی کرے گا ۔ پھر ایک وار میں گردن نہیں کاٹی گئی ، تسلسل کے ساتھ ایک ایک ہڈی کاٹی جائے اور کند آلے سے کاٹی جا رہی ہو تو تکلیف کا عالم کیا ہو گا ۔ حسینؑ کا بیمثال سجدہ اور اللہ سے اس قدر قربت کہ ایک بار بھی جسم میں جنبش نہیں ہوئی ۔ سجدے کا تسلسل برقرار رکھا ۔ گویا اس فانی دنیا سے سجدہ شروع ہوا اور جاری تھا کہ عالم آخرت میں چلے گئے ۔ اس دنیا سے اس دنیا تک کا سجدہ ۔ 
مستند ہے کہ جب حسینؑ کے بابا علیؑ کے جسم میں کسی تیر یا بھالے کا حصہ رہ جاتا تو اسے آپؑ کے جسم سے حالت سجدہ میں نکالا جاتا ۔
کسی نے حسینؑ کی عظیم ماں سے سوال کیا ۔
" اے رسولؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ! کوئی ایسا ارمان جو پورا نہیں ہوا ؟ "
تو فرمایا
" ہاں ایک خواہش کبھی پوری نہیں ہوئی کہ کبھی کوئی رات اتنی طویل نہیں ملی کہ میرا ایک سجدہ مکمل ہو جاتا " 
کربلا سے شام تک اور شام سے مدینہ تک ، قید میں اور سفر میں ، بندھے ہاتھوں سے اور کھلے بالوں سے ، زمین پر سر لگا کر یا سر لگائے بغیر کتنے سجدے ہوئے ، کس کس نے کئے ، رب کی عظمت کو کیسے بلند کیا ، کیسے لکھے جائیں اور کیسے سمجھے جائیں ، ایک ادنیٰ لکھاری کے بس میں بھی نہیں اور الفاظ سے احاطہ ممکن بھی نہیں ۔
مجھے ان بیشمار سجدوں پر رونا آتا ہے ، جو زین العابدین نے مدینہ میں پینتیس سال ادا کئے ۔ جن کیلئے وضو کرتے جب بھی پانی چلی میں لیا ، کربلا آنکھوں میں گھوم جاتی ۔ امامؑ کا رنگ زرد پڑ جاتا اور آنکھیں بہنے لگتیں ۔ کون جانے امامؑ کی آنکھوں میں بابا کا کٹتا سر آجاتا تھا ، بھائی کے سینے میں ٹوٹا ہوا بھالا آجاتا تھا ، چچا کے کٹتے بازو آ جاتے تھے ، معصوم بھائی کے گلے میں پیوست تیر آ جاتا تھا یا بیبیوں کے ننگے سر نظر آتے تھے ۔ اس حالت میں ان گنت سجدے ، اللہ کی عظمت کیلئے ان گنت الفاظ ، اس دکھ کے عالم میں بھی ایک لفظ شکایت کا کبھی نہیں نکلا ۔ اللہ کی رضا کا یہ ادراک فرشتے بھی دیکھتے ہونگے ، ابلیس کو بھی سمجھ آتی ہوگی کہ اللہ نے آدمؑ  کے سامنے جھکنے حکم کیوں دیا تھا ۔
وہ ان سجدوں کو سجدہ تھا ۔
مٹی کے بیجان بت کو نہیں ۔ اللہ کی مشییت کبھی حکمت سے خالی نہیں ہوتی ۔  جتنا فکر کرو اتنا سمجھ آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
7 اکتوبر 2018

No comments:

Post a Comment