Wednesday, 10 October 2018

تاریخ کیوں چھپائی جاتی ہے؟

تاریخ کیوں چھپائی جاتی ہے ؟ "
علیؑ اور معاویہ میں کونسی ایسی قدر مشترک تھی ،  جس پر معاویہ  اور علی ، دونوں کو ایک معیار پر پرکھا جا سکتا ہے ۔ علیؑ کی تربیت رسولؐ اللہ کے زیر سایہ ہوئی ، علیؑ کو اعزاز حاصل رہا کہ رسولؐ کی رسالت کی پہلی گواہی دینے والوں میں شمار ہوئے ۔ اللہ کے رسولؐ کے سامنے جو بھی مشکل آئی ، خواہ وہ ہجرت والی رات کی سنگینی تھی ، بدر کا غزوہ تھا ، غزوہ احد کی مشکل تھی ، خندق کا امتحان تھا یا خیبر کا معرکہ ، علیؑ پوری استقامت کے ساتھ رسولؐ کے ساتھ کھڑے تھے ۔ تاریخ اس حقیقت کو کیسے چھپا سکتی ہے کہ جو اعتماد رسولؐ کو علیؑ پر تھا وہ کسی دوسرے پر کبھی نہیں ہوا ۔
خلافت کے ابتدائی دور میں ، تینوں خلفاء کو علیؑ کے کردار پر ، علیؑ  کی استقامت پر اور علیؑ کی وفا پر کبھی شک نہیں ہوا ۔ تاریخ میں واحد علیؑ تھے جنہوں نے دین کو اپنی ذات سے بلند سمجھا اور کوئی ایسا میدان نہیں جہاں دین کو ضرورت پڑی ہو تو علیؑ نے لبیک نہ کہا ہو ۔
اب ہم تاریخ کے ان اوراق کی طرف لوٹتے ہیں ، جو فتح مکہ سے متعلق ہیں  ۔ فتح مکہ اسلام کے استحکام کا نام ہے ۔ جب اسلام ایک فاتح دین  کی صورت میں غلبہ حاصل کرتا ہے ۔ فاتح کے سامنے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ،  ایک وہ جو شکست تسلیم نہیں کرتے اور جان دے دیتے ہیں ۔ دوسرے وہ جو مصلحت کے تحت فاتح کو حاکم مان لیتے ہیں ۔ معاویہ کے جد امجد اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے  جنہوں نے مصلحت کے تحت اسلام قبول کر لیا ۔ یہاں یہ سوال زیر بحث نہیں کہ ایمان لانے کے بعد ، کون کس درجہ پہ فائز ہو جاتا ہے اور کون اپنی غلطی کا دل سےاعتراف کرتا ہے یا کون مجبوری سے اسلام کے ساتھ جڑا رہتا ہے ۔ تاریخ کے وہ حقائق جن پر تمام مسالک متفق ہیں کہ خلیفہ ثالث کو علیؑ کے کردار پر نہ شک تھا اور نہ کبھی شبے کا اظہار کیا نہ ہی ایسا کوئی تاثر گردش کر رہا تھا ۔ یہاں تک تاریخ پر سب متفق ہیں ۔ جیسے ہی خلافت پر علیؑ کو فائز کیا گیا ، اور یہ عمل باقاعدہ مروج طریقے سے ہوا ، جبکہ علیؑ کو خلافت سے نہ کوئی رغبت تھی اور نہ اسکی کبھی آرزو رہی ۔ علیؑ کی خلافت پر معاویہ نے مسائل کھڑے کر دئیے ۔ تاریخی حوالہ جات کے مطابق معاویہ کی تاریخ پیدائش 603 عیسوی بتائی جاتی ہے ، فتح مکہ 630 عیسوی کو ہوا جب معاویہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے  اسوقت معاویہ کی کل عمر ستائیس سال کے لگ بھگ تھی ،  جبکہ معاویہ سے زیادہ عمر رسیدہ ، زیادہ با عمل اور نبیؐ کی قربت والے دوسرے بہت سے صحابہ موجود تھے ، جو تقویٰ ،  علم اور اسلام کی خدمات میں کہیں آگے تھے ۔ جبکہ معاویہ کا خاندان نہ صرف اسلام کا مخالف تھا  بلکہ مسلمانوں کے قتال و جدال میں بھی ہراول دستوں میں شامل تھا ۔  معاویہ اسلام قبول کر لینے کے ٹھیک نو سال بعد 639 سے 661 عیسوی تک شام کے گورنر کے منصب پر فائز کر دئیے گئے  ۔ اس دلیل کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ کی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے ان سے بہتر شاید کوئی دوسرا صحابہ میں سے یا صحابہ کی اولاد میں سے نہیں تھا ۔  مگر یہ بات تاریخ میں کیوں نہیں  بتائی جاتی کہ  معاویہ نے گورنر ہونے کے دوران ہی  خلیفہ وقت اور امیرالمومنین کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور اپنی متوازن  حیثیت از خود  کیوں قائم کرنا شروع  کردی ۔ کیا اصولی طور پر یہ درست اقدام تھا یا انتظامی لحاظ سے  اسلام کو سنگین زک پہنچانا مقصود تھا ۔  اس خود سری کا جنگ صفین کے بعد نتیجہ سامنے آگیا اور مسلمانوں کی دو ریاستیں اور دو امیر المومنین بن گئے ۔ یہ پہلی تقسیم تھی ، جس کا محرک معاویہ بن ابوسفیان تھا ۔  حضرت علیؑ کی شہادت کے بعد معاویہ نے پورا اقتدار  اپنی جھولی میں ڈال لیا اور  661  سے 680  تک بطور خلیفہ المومنین رہے ۔ یہ سب تاریخ کے غیر اختلافی حقائق ہیں ۔ اس صورت حال تک ، اگر کوئی مسلمان یہ رائے قائم کرتا ہے کہ یہ رویہ اقتدار کی ہوس کا آئینہ دار تھا اور وہ معاویہ پر ایمان لانے سے انکار کر دیتا ہے ، تو یقینی طور پر وہ کفر کا مرتکب نہیں ہوتا ۔ ان تاریخی حوالہ جات کو دبا کر رکھنا اور توجہ نہ جانے دینا ، کسی بھی طور حقائق شناسی نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment