" متحدہ مجلس عمل "
ایک بات تو دل کو لگتی ہے کہ چلو , کوئی تو وجہ ایسی ہے جس نے اسلام کی چھتری تلے جمہوریت کی آبیاری کرنے والوں کو اکٹھا کیا . قوم کو ایک خوبصورت موضوع دے دیا , خصوصی طور پر اسلام کے نظام سے وابستہ ذہن کچھ دن اچھے اچھے خواب دیکھ لیں گے . وہ سب لوگ جو عام حالات میں ایک دوسرے کو مسلمان ماننے کو تیار نہیں ہوتے . اور جن کے پاس ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے کی بے شمار دلیلیں بھی ہیں . اسی مسالک کی جنگ نے ایک دوسرے سے اتنا دور کر رکھا ہے کہ متحدہ ہو کر مجلس اور عمل کی ضرورت آن پڑی . کتنا اچھا ہوتا اگر یہی لوگ جمہوریت کی چھتری چھوڑ دیتے . چند سیٹوں کے حصول کا جہاد کرنے کی بجائے , صرف اسلامی نظام کی بات کریں . ریفرنڈم کی آواز اٹھائیں کہ چلو پوچھ لیتے ہیں , اکثریت اسلامی نظام کے ساتھ ہے یا جمہوریت کے ساتھ . اگر اتنی جرات نہیں تو کم از کم قوم کو جمہوریت کی اصلیت سے اگاہ کریں . اگر یہ بھی مشکل ہے تو جمہوریت کا بائیکاٹ کر دیں . اگر اتنی بھی جرات نہیں تو اللہ کے اس فیصلے کا انتظار کریں . جو اللہ نے دو رخ والے لوگوں کے بارے میں ہمیشہ کیا ہے .
الیکشن کیلئے اتحاد , کچھ عجیب سی روایت ہے . نظام اسلام کے نفاذ کیلئے اتحاد قابل تحسین ہے . مگر نظام
اسلام قطعی جمہوریت کی ضد ہے . اس پر سوچنا بھی لازم و ملزوم ہے .
ازاد ھاشمی
Friday, 10 November 2017
متحدہ مجلس عمل
بہت جی لیا ہے
" بہت جی لیا ہے "
زندگی کے جھمیلے , دنیا داری کی تگ و دو , حالات کے نشیب و فراز کی جنگ , زندگی میں ملنے والے انعامات اور اپنی کوتاہیوں پہ ملنے والے سبق . لگتا ہے زندگی یونہی بے سود گذر گئی . جو بھی کیا یہاں پر ہی کھیتی بوئی اور یہاں ہی چھوڑ دی . نہ ہاتھ میں کچھ اور نہ اعمال میں کچھ کہ جسے رخت سفر بنا سکوں . جہاں چند سانسوں کا ٹھہراو تھا . سب کچھ اسی کیلئے کرتا رہا . جہاں اصل ٹھکانا تھا وہاں کیلئے کچھ نہیں کیا . جب زندگی کی بیاض کھول کر بیٹھتا ہوں تو دامن خالی نظر آتا ہے . سمجھ ہی نہیں آیا کہ میری تخلیق , بحیثیت اشرف المخلوقات تھی اور میں نے اس اعزاز کیلئے کیا کیا . کیا جواب ہے میرے پاس اپنے رب کے سامنے . عمر شیطان کو راضی کرتے گذار دی , اپنے رحیم و کریم کے احکامات کی خبر ہی نہیں ہوئی . یوں لگتا ہے کہ بے مقصد زندگی تو بہت جی لیا ہے . اگر اور جی کے بھی یہی کچھ کرنا ہے تو زندگی کا کیا فائدہ .
جب عمرے کی سعادت نصیب ہوئی تو اللہ کے حضور تین دعائیں مانگی تھیں . ایک اولاد کے صالح اور کامیاب زندگی کی . دوسری اللہ اور اللہ کے حبیب کے حرمین کی بار بار حاضری کی . تیسری اللہ کے بندوں اور اللہ کے دین کی خدمت کی . اللہ نے پہلی قبول فرما لی . اپنے انعامات میری اولاد کو عطا فرما دئے . دوسری کا انتظار ہے کہ کب قبول ہو . تیسری کے وسائل اور حالات کی جنگ میں الجھتے الجھتے تھکن محسوس ہونے لگی ہے . کبھی کبھی شیطانی وسوسے مذاق اڑانے لگتے ہیں . کہ میری دعا اللہ تک پہنچی ہی نہیں . مگر کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کے گھر پر نظر پڑتے ہی مانگی گئی دعا اللہ کی پاک ذات نے نہ سنی ہو . شاید میرے عمل اس قابل نہیں کہ اسکے سامنے قبولیت مل جاتی . اللہ کریم ہے . وہ تو صالح دعائیں قبول فرماتا ہے . بے مقصد زندگی جتنی بھی طویل ہو جائے کیا فایدہ . با مقصد زندگی جینے کے تو لمحے بھی جنت سماں ہوتے ہیں .
اے اللہ ! اگر میری دعاوں میں اخلاص کی کمی ہے تو اپنی رحمت سے اخلاص عطا فرما . اگر میرے اعمال رکاوٹ ہیں تو میرے اعمال کی اصلاح فرما . تیری دی ہوئی زندگی تو بہت جی لیا . اب مقصد والی زندگی کی طلب کے سوا کچھ نہیں مانگتا ہوں . ہمت اور اسباب کی بھیک مانگتا ہوں صرف تیرے دین اور تیرے بندوں کیلئے کام کر سکوں . ایمان ہے کہ تیری پاک ذات نے کبھی مایوس نہیں کیا . جو ضرورت ہوئی تیری رحمت سے پوری ہوئی . اس آرزو کو بھی میری اخروی ضرورت ہی سمجھ کر پورا فرما دے .
ازاد ھاشمی
انسان خسارے میں
" انسان خسارے میں "
اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا
" بے شک انسان خسارے میں ہے "
اگر ایمان کی روشنی پر دنیا کی چکا چوند غالب ہو , تو اس حقیقت کو سمجھنا نا ممکن ہے . انسان جس ترقی پر پہنچ چکا ہے اور جس طرف جا رہا ہے , اس میں کوئی خسارہ نظر نہیں آتا . اور اگر ایمان کی روشنی نصیب ہو تو خسارے کا تجزیہ خود بخود ہو جاتا ہے .
آج جس برقیاتی دور سے ہم گذر رہے ہیں , جو کام مہینوں میں ہوتے تھے وہ چند گھنٹوں میں ہو جاتے ہیں . انگلی کی ہلکی سی جنبش سے جو معلومات درکار ہوں , وہ آپ کے سامنے سکرین پر آ جاتی ہے . یہ سب ترقی کے زاویے ہیں , جن پر ہم پیمائش کرتے ہیں .
مادیت کتنی بھی حاصل کر لی جائے - انجام کیا ہے .
اپنے اپنے عقیدے کے مطابق , مٹی میں دفن ہونا ہے , آگ میں جلایا جانا ہے یا چیل کووں کے سامنے ڈالا جانا ہے . ساری مادیت کا تعلق بس سانس کے چلنے تک ہے . جیسے ہی سانس رکی , ترقی اور مادیت سے بھری تجوریاں چھوڑنا پڑ جاتی ہیں . کتنا خسارہ ہے کہ جو کمایا اس پر حق ہی نہیں رہ جاتا . انگلی کے اشارے پر ملنے والی معلومات نے ہم سے سب کچھ چھین لیا . رشتے , تعلق , خلوص , غرضیکہ امن اور سکون پر بھی قابو نہیں رہا .
جو اصل متاع تھی , جس پر ہم اشرف المخلوقات تھے , جس پر اللہ نے ہمیں تخلیق کیا , جو ہماری روح کا ساتھی تھی . وہ اللہ کی یاد تھی . اللہ کی رضا تھی اللہ سے تعلق قائم رکھنے کی سعی تھی . سجدے تھے , رکوع تھے , تسبیحات تھیں , استغفار تھا , دعائیں اور التجائیں تھیں .
اب ان سب کا وقت سوشل میڈیا نے لے لیا . ایک انگلی کی جنبش پر آکر سب کچھ محو ہو گیا . کتنا بڑا خسارہ , کتنا بڑا نقصان .
یہ مادیت کا عروج ضرور ہے ، مگر اللہ سے تعلق کے زوال کا سبب بھی ۔ کبھی بیٹھ کے اللہ سے باتیں کرو ، جو سکون قلب ملے گا ، چاہے جتنی بھی ترقی ہو جائے اس سکون تک پہنچ نہیں پاتی ۔ حق سے دور ہو کر اگر آسمان کی وسعتیں ناپ بھی لی جائیں ، سمندر کی تہہ میں جھانک بھی لیا جائے ، کواکب و انجم کی گنتی بھی کر لی جائے ، تو انجام میں اللہ کی رضا سے محرومی ملے گی ۔ اسے خسارہ نہیں کہیں گے تو کیا سمجھیں گے ۔
ازاد ھاشمی
چھپن لاکھ پونڈ
" چھپن لاکھ پونڈ "
ایک غلط فہمی کا تسلسل ہے کہ ہم یہ سمجھے بیٹھے ہیں . جو بھی دولت میری ہے , اس پر مجھے اختیار ہے جہاں بھی چاہوں لے جاوں . اس تاثر نے ملک لوٹنے کی راہ کھول دی ہے . اس پر کبھی کسی سربراہ , عدالت , اسمبلیاں , سیکورٹی ادارے متحرک ہوئے , نہ کوئی قانون سازی ہوئی . اور ملک لٹتا رہا . سرمایہ کاری ملک سے باہر ہوتی رہی . ملکی ترقی کے نام پر بیرونی کمپنیوں سے" کک بیک" باہر کے بنکوں میں وصول ہوتے رہے . جس پر محل خریدے جاتے رہے . عوام کی کمر پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا رہا . ہمارے سرمائے سے ہمیں ہی قرض دیا جاتا رہا اور ہم اپنے سرمائے پر سود بھی ادا کرتے رہے . خبر ہے کہ جہانگیر ترین نے ابھی چھپن لاکھ پونڈ کی پراپرٹی اپنے ہونے والے پوتے پوتیوں کیلئے خریدی ہے . ووٹ سرائکی علاقوں سے , جہاں افلاس کی شرح زیادہ ہے . زندگی کی سہولیات برائے نام ہیں . وہاں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے پیسہ ملک سے باہر بھیج دیا . تمام وہ سرمایہ دار , سیاسی لیڈر اور چور چکار حکمران جو اس جرم میں شریک ہیں . وہ اپنی عاقبت اور اپنی نسلوں کی فلاح کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے بلکہ وطن کی مٹی سے غداری کے مرتکب ہیں .
میں تو ان فوجی افسران کو بھی محب وطن نہیں سمجھتا جو جب تک بدن پہ وردی تھی پاکستان میں تھے , جب وردی اتارنا پڑی یورپ جا کر بیٹھ گئے . لٹتے وطن کی حفاظت تا زندگی فرض تھی . اسی کا حلف اٹھایا تھا . سیاسی لوگ تو موقع پرست ہی ہوا کرتے ہیں . ہوا کا رخ دیکھ کر منزل کا تعین کرتے ہیں . مگر جرات مند اور حق کا جھنڈا اٹھانے والوں کو تو طوفان سے جنگ جاری رکھنا پڑتی ہے .
مان لیا قوم احمق ہے . جو کہتے ہو مان لیتی ہے . بھوکے پیٹ نعرے لگانے سڑکوں پہ آ جاتی ہے . آپ لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی انکے خلوص سے کھیلتے ہوئے , کیوں نہیں سوچتے ہو کہ ان پر خلوص لوگوں سے دہوکہ کر رہے ہو . کیا تم سب مکاروں کو یقین ہے کہ ملک محفوظ نہیں . اسلئے اپنی پناہ گاہیں بنا رہے ہو . اگر ایسا ہے تو قوم کو اگاہ کرو . کوئی تو احمق اٹھے گا اور قوم کیلئے سر پر کفن باندھ لے گا .
شرم کرو یہ پیسہ تمہارے باپ کا نہیں وطن کا ہے . اس پر وطن کے لوگوں کا حق ہے .
ازاد ھاشمی
ہیجڑا پن
" ہیجڑا پن "
سوشل میڈیا پر ایک مظلوم بچی , بے بسی کے عالم میں الف ننگی کھڑی ہے . کسی جابر نے اسے کیوں اسقدر رسوا کیا . اس معصوم کا کیا گناہ تھا . یہ کہانی ایک طرف , اصل شرمناک رویہ اس معاشرے کی بے حسی کا ہے , جو سرعام برہنہ بچی کے اردگرد دائرہ بنائے کھڑے ہیں .
کیا ان سب تماش بینوں میں کوئی ایک ایسا نہیں تھا . جس کی اپنی بہن , بیٹی یا ماں ہو . کوئی ایک ایسا نہیں تھا جس نے ماں کی آغوش میں غیرت والا دودھ پیا ہو . کوئی بھی ایک ثابت کرنے کیلئے آگے نہیں بڑھا کہ وہ نطفہ حلال سے ہے .
اس شہر اور قصبے میں کوئی ایک زندہ شخص باقی نہیں کہ ان ظالموں کے سامنے کھڑا ہو جاتا . اگر سب ہیجڑا پن کے مریض ہیں تو کم از کم کوئی بے چاری پر اپنی چادر ہی ڈال دیتا . اس علاقے میں پولیس بھی ہو گی . کسی سیاستدان کا تو علاقہ ہو گا . کوئی تو مسجد ہو گی . کوئی تو نماز پڑھتا ہو گا . کیا سب کے سب بے حس ہیں . کیا کسی کو اللہ پر توکل نہیں . کیا کوئی ایک بھی نہیں جانتا کہ ہر فرعون کا انجام غرق ہونا ہوتا ہے .
صرف علاقے کا جابر فرعون اکیلا مجرم نہیں . سب تماشائی مجرم ہیں . باور کر لیں کہ کسی عبادت قبول نہیں , اللہ ظالموں کی گریہ زاری نہیں سنتا . سب کا انجام آگ ہے , آج یا کل . سب ہیجڑوں کیطرح بے نسل ہونگے . لکھ لو . توبہ کی قبولیت ظالموں کو نہیں ملا کرتی .
الف ننگی تم سب کی بہن تھی , تمہاری بیٹیوں سماں تھی بد نصیب .
ظالم کا ہاتھ روکا نہ جائے تو ایک روز ہر عزت تار تار کر دیتا ہے .
ازاد ھاشمی
بلوچ , پٹھان اور مطالعہ پاکستان
" بلوچ , پٹھان اور مطالعہ پاکستان "
پاکستان کی درسی کتب میں بلوچ اور پٹھان کی جو شناخت لکھی گئی ہے . اس سازش کیلئے مذمت کے الفاظ کافی نہیں . لکھنے والا , اسے منظوری دینے والے اور اسے چھاپنے والا , سب کے سب قوم کے مجرم ہیں . نفاق کی اس گھناونی سازش کو بد ترین انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے . اگر لکھنے والا پنجابی ہے , مہاجر ہے یا سندھی تو وہ اپنی قوم سے غداری کا ارتکاب کر رہا ہے . پٹھان اور بلوچ بہادر قومیں ہیں , میری پختہ رائے ہے کہ پاکستان کی سلامتی میں ان دونوں قوموں کا قابل قدر حصہ ہے . بہادر شخص کبھی مکاری نہیں کرتا اور غداری کو اپنی ہتک سمجھتا ہے . بلوچ قوم نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ انکا اعزاز ہے . جس طرح انکے حقوق پامال کئے جاتے رہے , اگر کسی دوسری قوم کے کئے جاتے تو کب کی دھما چوکڑی ہو چکی ہوتی . ساری محرومیوں کے باوجود قوم سے پر خلوص رہنا , بلوچوں کی شان ہے . سرداروں کے مطیع ہونے کے باوجود قومی مفادات سے جڑے ہوئے ان لوگوں کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے . اسے گدی سے کھینچ لینے کی ضرورت ہے . پٹھان اگر مخلص نہ ہوتے , عقل سے پیدل ہوتے تو افغانستان کی گود میں بیٹھے ہوتے . ساری قربانیوں کو جمع کر لیا جائے تو پٹھانوں نے زیادہ قربانیاں دیں . قوم کو ان دونوں بہادر قوموں کا ممنون ہونا چاہئے , نہ کہ ان کی تضحیک کے پہلو تلاش کئے جائیں . اور بچوں کے نصاب میں انکی کردار کشی کی جائے . تعلیم میں اگر یہ رحجان پیدا ہو گیا تو یہ نفاق کا ایسا ناسور ہو گا , جسکا علاج ممکن نہیں ہو گا . اس سازش کے مرتکب لوگوں کو عبرت کا نشان بنایا جانا چاہئے .
ازاد ھاشمی
تربیت کا فقدان
" تربیت کا فقدان "
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں , جس ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں , جن درس گاہوں سے دانش ملتی ہے . یہ سب کچھ شخصیت سازی کرتا ہے . یہ بنیاد اگر کمزور ہو یا ٹیڑھی میڑھی ہو تو لاکھ جتن کر لیں . عمارت کبھی درست تکمیل تک نہیں پہنچے گی . یہی وہ خامی ہے جس نے ہماری قومی سوچ کو مفلوج کر دیا ہے . اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ کیا درست ہے اور کیا غلط . سیاسی لوگ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ہر جتن کو اپنا حق سمجھتے ہیں . جلاو گھیراو , دھرنے , لانگ مارچ اور عوامی معمول زندگی کو درہم برہم کرنا بھی جائز اور عین قومی خدمت سمجھ لینا , عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے . جو اقتدار پر بیٹھ جاتے ہیں وہ ملکی وسائل کو باپ کی جاگیر سمجھ لیتے ہیں . چند ہزار لوگوں کے جلوس اور جلسے طاقت کا مظہر مانے جاتے ہیں . اب یہ سب معمول زندگی ہے , اصولہائے سیاست ہے .
جماعت پہ جماعت بنا دینا , مسالک کی دیواریں کھڑی کر دینا , خاندان اور برادری کو ایشو بنا لینا . سب تفریق ہے . اور تفریق میں بٹے ہوئے لوگ کبھی مقاصد تک نہیں پہنچ پاتے . اگر یہ سوچ لیا جائے کہ جس اللہ کو میں مانتا ہوں , جس قران کو سمجھنا مجھ پر فرض ہے , جس ہادئ برحق کا اسوہ میری رہبری کرتا ہے . کیوں نہ سب مل کر ایک ہو جائیں . کیوں نہ سب طاغوت کے خلاف اکٹھے ہو کر جدوجہد کریں . برائی کو برائی سمجھ کر متحدہ جدوجہد کیوں نہ کی جائے . یہ ٹولیوں میں بٹنے کی کیا ضرورت ہے . اگر یہ تربیت ہو تو کیا مقصد کا حصول مشکل ہو گا . کبھی نہیں . رستے روک دینا , معمولات زندگی کو درہم برہم کر دینا . کونسی دانش ہے . کونسا مذہب ہے , کونسی روایت ہے اور کونسی تدبیر ہے .
ہمارے سامنے , اس یتیم کی زندگی نمونہ ہے . جو ہر دنیاوی ضرورت سے محرومی میں تھا . جس کا ہر کوئی دشمن تھا . جس کے سامنے صدیوں کی مبہم روایات کی دیواریں تھیں . کفر , شرک , الحاد , ہٹ دھرمی , انا , بے حیائی , گناہ کی رغبت سے لتھڑے ہوئے لوگ . سب برا ہی برا تھا . اچھائی خام خیالی بن چکی تھی . مٹھی بھر ساتھیوں سے انقلاب لے آنا . یہ تھی رہنمائی . جو نہ ہمیں ماں باپ نے سکھائی , نہ استاد نے اور نہ معاشرہ سے ملی . اسکی ضرورت ہے . انقلاب خود بخود آجائیگا .
ازاد ھاشمی
Tuesday, 7 November 2017
با خصلت بیوی
پارک میں بہت سارے لوگ بچوں کے ساتھ جھولوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے - ایسے موقعے یاد داشت میں کبھی محفوظ نہیں ہوتے -
آج ایک فیملی پر ہر کسی کی نظر جمی ہوئی تھی - شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اس فیملی کو دیکھ کر کوئی نہ کوئی کمنٹس نہ دے رہا ہو -
الله کی بنائی ہوئی ہر صورت ایک شاہکار ہے - مگر کچھ صورتوں پر نظر رک جاتی ہے - اور کچھ لمحوں کے لئے آنکھ پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہے - آج ایسا ہی سماں پارک میں بھی تھا - سادگی , حسن و جمال , پوری خوبیوں سے نوازا ہوا متحرک بت , ہلکی ہلکی سی مسکراہٹ , شاید الفاظ میں ادائیگی کا حق پورا نہ ہو - اس خوبرو عورت کے ساتھ اسکا رفیق سفر اور دو بچے بھی تھے - بچے بھی نہایت خوبرو تھے مگر مرد بالکل تضاد تھا - سیاہ کالا رنگ نہایت عجیب سے خد و خال - پتہ نہیں اسے کیا سوجھی , اپنے اہل خانہ سے الگ جا کے بیٹھ گیا - میں سرکتے سرکتے اس کے پاس جا بیٹھا - اس نے بہت خوش مزاجی سے مجھے مخاطب کیا -
" بھائی صاحب - آپ کو کوئی جنتی عورت دیکھنی ہے "
" جی , میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا " میں شرمندگی محسوس کرنے لگا - شاید اسے میرا قریب بیٹھنا اچھا نہیں لگا -
" وہ دیکھ رہے ہو , میری بیوی نے ہر طرح سے پردہ کر رکھا ہے - مگر پھر بھی ہر نظر اسے گھور رہی ہے - ہمارے معاشرے کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے - وہ الله کی بندی کسی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی "
" آپ دیکھیں کہ میں کتنا بد صورت ہوں اور وہ الله کی تخلیق کا نمونہ - ہمارے سفر کے آج بیس سال پورے ہوۓ ہیں - اس بیس سال میں مجھے ایک لمحہ یاد نہیں کہ اسے میری شکل بری لگی ہو - آخر کبھی تو دل میں آتا ہو گا کہ کاش میرا ساتھی بھی خوبصورت ہو - مجھے نہیں یاد کہ کبھی مجھے پانی کی طلب ہوئی ہو اور مجھے مانگنا پڑا ہو - کبھی کبھی تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ اسے کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ مجھے پاس لگی ہے - ہماری شادی بھی اچانک ہوئی - اسکے والد نابینا تھے سرک کراس کرتے انکا ایکسیڈنٹ ہو گیا , میں ایک فیکٹری میں ڈرائیور ہوں , میں انہیں ہسپتال لے کے گیا , انکی حالت بہت خراب تھی , انہوں نے مجھ سے مرتے وقت اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامنے کو کہا , ہم دونوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا - میں نے جب دیکھا تو انکار کر دیا , مجھے میرا ضمیر روک رہا تھا - کہاں میں اور کہاں یہ - میری نظر میں انکے باپ کا یہ اندھا فیصلہ تھا - یہ دیوی میرے انکار کا سبب پوچھ رہی تھی - میں نے وجہ بتائی تو روتے ہوۓ بولی - خوبصورتی سیرت میں ہوتی ہے صورت میں نہیں "
" آج بیس سال گزر گئے "
" الله کا شکر ادا نہیں کر سکتا , پتہ نہیں میری کونسی نیکی تھی , جس کا یہ صلہ ملا ہے "
" مگر جب کبھی ہم لوگ اکٹھے کہیں نکلتے ہیں , لوگ طرح طرح کے آوازے کستے ہیں - اس وقت میں عجیب سی کیفیت سے دو چار ہو جاتا ہوں "
" نیک لوگوں کو حوریں ملیں گی الله نے مجھے اسی دنیا میں نواز دیا "
" ہر وقت ڈرا رہتا ہوں کہیں اسے میری ذات سے کوئی دکھ پہنچ گیا تو الله کو کیا چہرہ دکھاؤں گا "
وہ خوش بھی تھا اور نہ کردہ جرم پر پشیمان بھی -
(آزاد ہاشمی )
Sunday, 5 November 2017
نبوت کی معراج
" نبوت کی معراج "
جن احباب کو زیارت روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم نصیب ہوئی ہو گی . وہ جانتے ہونگے کہ آج مسجد نبوی کا احاطہ کتنا یے . شاید بہت دوستوں کو علم بھی ہو گا کہ یہی وہ کل زمین تھی , جس پر مدینہ النبی قائم تھا . جنت البقیع مدینہ کی حدود سے باہر تھی . چھوٹی سی جگہ میں مسجد بھی تھی اور رسول اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک بھی . کھجور کے پتوں سے ڈھکی ہوئی مختصر سی چاردیواری . یہ وہ جگہ تھی جس میں اسلام کی درس گاہ بھی تھی , عدالت بھی , دفاعی منصوبہ بندی کیلئے قلعہ بھی , ہر ضرورت مند کیلئے خزانہ بھی . گویا اسلام کے نظام کا سارا حدود اربعہ اتنا سا تھا . اس سارے نظام کو چلانے والا دو وقت پیٹ بھرنے کے وسائل سے بھی محروم . عرب کے سرکش سردار , قبائل کے کرتا دھرتا سب مخالف . کون یقین کرتا کہ یہ مختصر سی بستی ایک روز قیصر و کسری کی شکست کا باعث بنے گی . الحاد , شرک , یہودیت , مجوسیت , آتش پرست اور عرب کے ضدی سرداروں سے مخاصمت کیلئے ننھی سی فوج , جس کے پاس نہ تیغ و تفنگ , نہ اونٹ نہ گھوڑے , نہ تربیت کا انتظام . ایسی فوج جس کا سالار تین تین روز نان جویں تک حلق سے اتارنے کے وسائل نہ رکھتا ہو . ایک روز پوری دنیا میں کروڑوں لوگوں کا سالار بن جائے گا . جس کے ایک اشارے پر کروڑوں سر کٹنے کو تیار ہو جائیں گے .
یہ سب شان , سب مقام اور سب اسباب پر اختیار , سوائے اللہ کے پیارے حبیب کے کسی کو حاصل نہیں . نہ کسی رسول کو , نہ کسی نبی کو .
تعجب ہوتا ہے جب کوئی نا ہنجار یہ کہہ دیتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم ہمارے جیسے بشر ہیں . بشریت کی ایک حد ہے , مگر آپ کی حد عالمین کی وسعت سے بھی آگے . اللہ جن عالمین کا رب ہے , آپ انہی عالمین کے لئے رحمت ہیں . پھر دنیا میں کیا , پوری کائنات میں آپ کا تقابل کیسے ممکن . آپ وہ ہستی جس کی خاطر تخلیق آدم ہوئی . اللہ کا اعلان " کہ اے حبیب ! میں افلاک میں کچھ بھی تخلیق نہ کرتا , اگر تجھے پیدا نہ کرتا "
اللہ کی محبت کا یہ عالم کہ فرمایا
" اے حبیب ساری ساری رات عبادت کیلئے مت جاگا کر , بس رات کے پچھلے پہر عبادت کر لیا کر . اور رات کو استراحت کیا کر "
آج کوئی ایسا لمحہ نہیں , جب پوری دنیا سے آپ صل اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجا جاتا ہو . حکم ربی ہے کہ
" اللہ اور فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہیں , تم سب بھی میرے حبیب پر درود بھیجا کرو "
وہ کون قلمکار ہے جو اس ہستی کی شان پر لکھنے کا حق ادا کر سکے . کون دانشور ہے جو آپ کی شان کا ادراک کر سکے .
ازاد ہاشمی