Friday, 10 November 2017

چھپن لاکھ پونڈ

" چھپن لاکھ پونڈ  "
ایک غلط فہمی کا تسلسل ہے کہ ہم یہ سمجھے بیٹھے ہیں . جو بھی دولت میری ہے , اس پر مجھے اختیار ہے جہاں بھی چاہوں لے جاوں . اس تاثر نے ملک لوٹنے کی راہ کھول دی ہے . اس پر کبھی کسی سربراہ , عدالت , اسمبلیاں , سیکورٹی ادارے متحرک ہوئے , نہ کوئی قانون سازی ہوئی . اور ملک لٹتا رہا . سرمایہ کاری ملک سے باہر ہوتی رہی . ملکی ترقی کے نام پر بیرونی کمپنیوں سے" کک بیک" باہر کے بنکوں میں وصول ہوتے رہے . جس پر محل خریدے جاتے رہے . عوام کی کمر پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھتا رہا . ہمارے سرمائے سے ہمیں ہی قرض دیا جاتا رہا اور ہم اپنے سرمائے پر سود بھی ادا کرتے رہے . خبر ہے کہ جہانگیر ترین نے ابھی چھپن لاکھ پونڈ کی پراپرٹی اپنے ہونے والے پوتے پوتیوں کیلئے خریدی ہے . ووٹ سرائکی علاقوں سے , جہاں افلاس کی شرح زیادہ ہے . زندگی کی سہولیات برائے نام ہیں . وہاں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے  پیسہ ملک سے باہر بھیج دیا . تمام وہ سرمایہ دار , سیاسی لیڈر اور چور چکار حکمران جو اس جرم میں شریک ہیں . وہ اپنی عاقبت اور اپنی نسلوں کی فلاح کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے بلکہ وطن کی مٹی سے غداری کے مرتکب ہیں .
میں تو ان فوجی افسران کو بھی محب وطن نہیں سمجھتا جو جب تک بدن پہ وردی تھی پاکستان میں تھے , جب وردی اتارنا پڑی یورپ جا کر بیٹھ گئے . لٹتے وطن کی حفاظت تا زندگی فرض تھی . اسی کا حلف اٹھایا تھا . سیاسی لوگ تو موقع پرست ہی ہوا کرتے ہیں . ہوا کا رخ دیکھ کر منزل کا تعین کرتے ہیں . مگر جرات مند اور حق کا جھنڈا اٹھانے والوں کو تو طوفان سے جنگ جاری رکھنا پڑتی ہے .
مان لیا قوم احمق ہے . جو کہتے ہو مان لیتی ہے . بھوکے پیٹ نعرے لگانے سڑکوں پہ آ جاتی ہے . آپ لوگوں کو شرم کیوں نہیں آتی انکے خلوص سے کھیلتے ہوئے  , کیوں نہیں سوچتے ہو کہ ان پر خلوص لوگوں سے دہوکہ کر رہے ہو . کیا تم سب مکاروں کو یقین ہے کہ ملک محفوظ نہیں . اسلئے اپنی پناہ گاہیں بنا رہے ہو . اگر ایسا ہے تو قوم کو اگاہ کرو . کوئی تو احمق اٹھے گا اور قوم کیلئے سر پر کفن باندھ لے گا .
شرم کرو یہ پیسہ تمہارے باپ کا نہیں وطن کا ہے . اس پر وطن کے لوگوں کا حق ہے . 
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment