" تربیت کا فقدان "
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں , جس ماحول میں پلتے بڑھتے ہیں , جن درس گاہوں سے دانش ملتی ہے . یہ سب کچھ شخصیت سازی کرتا ہے . یہ بنیاد اگر کمزور ہو یا ٹیڑھی میڑھی ہو تو لاکھ جتن کر لیں . عمارت کبھی درست تکمیل تک نہیں پہنچے گی . یہی وہ خامی ہے جس نے ہماری قومی سوچ کو مفلوج کر دیا ہے . اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ کیا درست ہے اور کیا غلط . سیاسی لوگ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے ہر جتن کو اپنا حق سمجھتے ہیں . جلاو گھیراو , دھرنے , لانگ مارچ اور عوامی معمول زندگی کو درہم برہم کرنا بھی جائز اور عین قومی خدمت سمجھ لینا , عام سی بات ہو کر رہ گئی ہے . جو اقتدار پر بیٹھ جاتے ہیں وہ ملکی وسائل کو باپ کی جاگیر سمجھ لیتے ہیں . چند ہزار لوگوں کے جلوس اور جلسے طاقت کا مظہر مانے جاتے ہیں . اب یہ سب معمول زندگی ہے , اصولہائے سیاست ہے .
جماعت پہ جماعت بنا دینا , مسالک کی دیواریں کھڑی کر دینا , خاندان اور برادری کو ایشو بنا لینا . سب تفریق ہے . اور تفریق میں بٹے ہوئے لوگ کبھی مقاصد تک نہیں پہنچ پاتے . اگر یہ سوچ لیا جائے کہ جس اللہ کو میں مانتا ہوں , جس قران کو سمجھنا مجھ پر فرض ہے , جس ہادئ برحق کا اسوہ میری رہبری کرتا ہے . کیوں نہ سب مل کر ایک ہو جائیں . کیوں نہ سب طاغوت کے خلاف اکٹھے ہو کر جدوجہد کریں . برائی کو برائی سمجھ کر متحدہ جدوجہد کیوں نہ کی جائے . یہ ٹولیوں میں بٹنے کی کیا ضرورت ہے . اگر یہ تربیت ہو تو کیا مقصد کا حصول مشکل ہو گا . کبھی نہیں . رستے روک دینا , معمولات زندگی کو درہم برہم کر دینا . کونسی دانش ہے . کونسا مذہب ہے , کونسی روایت ہے اور کونسی تدبیر ہے .
ہمارے سامنے , اس یتیم کی زندگی نمونہ ہے . جو ہر دنیاوی ضرورت سے محرومی میں تھا . جس کا ہر کوئی دشمن تھا . جس کے سامنے صدیوں کی مبہم روایات کی دیواریں تھیں . کفر , شرک , الحاد , ہٹ دھرمی , انا , بے حیائی , گناہ کی رغبت سے لتھڑے ہوئے لوگ . سب برا ہی برا تھا . اچھائی خام خیالی بن چکی تھی . مٹھی بھر ساتھیوں سے انقلاب لے آنا . یہ تھی رہنمائی . جو نہ ہمیں ماں باپ نے سکھائی , نہ استاد نے اور نہ معاشرہ سے ملی . اسکی ضرورت ہے . انقلاب خود بخود آجائیگا .
ازاد ھاشمی
Friday, 10 November 2017
تربیت کا فقدان
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment