" خیرات یا فریب "
وہ بڑے کروفر سے جنرل وارڈ میں داخل ہوا , ہر مریض کے پاس جاتا , حال احوال دریافت کرتا اور ایک تھیلا , ایک لفافہ مریض کو دیتا . ہر مریض پر ایک تصویر بنتی رہی . چاپلوسی کے مریض اسکے ارد گرد , دم ہلا رہے تھے . وہ ایک جاگیر دار ہی نہیں ایک بڑا سیاستدان , ایک گدی نشین بھی تھا . مریدین کا لشکر اسکی پشت پر تھا , بڑے بڑے پولیس افسران , حکمران کارندے اسکی ایک نظر التفات کے منتظر رہتے تھے . وہ بڑھتے بڑھتے , ایک عمر رسیدہ مریض کیطرف بڑھا . سلام کہا , حال پوچھا . مگر مریض نے نہ سلام کا جواب دیا , نہ حال پر کچھ کہا . لفافہ اسکے آگے پھینکتے ہوئے بولا .
" اللہ کریم ہے , بیماری دی ہے تو شفا بھی دے گا . اس خیرات سے , یہ مت سمجھ لینا کہ اللہ نے گناہ معاف کر دئے . اپنی طاقت سے غریبوں کو دکھ دینا چھوڑ دو . دو گز زمین سے زیادہ کچھ حصے میں نہیں آئے گا . مجھے پہچانتا تو ہو گا . میں تیری جاگیر کا ہی ایک باسی ہوں . تیرے سگے چچا کا بیٹا . جسے کئی سال پہلے تو نے مروا دیا تھا . صرف اسلئے کہ اسکی زمین ہڑپ کر لے . ہم در بدر ہو گئے . اور تو بڑا رئیس بن گیا . یہ تیرے پیچھے کھڑا تیرا کتا , جس نے میرے باپ کو گولی ماری تھی , مجھے پہچان رہا ہے . یہ تیری خیرات , ایک فریب ہے . لوگ تو اندھے ہیں , کچھ نہیں دیکھتے , مگر اللہ نہ اندھا ہے , نہ بہرا "
وہ مریض کی باتیں بڑے انہماک سے سن رہا تھا . کچھ بولے بغیر , سپاٹ چہرے سے . کسی تاثر کے بغیر .
اس نے ڈاکٹر کیطرف دیکھا , ڈاکٹر آگے بڑھا اور اسکے بازو میں ٹیکہ ٹھوک دیا . چند لمحوں میں مریض غنودگی میں تھا .اور سخی خیرات بانٹ رہا تھا .
" ڈاکٹر ! یہ مریض ہمارا مہمان ہے . آزردہ ہے , کسی کے ظلم کا شکار ہے . اسکا پورا خیال رکھنا . اسے لمبے آرام کی ضرورت ہے . ہم آپ کی خدمت کر دیں گے "
اس نے ہسپتال سے نکلتے ہوئے , ہدایت جاری کی .
اگلے دن اس بد نصیب کو دل کا دورہ پڑا . اور سرھانے رونے والے دو معصوم بچوں , ایک نحیف سی عورت کے علاوہ کوئی نہیں تھا
ازاد ھاشمی .
Thursday, 22 June 2017
خیرات یا فریب
Wednesday, 21 June 2017
صدقہ
40 طرح کا صدقہ...
1. دوسرے کو نقصان پہونچانے سے بچنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
3. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
6. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
7. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]
8. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]
10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]
17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]
18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
19. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]
20. اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2589]
21. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]
23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]
27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]
28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]
31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]
32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]
33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]
34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]
35. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]
36. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]
37. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]
38. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]
39. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]
40. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
Monday, 19 June 2017
قرانی معلومات
قرآن پاک کی دلچسپ معلومات
سپارے....................30
سجدے...................14
منزل........................7
سورتیں..................114
سورتیں مکی........86
سورتیں مدنی......28
رکوع ..............540
آیات.....................6666
حروف.................323760
زبر.......................53243
زیر......................53243
پیش...................8804
مد.......................1771
شد......................1243
نقطے..................105681 ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞
الف 48872
ب 11228
ت 1199
ث 1276
ج 3273
ح 973
خ 2416
د 5642
ذ 4697
ر 11793
ز 1590
س 5891
ش 2253
ص 2013
ض 1607
ط 1274
ظ 842
ع 92200
غ 2208
ف 8499
ق 6813
ک 9522
ل 3432
م 26535
ن 26560
و 2556
ھ 1907
لا 3720
ء 4115
ی 25919
Sunday, 18 June 2017
انقلاب کربلا
ایک انقلاب دنیا کے نقشے پر ایسا بھی آیا جس نے قیامت تک جبر اور ظلم , جہالت اور گمراہی کی راہیں مسدود کر دیں - یہ انقلاب تھا اسلام کا انقلاب -
مگر سازش اور شیطنت اپنے وار کرنے پہ زیادہ متحرک ہو گئی - اسلام کا لبادہ اوڑھے شیطان اپنی جنگ جاری رکھے ہوۓ تھا -
اس انقلاب کے ثمرات کو بچانے کے لئے ایک اور انقلاب کی ضرورت تھی -
یہ انوکھا انقلاب کربلا کی تپتی ریت پر وارد ہونے والا تھا -
ایسا انقلاب جو تاریخ کی آنکھوں نے نہ پہلے کبھی دیکھا اور نہ قیامت تک کبھی دیکھے گی - یہ انقلاب لانے والے چند بے سر و سامان مختصر سا قافلہ , جس میں چند پردہ دار بیبیاں , چند معصوم بچے , چند نوجوان اور چند بوڑھے الله کی رضا پر الله کے دین کے استحکام کے لئے نکلے -
ایک طرف اسلام کے لبادے میں لپٹی ہوئی شیطنت , اپنی طاقت کے بل بوتے پر اترائی بیٹھی ہے اور دوسری طرف شجاعت بے سرو سامانی کا فکر کیے بغیر انقلاب لانے کا مصمم ارادہ لئے کھڑے ہیں - ایسا انقلاب کہ یزیدیت پھر کبھی پنپ نہ پاۓ - ایک طرف تیز دھار تلواروں کے ساتھ لشکر کثیر ہے - تیر ہیں بھالے ہیں - دوسری طرف سر ہیں ردائیں ہیں -
وہ انقلاب , جس کی نظیر کبھی نہیں ملے گی -
پھر یہ انقلاب آیا اور آج سینکڑوں سال کے بعد بھی پھر کبھی یزیدیت نہیں اٹھ پائی -
حبیب خدا کے نواسے نے اپنے گلشن کا ہر پھول اس انقلاب کی نذر کر دیا -
اپنے جگر کے ٹکڑے دے کر دین کی حرمت بچانے کی یہ مثال صرف اسی انقلاب کی شان ہے -
اپنی ردائیں دے کر امت مسلمہ کا پردہ بچانے کی مثال صرف اسی انقلاب میں نظر آیا -
سجدے میں سر کٹا کے سجدے کو دوام اسی انقلاب کا طرہ امتیاز ہے -
جب بھی کوئی یزید ظلم کے لئے بڑھتا ہے , حسینیت رستہ روک لیتی ہے -
یہ ہے انقلاب جس نے شہادت کو عروج دیا -
(آزاد ہاشمی )
میری قوم کے حاتم طائ لیڈر
فوٹو گرافروں کو اپنے کاروان میں لئے چند بوریاں آٹا , چند گھی کے ڈبے , چند کمبل اور چند دوائیاں لے کر جاۓ وقوعہ پر پہنچ جاتے ہیں -
خدمت خلق کے جذبہ کو تاریخ کا باب بنانے کے لئے تصویریں لی جاتی ہیں تا کہ خدمت مستند ہو سکے -
اسکے بعد کوئی نہیں پوچھتا کہ یہ ایک ڈبہ گھی اور ایک تھیلا اٹے کا کتنے دن چلا -
کچھ درد دل رکھنے والے حکمران , وزیر , مشیر اور سول سرونٹ بھی قومی خزانے میں سے رقم لیتے ہیں - کچھ بانٹ دیتے ہیں اور کچھ اپنے گھر کے مستحقین کے لئے رکھ لیتے ہیں -
ان حاتم طائ کے وارثوں کو سڑکوں پہ بھیک مانگتے بچے , ہسپتالوں میں دوائیوں کے بغیر ایڑھیاں رگڑتے ہوۓ مریض , اینٹوں کے بھٹوں پر یرغمال خاندان اور وسائل محروم وہ بچے کبھی دکھائی نہیں دیتے جو تعلیم کے حق سے محروم ہیں -
کیا کروڑوں روپے سے الیکشن لڑنے والے لیڈر اندھے ہیں کہ وہ کونسی خدمت کرنا چاہتے ہیں - کیا یہ الیکشن پہ برباد کی جانے والی رقم ان مفلوق الحال لوگوں کا حق نہیں - کیا یہ قومی خدمت نہیں - کیا یہ کار خیر نہیں?
اے الله ! یہ جن کو دولت بخشی ہے , ان کو انسانیت بھی سکھا دے -
آمین
(آزاد ہاشمی )
اے الله ! مجھے معاف کرنا
ایسا ایمان دیدے جیسا تیرے پسندیدہ لوگوں کو ملا ہے -
اے قادر مطلق ایسے رزق سے بچا جو کسی کی حق تلفی سے ملے - ایسے لوگوں کی صحبت سے بچا جو گمراہی کے راستے پہ چل رہے ہوں -
وہ علم عطا فرما جو تیرے پیاروں کی وراثت ہے -
زبان میں وہ طاقت فرما کہ باطل کے سامنے حق بات کہہ سکوں -
ایسی جرات عطا فرما کہ کفر کے غلبے سے ٹکرا سکوں -
مال و اسباب کی فراوانی ملے تو تیرے راہ میں خرچ کرنے کا جنوں بھی عطا کر -
اے الله ! میری ان دعاؤں کو قبولیت بخش جو تیری رضا کے مطابق ہیں -
میں تیری دی ہوئی نعمتوں کو اپنی کوششوں کا ثمر سمجھنے لگتا ہوں - اپنی سوچ کو تیرا انعام سمجھنے کی بجاۓ اپنی قابلیت خیال کرنے لگتا ہوں - بھول جاتا ہوں کہ اگر تیرا رحم نہ ہو تو میں نہ جانے کس گرداب میں پھنس جاؤں - مجھے
تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے والوں میں شامل فرما -
رحم فرما - اے رحیم و کریم اپنے بندوں پہ رحم فرما -
آمین
(آزاد ہاشمی )
ثمر ایک جیسا ہی ہو گا
جمہوریت کی گود میں وزارتی نظام پلے یا صدارتی - ثمر ایک جیسا ہی ہو گا -
یہ سوال اٹھنے کی بڑی وجہ ہمارے مذہبی رہنماؤں اور مذہبی جماعتوں کی نا اہلی ہے , کیونکہ انہوں نے لوگوں میں اسلام کے وہ پہلو اجاگر ہی نہیں کیے کہ لوگ اسلام کو ایک مکمل نظام سمجھ لیتے اور جمہوریت کی بجاۓ الله کے نظام کو اختیار کر لیتے -
(آزاد ہاشمی )
ہمارے لوگ اپنی مثال آپ ہیں
اور بھی بہت ساری باتیں ہیں جو کہیں اور نہیں ملیں گی -
ہمارے لوگ اپنی مثال آپ ہیں - ہر پانچ سال کے بعد انہی لوگوں کو حکمران چن لیتے ہیں , جن کے خلاف پچھلے پانچ سال دھرنے اور ہڑتالیں کی تھیں -
ہمارے حکمران بھی ساری دنیا سے نرالے ہیں کہ یہ ملکی کارخانے بند کر کے اپنی ملیں بیرون ملک لگاتے ہیں -
دنیا میں تمام افواج کا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں ہوتا , مگر ہماری فوج کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ تمام ملکی اداروں کا انتظام بھی سنبھالیں -
یہ صرف میرا وطن ہے جہاں امیر اور غریب کے لئے الگ الگ قانون ہے -
ہماری آئین ساز اسمبلیوں میں آئین بنانے والے یا تو ان پڑھ ہوتے ہیں یا جعلی ڈگری ہولڈر - آئین سازی کے وقت اکثر سو رہے ہوتے ہیں -
ہمارے اکثر پکڑے جانے والے ڈاکو پولیس اہلکار ہوتے ہیں -
ہمارے مذہبی رہنما چندہ اسلام کے نام پہ لیتے ہیں اور خرچ جمہوریت کے لئے کرتے ہیں -
ہمارے جمہوری نظام کی خوبی ہے جو دنیا میں کہیں اور نہیں کہ ہمارے ووٹر کو ووٹ ڈالنا نہیں پڑتا , ووٹ خود بخود ڈل جاتا ہے -
ہمارا ایک اور بھی طرہ امتیاز ہے کہ ہمارے تمام عدلیہ , انتظامیہ اور بیورو کریٹس ہر وقت برایے فروخت ہوتے ہیں -
ایسی بہت ساری انفرادی خوبیاں ہمیں دنیا بھر میں منفرد مقام پہ لا کھڑا کرتی ہیں -
(آزاد ہاشمی )
سردار ایاز صادق
اور کون لوگ ہیں جو ایسے شخص کو ووٹ دیں گے جو قوم سے دھوکہ کرتا رہا - کیا منشور ہے اس سیاسی پارٹی کا جو بد دیانت کارکن کو سپورٹ کرتی ہے - کچھ تو شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے کا نعرہ لگانے والوں کی اپنی شرم اور حیا کو کیا ہو گیا ہے -
کیا یہ ہے جمہوریت ? جس کے نام پہ کتنے شہید ہو گئے -
حیرانی ہوتی ہے اپنے عوام کی بے حسی پہ - کیا ہم شعوری طور پہ بالکل دیوالیہ ہو گئے ہیں کہ اچھائی اور برائی کی تمیز تک باقی نہیں رہی - ہم غلط لوگوں کا مواخذہ کرنے کی بجاے ان کی سپورٹ کرتے ہیں - کتنی شرم کی بات ہے ان لیڈروں کے لئے , ان سیاسی پنڈتوں کے لئے , ان میڈیا کے دانشوروں کے لئے , اخبارات پہ کالم لکھنے والوں کے لئے , کہ دھاندلی کی پیداوار کو ایک اور دھاندلی کی اجازت ملنے پر گونگے اور بہرے بنے بیٹھے ہیں - کیا یہ قومی خیانت نہیں , کیا یہ ملک کے خلاف بغاوت نہیں - جن عدالتوں میں کھانسی آ جانا بھی توہین عدالت بن جاتا ہے , وہاں یہ قانون شکنی کیوں نہیں -
کیا ہمارے یہ جرم ہماری نسلوں کے لئے سزا نہیں بن جائیں گے -
حیف ہے ایسے نظام پہ جس کو اندھے چلا رہے ہیں -
اے میری قوم ! اپنی اپنی سطح پر کوشش تو کریں کہ برائی کا رستہ رک سکے -
شکریہ
(آزاد ہاشمی )
قربانی ہوتے جانور
میرے صبر کا پیمانہ بہت کم نکلا اور میں اس کے پاس جا کے بیٹھ گیا -
" کیسے ہو بابا ! "
میری آواز سن کر وہ ایسا چونک گیا , جیسے کسی کو جھنجھوڑ کر نیند سے اٹھا دیا جاے - شائد میں نے اسکے خوابوں کا تسلسل توڑ دیا تھا -
" تم نے دیکھا ان لوگوں کو "
میرے سوال کا جواب دئیے بغیر اس نے ایک معنی خیز سوال کر دیا -
" کتنے خوش قسمت ہیں یہ لوگ - الله نے انہیں توفیق بخشی کہ ایک فرض ادا کر دیا "
" وہ سامنے جھونپڑا ہے , وہ میرا گھر ہے , میری بیٹی اور میں وہاں رہتے ہیں - میری بیٹی شادی کے قابل ہے , اور میں فالج زدہ ہوں "
" یہ جو گھر ہے, اسکا مالک بہت امیر آدمی ہے- میں اسے اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹا سا بچہ تھا - اور جب اسکا باپ فوت ہوا تھا , میں بھی جنازے اور کفن دفن میں شامل تھا "
" چند دن پہلے میں اس کے دروازے پہ آیا تھا , میری بیٹی بیمار تھی , دوائی کے لئے تھوڑے سے پیسے مانگنے - اس کے پاس کچھ نہیں تھا , چند سکے بھی نہیں تھے اس کے گھر میں - آج یہ دو دو جانور قربانی کر رہا ہے - سوچ رہا ہوں کہ اس کا کونسا عمل ہے جو اسے قربانی کے لئے الله نے اسباب دے دیے اور ایک مستحق کے لئے چند سکے نہیں دیے "
وہ مسلسل بولے جا رہا تھا , مگر ابھی تک اسکی آنکھوں کا سیلاب باہر نہیں آیا تھا -
" پتہ ہے اب کیا ہو گا - گوشت میں سے اچھے اچھے ٹکڑے قریبی تعلق داروں میں بانٹ دیے جایں گے , اور چند ہڈیاں غریبوں میں تقسیم کر دی جایئں گی "
" یہ قربانی کا مسنون طریقه ہے "
اس نے میری طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا -
اور پھر آنکھوں سے نہ رکنے والی برسات ہونے لگی - وہ ایک چھوٹے سے بچے کی طرح رو رہا تھا -
" یہ میری بیٹی بہت ضدی ہے - میں اسکی وجہ سے یہاں آیا تھا - بیوقوف کہہ رہی تھی , چچا نے قربانی کی ہے - میرے لئے گوشت لے کے آؤ - میں نے انکار کیا تو کہنے لگی , میں خود جاتی ہوں اور چچا سے ڈھیر سارا گوشت لاؤں گی "
میری آنکھیں بھی نم آلود ہو رہی تھیں -
" پگلی کو کیسے سمجھاتا کہ غریبوں کے رشتے دار نہیں ہوتے - اور اگر وہ آ جاتی تو آج مر کر واپس جاتی"
میں تجسس میں تھا کہ چچا کا رشتہ کیوں دہرا رہا ہے - پیشتر اس کے کہ میں سوال کرتا - اس نے اپنی میلی سی چادر سے آنکھیں خشک کیں اور بولا -
" یہ گھر کا مالک میرا سگا بھائی ہے "
یہ سنتے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے -
"بیٹا یہ باتیں بہت پرانی ہو گئی ہیں - کبھی ہوتے تھے رشتے ناطے "
" سوچتا رہتا ہوں کہ میں مر گیا تو میری بیٹی کا کیا ہو گا - کہاں جاے گی وہ - یار ! وہ مر جاے تو مجھے بھی سکون کی موت آ جاے گی "
وہ پھر رونے لگا -
" پتہ نہیں الله غریبوں کو بیٹیاں کیوں دے دیتا ہے "
" میں اس کے سامنے کبھی نہیں رویا - ڈرتا ہوں کہ وہ بھی رونے لگے گی - کیا جھوٹ بول کر چپ کراؤں گا اسے "
وہ رو رہا تھا - کہ اتنے میں قربانی کے گوشت کی چند ہڈیاں لئے ایک بچہ سامنے کھڑا تھا - بابا نے جھولی آگے کی - اس نے جھولی میں گوشت ڈالا اور بھاگ گیا -
" یہ میرا بھتیجا ہے , بہن کے لئے گوشت دے کے گیا ہے "
پھر وہی آنکھیں وہی برسات -
آزاد ہاشمی
ایک شہید کی روح
تابوت کے باہر ایک عظیم ماں بھی کھڑی تھی - جس نے بیوگی کا کٹھن سفر کاٹا تھا , اس شہید کو پروان کرنے میں - کبھی تابوت کو نم آلود نگاہوں سے دیکھتی اور کبھی اپنے پہلو میں کھڑے دو معصوم بچوں کو - ہر آنکھ برس رہی تھی اسے دیکھ کر - ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ بیٹے سے کچھ راز کی باتیں کر رہی ہو- شائد شکایت کر رہی ہو اپنے بیٹے سے کہ اسکی بوڑھی ہڈیاں ان معصوموں کا بوجھ کیسے اٹھائیں گی - کیا جواب دے گی جب یہ پوچھیں گے -
" دادو ! ڈیڈی کب لوٹیں گے "
کیسے کہے گی اپنی بہو سے کہ بیٹا اب ہاتھوں کی مہندی کو مٹا دو - اسکو دیکھنے والا کبھی نہیں لوٹے گا - تیری چوڑیوں کی کھنک سننے والا بہت دور چلا گیا ہے - یا شائد بیٹے سے پوچھ رہی ہو , کہ بیٹا جب گولیوں کی بوچھاڑ تیرے بدن کو چیر رہی تھی تو تجھے کتنی درد ہوئی تھی - یا شائد اپنے رب سے کہ رہی تھی کہ اے سب جہانوں کے مالک , میری دنیا کا ایک ہی پھول تھا تو نے وہ بھی چن لیا - یا شائد الله کی رحمتوں کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اسے شہید کی ماں ہونے کا اعزاز مل گیا - ممتا کا گھائل دل تڑپ رہا تھا مگر ابھی تک آنکھوں میں رکے سیلاب کا بند نہیں ٹوٹا تھا -
بہو نے ہاتھ پکڑا اور بولی -
" ماں جی ! مجھے فخر ہے کہ میرا رفیق سفر پوری قوم پر اپنے خون کا احسان چھوڑ کر گیا ہے - جو قوم کبھی نہیں لوٹا سکے گی "
" دادو ! میں کب شہید بنوں گا "
معصوم پوتے کے سوال نے رکا ہوۓ سیلاب کا بند توڑ دیا-
عظیم ماں , بہادر بہو اور بےخبر بچے بھوجل قدموں سے تابوت کی طرف بڑھے - ماں نے تابوت کو بوسہ دیا اور پوتے کو سینے سے لگا کر خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی - فوج کا دستہ الرٹ ہوا - ماں کی عظمت کو سلام کیا اور شہید کو اسکی منزل کی طرف اٹھا لیا - رفیق سفر کے آخری سفر نے بیچاری دلہن کے سارے خواب توڑ دئیے -
آزاد ہاشمی
آل نبی کی شان
علمیت کے بعض دعویدار باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ مصائب کربلا بیان کرنے سے اہل بیت کی شان کم ہو جاتی ہے - محدود فکر یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کربلا کی داستان تو ہے ہی جبر و استبداد اور صبر و رضا -
کون ہے جو علی اصغر کے گلے میں اٹکے ہوے تیر کو بھلا پایا ہے - کیسے چھپے گا فرات کے پانی پہ اشقیا کا قبضہ - کیا نام دو گے سجدے میں حسین کا سر کاٹنے کو - کیا کہو گے رسیوں میں جکڑی رسول کی اولاد کو -
چلو ! تم سناؤ کربلا کی داستان -
تم کہو کیا کیا ہوا کربلا میں - تم بتاؤ یزید کے دربار میں بہادر بی بی کیسے لائی گئی -
کہو جب کوفے کے بازار میں اہل بیت کا قافلہ داخل ہوا تو نواسہ رسول کا سر کہاں تھا -
ارے یہ کہانی تاریخ کی وہ کہانی ہے جس کی گواہی فلک بھی دے گا اور افلاک کا مالک بھی -
مت بھول زینب کی چادر کوئی عام چادر نہیں تھی - حسین کا سر کوئی عام سر نہیں تھا - عباس کے بازو کوئی عام بازو نہیں تھے - اے کاش تیرے دل میں بھی گداز ہوتا جو تیری آنکھوں میں چند آنسو اہل بیت کی محبت کے لے آتا -
آزاد ہاشمی
یہ کہانی تو میری اپنی تھی
خوبرو جوان میرے سوال پہ پھر نم دیدہ ہو گیا -
" ایماندار افسر کا بیٹا ہوں جو چند ماہ پہلے فوت ہو گئے ہیں - سول سروس کا امتحان پاس کر چکا ہوں , رشوت مانگتے ہیں انٹرویو کے لئے - گھر میں کھانے کو روٹی نہیں - رشتے اجنبی ہو چکے ہیں - کہاں سے لاؤں رشوت " سوال سچ بھی تھا اور معاشرہ کی بے حسی کا ثبوت بھی -
" ماں روز صبح اٹھتی ہے , ہمیں دیکھ کر بہت روتی ہے , کچھ نہیں بولتی - پہلے تو بات بات پہ ڈانٹا کرتی تھی - مار بھی لیتی تھیں - اب کچھ نہیں کہتیں "
" آج کہ رہی تھیں کہ سامنے والے گھر والوں کے برتن دھونے کو جا رہی ہوں "
" میں برداشت نہیں کر سکا - خود کشی کرنے آیا تھا - بزدل نہیں ہوں , موت سے نہیں ڈرتا , خیال آ گیا کہ میں تو ایک بار میں مر جاؤں گا - ماں کا کیا ہو گا - وہ تو روز مرے گی - بہن بھائیوں کا کیا ہو گا "
" مزدوری کرنے سے نہیں گھبراتا , مگر مزدوری سے نہ چولہا پوری طرح سے جل پاۓ گا , نہ بہن بھائی پڑھ سکیں گے "
میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جو تھا اسے دینا چاہا - یہ میری اس ماہ کی پوری تنخواہ تھی -
" انکل ابھی میں نے بھیک لینے کا ارادہ نہیں کیا - آپ کا بہت بہت شکریہ - اگر ہو سکے تو حکمرانوں کی بے حسی کا ذکر اپنے حلقہ احباب میں کرتے رہنا "
" گھر جا رہا ہوں , کل سے مزدوری کروں گا - بھوکا رہوں گا , بے سود تعلیم کا زیور اپنے بہن بھائیوں کو بھی ضرور پہناؤں گا "
وہ چلا گیا - مجھے ایسے لگا جیسے یہ کہانی تو میری اپنی تھی , اسے کس نے بتائی -
شکرہہ
آزاد ہاشمی
اے میرے وطن کے بھولے بھالے لوگو
اگر کبھی وقت ملے سوچنے کا , غور کرنے کا , تو یہ جمہوریت کی دیوی کے بارے میں سوچنا - کہ اس نے کیا دیا غریبوں کو - وہ لوگ جو بار بار ووٹ لینے آتے ہیں , ان میں کتنے لوگ صاحب کردار ہیں , کتنے اپنے وعدوں کا پاس رکھتے ہیں , کتنے عملی طور پر غریب پروری کرتے ہیں - ہم مسلمان ہیں , ہمارے صاحبان اقتدار کا صالح , امین , اسلامی احکمات کا پابند ہونا لازمی شرطیں ہیں - ان میں سے کتنے ان شرطوں پر پورے اترتے ہیں - معاشرتی زندگی میں کتنے ہیں جو گناہ کبیرہ کے مرتکب نہیں -
کبھی غور کریں کہ وہ لوگ جو بھکاری کو بھیک دیتے تنگ دل ہوتے ہیں , الیکشن پہ لاکھوں کروڑوں کیوں خرچ کر ڈالتے ہیں - وہ کیا مفادات ہیں , جن کی خاطر سیاست پیشہ بن گئی ہے - ایک غریب شخص کوئی بھی سیٹ جیتنے کے بعد امیر کیسے ہو جاتا ہے -
آپ جب گہری نظر سے مشاہدہ کریں گے تو سیاسی میدان کے کم و بیش تمام کھلاڑی , یا تو رسہ گیر ہوں گے , یا پیشہ ور لینڈ مافیا , یا عادی مجرم , یا غنڈے اور بدمعاش - ایسا بہت کم ہو گا کہ کوئی شریف النفس انکے رستے میں آیا ہو اور عزت بچا سکا ہو -
کیا یہ سلسلہ کبھی رکے گا - کیا ہم ووٹ مانگنے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے کارکردگی کا حساب مانگ سکیں گے -
آزاد ہاشمی
مسلمانوں کے خلاف منظم تحریک
اس مذاق کو روکنے کے لئے نہ کسی مسلمان حکمران نے تحریک کی , نہ مذہبی مفکروں نے قدم بڑھایا , نہ مسلمان میڈیا آگے آیا , نہ کوئی لیڈر بولا - آہستہ آہستہ ایک عام مسلمان کا ذھن یہ تسلیم کرنے لگا ہے کہ ہم ہی سے کچھ لوگ یہ دہشتگردی کے ذمہ دار ہیں -
وہ وقت بہت قریب ہے , جب ہماری بے خبری ہمیں لے ڈوبے گی - کوئی بھی مسلمان کے بھیس میں ہمارے گھروں میں گھسے گا اور ہماری عورتوں کو بے ابرو کرے گا , ہمارے بچوں کو رسیوں کی پھانسیاں دے گا ,ہماری عبادت گاہوں کو ہمارے مقتل بنا دے گا اور پھر امن کے پیامبر ہماری مدد کو آئین گے - کسی کا حلیہ اور لباس تو اسے مسلمان نہیں بنا دیتے -آئیے غور کریں , اور اپنے حلقہ احباب میں یہ شعور دیں , کہ دہشتگرد , خواہ کسی بھی روپ میں ھو , مسلمان نہیں ہوتا -
دنیا میں کہیں بھی دیکھ لیں , دہشت گردی کی بھینٹ صرف مسلمان چڑھے ہیں - لیبیا , عراق , شام , سوڈان , پاکستان , فلسطین , لبنان , افغانستان , نیپال , بھوٹان انڈیا , آپ کوئی بھی نام لیں نشانہ صرف اور صرف مسلمان ہیں - کوئی دوسرا نہیں -
یہ اسلام مخالف قوتوں کی ذھانت نہیں , مسلمانوں کی حماقتوں کے سبب ہے -
ہمارے مسلمان اپنے وطن کی دولت لوٹ کر انہی لوگوں کے پاس رکھتے ہیں , جو پہلے سے گھات میں بیٹھے ہیں - وہ ہمارے سرمایہ کو اسلحہ سازی میں استعمال کرتے ہیں , اور ہمیں ہی مارتے ہیں -
اے کاش ہمارے رہنما عقل و دانش سے کام لیں - ہمارے دانشور غیر اہم بحثوں سے ہٹ کر شعور دینا شروع کریں - فرقہ پرستی کی آگ بجھا دیں - ہم سب کو آگے آنا ہو گا - یہ جہاد ہے -یہ دین کی خدمت ہے -
آزاد ہاشمی
کیا ہمارا دین ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے
کیا یہ اختیار الله کا نہیں , کیا یہ پیمانہ قران نہیں , کیا اسکی سند صرف اور صرف الله کے حبیب کے پاس نہیں -
کیا جبر اور جمہوریت سے ان حقائق کو تبدیل کرنا , اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی نہیں -
اسلام محبت , رواداری , برداشت , امن , دوسروں کے جان اور مال کی حفاظت اور بنیادی حقوق کی مساوات کا درس ہے -
عبادت گاہ کسی کی بھی ہو , اسلام اسے احترام دیتا ہے -
جنگی حالت میں بھی مفتوح علاقوں کے عبادت خانے خواہ وہ کسی بھی مذھب کے ہوں مسمار کرنے کی اجازت نہیں , یہاں تک کہ آپ دشمن کے علاقے میں چھاؤں دار , پھلدار اور مفید درخت بھی نہیں کاٹ سکتے -
کیا مسلمانوں کے لئے کسی کو زبان اور ہاتھ سے تکلیف دینا نا پسندیدہ عمل نہیں -
یہ کون ہیں , جو اسلامی اقدار سے بغاوت کو مذہبی فریضہ بنانے پہ تلے ہوۓ ہیں -
کیا یہ منافرت کا بیج کل کو فساد کی شکل اختیار نہیں کر لے گا - اور مفسد اسلام کی تعلیمات میں ایمان کے کسی درجہ پہ نہیں ہوتا -
آئیے , تعصب پھیلانے کے ہر عمل کو ناکام بنائیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
جہاد اسلام کا اساسی رکن ہے
مگر ہم لوگوں نے اس اساسی رکن کو تلوار اور طاقت سے جوڑ دیا - تلوار اور طاقت کا یہ عمل اب کفار کے خلاف کم ہے اور اپنے مسلمان مخالف عقائد کے خلاف زیادہ ہے -
یہ فساد کے خاتمے کے خلاف ایک تحریک کا نام ہے , تا کہ ہر انسان امن اور سکون کی زندگی گزار سکے - مگر اب اسکی عملی شکل بالکل الٹ ہو گئی ہے -
جہاد کے نام پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے , اگر انصاف سے دیکھیں تو یہ ایک فساد کی تحریک بن کر رہ گیا ہے - لاکھوں لوگ بے گھر , بے وطن اور ویران ہو گئے ہیں -
ہم نے اپنے اس اہم رکن کو بدنام کر دیا ہے -
ہمیں بہت فکر کی ضرورت ہے -
آزاد ہاشمی
الله کے ہر حکم کی نفی کی
الله نے فرقہ بندی سے سختی کے ساتھ روکا , ہم نے فرقوں کو ہی اصل مذھب کی شناخت بنا ڈالا -
الله نے کہا یہ سب کافر تمھارے دوست نہیں ہو سکتے , ہم نے کافروں کی دوستی کو کامیابیوں کی سند مان لیا -
الله کے ہر حکم کی نفی کی , سرکشی کو عقل کل سمجھنے لگے , مذھب کو قدامت پرستی کہنے لگے اور شعار اسلامی کا مذاق بنا ڈالا -
الله سے مدد مانگنا چھوڑ دیا اور ہر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے لگے -
اسوہ حسنہ کو بھلا دیا اور اپنی زندگی کو کافروں کی روش پہ ڈال دیا -
الله نے رسوائی کا طوق ہمارے گلوں میں ڈال دیا - آج مسلمان قریہ قریہ , دیس بدیس رسوا ہیں - جس کا دل چاہتا ہے , مسلمانوں کو ہانک ہانک کر مقتل میں لے جاتا ہے اور جانوروں کی طرح مار ڈالتا ہے - جس کا دل چاہتا ہماری خواتین کے سر سے چادر چھین لیتا ہے - جس کا دل چاہتا ہے ہمارے بچوں کی گردن پہ پاؤں رکھ دیتا ہے -
ہم مظلومیت کا رونا روتے رہتے ہیں - یہ ہے رسوائی جو الله کے احکامات اور رسول پاک کے اسوہ سے ہٹنے کا نتیجہ ہے -
اے کاش ہم سمجھ سکیں -
آزاد ھاشمی
اسراف اور بخل
اسراف کرتے وقت جو حال رزق کے ساتھ کیا جاتا ہے ,وہ نہایت اخلاقی گراوٹ ہے - دیگر امور زندگی میں بھی ہم اسراف کرنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں - اور اسے سٹیٹس سے منسوب کرتے ہیں -
اگر اسی اسراف میں سے کچھ کسی مستحق کو دے دیا جاے , تو نیکی بھی ملے گی اور الله کی رضا بھی , اور برکت بھی -
ہم اپنے دستر خوان طرح طرح کے کھانوں , مشروبات اور پھلوں سے سجا لیتے ہیں - اگر ان میں چند چیزیں کسی ضرورت مند کو دے ڈالیں , تو بلا شبہ احسن اقدام ہو گا - اور الله ان سب چیزوں میں برکت فرما دے گا -
آئیے ! یہ عمل اپنے معمول کا حصہ بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
فیس بک پہ لگائی جانے والی پوسٹوں میں
ہم ان پوسٹوں سے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں - یہ کہ ہم مسلمان اب اپنی حفاظت کے قابل نہیں رہے - یہ کہ ہماری ایمانی غیرت ختم ہو چکی ہے - یہ کہ مسلمانوں کی یکجہتی کا جنازہ نکل گیا ہے - یہ کہ جو قوم صرف الله سے ڈرتی تھی , اب ہر کسی سے خوف زدہ ہے - یہ کہ ہمارا جذبہ جہاد آپس میں قتل و غارتگری کے لئے رہ گیا ہے - اپنی اقدار بچانے کے لئے نہیں - یہ کہ ہم نے زندگی اور موت پر الله کے اختیار کا ایمان نہیں رہا -
کیا ہم ظالموں کی طاقت اور اپنی بے بسی کا اعتراف نہیں کر رہے -
جب قومیں اپنی اقدار , اپنے اسلاف , اپنے مذھب اور اپنی روایات کو بھول جاتی ہیں اور دوسری قوموں کی تقلید میں لگ جاتی ہیں تو پھر انجام وہی ہوتا ہے , جو اب ہمارا ہے -
الله اور رسول پاک کی اطاعت چھوڑنے کا یہی نتیجہ ہو سکتا ہے - اگر مسلمان آج اپنے دین کی راہ اختیار کر لیں , یہ ساری رسوائی کل ختم ہو جائیگی -
آزاد ہاشمی
ایک سرمایہ دار کی کامیابی کی کہانی
یہ بات اس نے میڈیا پہ کہی اور اسکے سامنے بیٹھا ہوا منہ زور صحافی بھیگی بلی سے زیادہ کچھ نہیں تھا -
یہ ایک حقیقت تھی جو وہ سرمایہ دار کہہ رہا تھا - مگر یہ حقیقت ایک نہایت شرمناک پہلو تھا , سرمایہ دار کی شخصیت کا اور پورے نظام کا , جس میں برائی کو کامیابی بنا کر پیش کیا گیا -
اگر برائی کا سہارا لے کر دولت کما لی جاے تو یہ کوئی قابل تعریف بات نہیں - اور نہ ہی کوئی خوبی ہے -
دولت کی ریل پھیل انسان کا امتحان ہوا کرتا ہے - اور ہمیشہ دولت کے نشے میں مخمور , الله کی پکڑ کا شکار ہوے ہیں -
موصوف کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے , پیسہ بہت کما لیا , اس سے خیرات بھی بہت کی ہو گی -
مگر یہ اعلان کہ یہ پیسہ اس ذریعے سے کمایا , جس کے لئے جہنم کی آگ کی نوید ہے -
موصوف ہواؤں سے نیچے آ کر سوچنا شروع کریں - مجھے
خوشی ہو گی - اگر کوئی بھائی موصوف کو یہ باور کرا دے کہ اس نے اپنی خطا کا کروڑوں لوگوں کو گواہ بنا لیا - الله اسے توبہ کی توفیق بخشے - آمین
آزاد ہاشمی
فرانس کا درد رکھنے والے
ہم نے دوسروں کی لڑائی اپنے آنگنوں میں بلا لی ہے - ہم نے اپنی جانوں کو سیاسی مداریوں کی محبت میں بیچ ڈالا ہے - ہمیں شہادت کے نام پہ موت خرید دی ہے - ہم نے قبروں کے شہر بسا ڈالے ہیں - یہ مکار مغرب ہمیں قربانیوں پہ شاباش دیتا ہے تو ہم پھولے نہیں سماتے - دنیا میں جہاں بھی آگ جلتی ہے , ہمیں جھونک دیا جاتا ہے - اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اعزاز ہماری بہادری کی بدولت ہے - حالانکہ یہ خدمت ہماری حماقت کی وجہ سے لی جاتی ہے -
یہ خود کش کون ہیں , انکا مذھب کیا ہے , یہ کہاں سے آتے ہیں , انکو روکنا کیوں ممکن نہیں -
کیا یہ سوال ہمارے اداروں کی قابلیت پر ایک سوالیہ نشان نہیں -
ہے کوئی جو آج ان گھروں کے زخموں کا مداوا کر سکے - ہے کوئی جو روتی ہوئی ماں کو شہادت کا مژدہ سنا کر آنسو روک لے -
کتنے گھر اجڑ گئے , کتنی سہاگنیں بیوہ ہو گئیں , کتنے بچے یتیم ہو گئے - ہر بار تسلی , ہر بار اشک شوئی - نہ کبھی اسمبلیوں میں آواز اٹھی , نہ کبھی حفاظتی ادارے متحرک ہوۓ , نہ کوئی دانشور بولا , نہ میڈیا نے شور مچایا , نہ سیاسی پنڈت آگے بڑھے -
خدا را ! اب لوگوں کو بہادری کی گولی دے کر موت کی نیند سلانا چھوڑ دو - بیانات اور بھڑکیں مارنا بند کرو - اگر کچھ کرنا ہے تو نتیجہ آنا چاہیے -
آزاد ہاشمی
کیا یہ ہے جمہوریت
یہاں ایک سوال تو ان اداروں سے بنتا ہے , جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر صورت میں ایسے لوگوں کو سزا دیں - جو معاشرہ میں برائیوں اور ایسی سر گرمیوں میں شامل ہیں - ان لوگوں کو سالہا سال ان مجرموں کا پتہ کیوں نہیں چلتا -
دوسرا سوال ان لیڈروں سے ہے جو دن رات قومی خدمت کا راگ سناتے ہیں - کہ انہیں ایسے لوگوں کو پالنے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے -
تیسرا سوال سیاسی کارکنوں سے کہ آپ سب ان جماعتوں سے کیا امید رکھتے ہیں , جن کا عمل ہی برائی ہے - جو پارٹیاں اپنی کامیابی کی بنیاد ہی قتل و غارتگری اور غنڈہ گردی پہ رکھتی ہیں -
چوتھا سوال عوام نام کی مخلوق سے کہ اب آپ سب کو مزید کیا دیکھنا ہے , جمہوریت کے شجر پہ -
جس نظام کی اساس ہی برائی ہے , اسکا انجام اچھائی کیسے ہو گا -
ہم سب کو فکر کرنا ہو گی - ورنہ مزید برے حالات کے لئے تیاری کر لیں -
ان جمہوریت کے پنڈتوں سے مواخذہ کرنا ہو گا - پوچھنا ہو گا کہ انہیں ان غنڈوں کی ضرورت کیوں ہوتی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
آلو سستے
ہم جاہل لوگ اسکی معاشی سدہ بدھ تک کہاں جا سکتے ہیں - اس سے اب چپس بھی سستے ہو جائیں گے اور فرنچ فرائز پہ کافی اثر پڑے گا -
کیا ہوا اگلے سال کسان آلو کاشت نہیں کریں گے - نہ کریں - ہم آلو درآمد کر لیں گے - ہمسایہ ملک سے خرید لیں گے , ہمارے دوستانہ تعلقات میں اضافہ بھی ہو گا , اور ہماری تاجر برادری بھی مزے کرے گی -
ملک کو کیا فرق پڑا , ہم نے ایک ایک کر کے صنعت ختم کر دی - چاول کی برآمد ختم ہو رہی ہے - وغیرہ وغیره -
ایسی قوم کو ایسے ہی زیرک , فہم شناس اور ذہین لیڈر کی ضرورت تھی - اب تو شیر بننے کا وقت ہے - قوم کو گبھرانا نہیں چاہیے - ابھی تو بہت سارے پلان باقی ہیں - قوم نے موقع دیا تو وہ سب بھی کریں گے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
عزیر بلوچ کی کہانی
وہ پولیس افسران , وہ سیاسی لیڈر , وہ مذہبی گروپ , وہ تمام لوگ جو دہشت گردوں کی پشت پناہی , مالی اور قانونی امداد , پناہ گاہوں کی فراہمی کرتے ہیں - کیا انکا جرم معاف ہو جاے گا , یا انھیں بھی پوچھا جاے گا کہ یہ وطن سے غداری کیوں کی - کیا انہیں ان جرائم میں ملوث ہونے کی وہی سزا ملے گی , جو غدار کی ہوتی ہے - کیا ایجنسیوں کے ذمہ داروں سے پوچھا جاے گا کہ تم لوگ ملک کے وسائل کو ہڑپ کر رہے ہو - اپنی ڈیوٹی کیوں نہیں کرتے -
کیا یہ تسلیم نہیں کر لینا چاہیے کہ دہشت کرنے والے ہمارے اداروں پر حاوی ہیں - کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ عزیر بلوچ کو آئ جی پولیس لگا دیا جاے -
ایف آئ اے کے وہ بہادر افسران کہاں ہیں جنہوں نے بول ٹی وی کے سربراہ کو امریکنوں کی ایماء پر کنگال کر دیا -
کیا ایسا کوئی جج ہے جو از خود ان تمام محرکات کا نوٹس لے گا -
سالہا سال سے جرم پلتا رہتا ہے اور کسی کو کان و کان خبر نہیں ہوتی - نہ
میڈیا بولتا ہے نہ دانشور-
کیا اسمبلیوں میں قانون بنانے والے اس ساری حماقتوں پر بھی بولیں گے -
ہمیں جو برائی عزیر بلوچ میں دکھائی جا رہی ہے - اس سے کہیں زیادہ برائی ان پولیس افسران میں تھی , ان سیاسی لیڈروں میں تھی , جنہوں نے اسے ہر سہولت دے رکھی تھی -
آزاد ہاشمی
میڈیا پر اسلام کے خلاف پروپگنڈا
کیا کوئی ہندو , کوئی عیسائی , کوئی یہودی یا کوئی بدھ مت اپنے یا دوسرے چینل پہ اپنے عقیدے کے خلاف ایسے بول سکتا ہے -
ایسا کیوں ہو رہا ہے , اس تحریک کے پیچھے کونسے عوامل عمل پیرا ہیں - اس پروپوگنڈے کا جواب دینے میں ہمارے علماء , ہمارے دانشور, ہمارا میڈیا , ہمارے لیڈر اور ہم سب کیوں خاموش ہیں -
ہمیں اسلام سے زیادہ جمہوریت کی فکر کیوں کھا رہی ہے -
فرقوں کے نام پر متحرک غازی , جو اپنے لوگوں کے خون بہانے کو جہاد کہہ رہے ہیں - اس اسلام کے خلاف تحریک پر غور کیوں نہیں کر رہے -
آنے والی نسلوں کو جو سبق آج مل رہا ہے - آہستہ آہستہ یہ ایک انمٹ نشان ثبت کر دے گا - ہم پھر سے اپنی نسلوں کو گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیں گے - مسلمانوں کی تاریخ مسخ کی جا رہی ہے اور یہ کام کافر نہیں ہمارے اپنے لوگ کر رہے ہیں - ہمیں یاد ہی نہیں کہ آج کی ساری سائنس کے پیچھے مسلمانوں کی کتنی حصہ داری ہے - ہمیں صرف تلوار چلانے والی قوم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے - کوئی نہیں بتاتا کہ آج بھی امریکہ جیسی طاقت کے پیچھے ساری معاشی سپورٹ مسلمانوں کی ہے -آج بھی تمام یہودی کمپنیوں کی آمدن کا اصل ذریعہ مسلمان ہیں -
ہمیں اس یلغار کو روکنے کے لئے متحرک ہونا ہو گا -
آزاد ہاشمی
قربانی کس لئے دی
لا الہ الاللہ محمد رسول الله -
یہی نعرہ جلسے جلوسوں میں بھی سنایا جاتا ہے -
اگر جمہوریت ہی اپنانا تھی تو یہ کام تو اکٹھے رہ کر بھی کیا جا سکتا تھا - اگر ایسے ہی حکمرانوں کو چننا تھا - جن کو قران کا پتہ ہے , نہ کلمے کا مطلب جانتے - جو زنا, شراب نوشی غرضیکہ ہر گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو ایسے حکمران تو اکٹھے رہ کر بھی منتخب کیے جا سکتے تھے -
کیا درست نہیں کہ ہم پاکستان کی تخلیق کا مقصد ہی بھول گئے ہیں - نہ قانون اپنا , نہ نظام اپنا , نہ فیصلے اپنے نہ اختیار اپنا -
کیا یہ سچ نہیں کہ پہلے ہمارے حکمران صرف برطانوی تھے , اب انکے ساتھ ساتھ امریکہ اور دیگر لوگ ہمیں ڈکٹیٹ کرتے ہیں -
ہمارے حکمران نہ صرف نا اہل بلکہ آج بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ انگریز کی ہدایت پر ہی عمل پیرا رہتے ہیں -
اس قوم کو یا اس ملک کو آزاد سمجھنا حماقت ہے جو اپنے فیصلوں پر بھی خود مختار نہ ہو -
کوئی ایک سیاسی جماعت کہ سکتی ہے کہ وہ پاکستان کے مقصد کے حصول کے لئے کام کر رہی ہے - سب کے سب جمہوریت کی ناؤ میں بیٹھ کر کسی نہ کسی لیڈر کی کامیابی پہ لگے ہیں -
ہمارا میڈیا بکا ہوا ہے , ہمارے دانشور بکے ہوے ہیں - پورا کا پورا سسٹم نیلام ہوتا ہے - جو خریدنا چاہے خرید لیتا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
جب کوئی قوم باہمی خلفشار کا شکار ہو جاتی ہے
ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارا ایک بھی ادارہ ایسا نہیں , جسکی کارکردگی ضرورت کے مطابق ہے -
سب سے زیادہ خرابی عدلیہ میں ہے , جہاں سزا کا عمل مفقود ہے - انصاف نام کی کوئی چیز نہیں - اگر سزا اور انصاف ہوتا تو دہشتگردی کا بھوت بہت پہلے مر جاتا -
انتظامیہ بھی حکمرانوں کی غلام ہے - اسلیے سارے انتظامی معاملات سیاست کا شکار رہتے ہیں -
ہم اپنی نا اہلی کو دشمن کی مکاری کی چادر میں چھپانے میں لگے رہتے ہیں - یہ کوئی خوبی کی بات نہیں کہ جو کام پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کا تھا وہ فوج کو کرنا پڑا - سرحدوں کے باہر ہم نے سب ہمسایوں کو دشمن بنا رکھا ہے - اور سرحدوں کے اندر مذہبی انارکی , لسانی تعصب , سیاسی جنگ اور معاشی بدحالی جیسے دشمن پال رکھے ہیں -
ہر ادارہ نا اہل قیادت کے ہاتھوں میں ہے - جس پر سیاسی لوگوں کے نا اہل , زانی , راشی , شرابی اور نا لائق افسران برا جمان ہیں -
کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ جب تک اصلاح کا عمل لاگو نہ ہوا - یہ سب کچھ جاری رہے گا -
فوج کیا کیا کر لے گی - کہاں کہاں لڑے گی -
یہی ایک ادارہ ہے جس کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے , اور جس پر قوم بھروسہ کرتی ہے -
پاکستان میں کتنی بار فوج نے انتظام سنبھالا - وقتی طور پر معاملات بہتر ہوۓ - پھر سول حکومت آئ تو وہی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی -
اب ضرورت ایسے اقدام کی ہے , جو زود اثر بھی ہو اور مستقل علاج بھی - قوم کو کہانیاں سنانے اور بیوقوف بنانے سے کام نہیں چلے گا - قوم کو عملی طور پر متحرک کیے بغیر کوئی بھی کامیابی ممکن نہیں - اور پوری قوم کو اس جہاد میں شامل ہونا پڑے گا - یہ ہے اصل جہاد کہ ہم اپنی نسلوں کو دشمنی اور نفرت کے عفریت سے محفوظ کر دیں -
الله کرے ہم سمجھ جائیں کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے -
آمین
آزاد ہاشمی
مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے
اس سب کے پیچھے جو مقصد ہے وہ صرف اور صرف یہی ہے کہ اسلام کو نا قابل عمل نظام قرار دے دیا جاے - اور یہ کام مسلمانوں کے ہاتھوں ہو - نئی نسل کو ایسی آزادی کی راہ دکھا دی جاے کہ انکو قابو میں لانا نا ممکن ہو جاے - اور اس مقصد میں وہ بہت حد تک کامیاب ہو چکے ہیں -
بد قسمتی کی اصل بات یہ ہے کہ جو چند لوگ ابھی بھی مذھب سے جڑے ہوۓ ہیں , انکو اختلافی مسائل سے فرصت ہی نہیں - کہ اصل دشمن کے وار کو روکا جاے - اور اسلام کی تعلیمات کو ان دشمنوں کے گھروں تک پہنچا دیا جاے -
یہ وہ کام ہے جو وقت کا اصل تقاضہ ہے - خدا را فرقوں کی بنیاد پر اپنے کلمہ گو بھائیوں سے الجھاؤ کا رحجان ختم کریں اور سب مل کر کفر کی یلغار کو روکیں -
اے الله ! ہمیں شعور , فہم , ادراک اور ہمت عطا فرما - آمین
آزاد ہاشمی
بیچارے کی بیوی
" یار چھوڑو یہ سب ہوا میں قلعے بنا رہے ہو - میں نے بڑے بڑے سورمے بیوی کے سامنے بھیگی بلی بنتے دیکھے ہیں - ارے جب شیرنی گرجتی ہے تو ببر شیر بھی جھاڑی کی طرف چلنے لگتا ہے "
یہ قصہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ بیوی کو قابو کرنے کے گروں کے ماہر کا فون بجنے لگا - سکرین پہ کسی خاتون کی تصویر دیکھ کر اسکا رنگ فق ہو گیا -
" جی جی جی " یہی ایک لفظ تھا جو اسے یاد رہ گیا , زندگی میں سیکھی ہوئی ساری باتیں بھول گیا -
" بس پانچ منٹ میں آ جاتا ہوں - چائ بنا دی تھی , پراٹھے آ کے بناتا ہوں , آپ آج جلدی اٹھ گئے ہو , میں بازار آ گیا تھا آپ کے لئے سری پاے لانے کے لئے - بس یوں آیا "
سب دوست ہنس رہے تھے -
" ابھی جا کے سبق سکھاتا ہوں , اب فون پہ بد اخلاقی کرنا تو اچھا نہیں "
فون پھر بجا -
" جی جی , ٹھیک ہے , ٹھیک ہے , جیسے آپ کا من کرے - وہ برتن دھونے کا صابن نہیں تھا , ویسے بھی برتنوں کے شور سے آپکی آنکھ کھل جاتی ہے اسلیے - کپڑے میں نے بھگو دیے تھے "
کہانی کھل رہی تھی
" یار فون بند کر دو , اتنے گبھرانے سے بہتر ہے "
ایک دوست نے مشورہ دیا -
" ارے ! کیا کہہ رہے ہو. تمہاری بھابھی کا فون ہے - نہیں بند کر سکتا - بیوی کے حقوق کا سوال ہے - یہ اسکا حق ہے "
" اتنی صابر ہے - لاکھوں میں ایک , اسی لئے میں کبھی اسکی دل آزاری نہیں کرتا - جو کہتی ہے سن لیتا ہوں "
فون کی گھنٹی پھر بجی -
" جی جی , مجھے یاد نہیں رہا - آ کے پکا دیتا ہوں - آپ آرام کریں - آپکا ڈریس استری کر دیا رات کو "
کہانی کے سارے ورق کھل چکے تھے مگر وہ اب بھی یہی کہ رہا تھا -
" الله کا شکر کرتا کہ مجھے اتنی اچھی بیوی عطا کی "
بیچارے کی بیوی
آزاد ہاشمی
نامور مفتی صاحب
اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہمارے علماء نے جتنی تحقیق اختلافی اور فروعی مسائل پر کر رکھی ہے اگر اتنی تحقیق اصولی مسائل پر بھی کر لی جاتی تو شاید آج ایسے سوالوں کا جواب ایک عام مسلمان دے لیتا , جس کا جواب ایک جید عالم کے پاس نہیں -
تو بہت سارے دوست سیخ پا ہو جاتے ہیں -
اے کاش ہم اسلام کے حقیقی پیغام کی طرف لوٹ سکیں -
آزاد ہاشمی
جب سے لکھنا شروع کیا
کہہ سکتے ہیں کہ ماں ٹھنڈی چھاؤں ہے مگر وہ استراحت جو ماں کے کندھے پہ سر رکھنے سے ملتی ہے , شائد کہ جنت کی چھاؤں میں ہو , دنیا میں ایسی چھاؤں کا تصور بھی ممکن نہیں -
ماں کے دل میں چھپی ہوئی محبت واحد انمول نعمت ہے , جس کا وزن کائنات میں سب سے بھاری , جس کی گہرائی ہر سمندر سے زیادہ اور جس کی وسعت افلاک سے باہر تک ہے -
لکھتے وقت الفاظ میں کتنی بھی مٹھاس بھرو , اس مٹھاس کا بدل نہیں جو ماں سے ملنے والی محبت میں ہے -
آج پھر وہی احساس کہ نہیں لکھ پاؤں گا , بہتر یہی ہے کہ ہاتھ روک لوں اور الله کے سامنے اپنی ماں کی صحت بھری زندگی کے لئے دامن پھیلا دوں -
وہ کریم ہے میری ماں کو , سب کی ماؤں کو سلامت رکھے -
آمین
آزاد ہاشمی
علماء کو کیا کرنا چاہیے تھا
علماء کی حقیقی ذمہ داری کو سمجھا جاے تو وہ مسلمانوں کی تربیت ہے , اور یہ تربیت اسلام کے اصول و ضوابط کے مطابق ہونی چاہیے - لوگوں میں اس کی آگاہی کو عام ہونا چاہیے - مگر ایسا نہیں ہو سکا - اسلام کے بہت سارے اہم مسائل کی آگاہی ایک عام مسلمان کو تو کجا , مذہبی سرگرمیوں میں متحرک لوگوں کو بھی نہیں - جیسے پردہ کے اصول کیا ہیں , مخلوط رہن سہن کا کیا مطلب ہے , بدکاری کی حدود کیا ہیں , حق تلفی کا اسلام میں کیا مقام ہے , جہاد کب اور کیسے لازم ہو جاتا ہے , اسلام میں معیشیت کا طرز کیا ہے , اسلام کا نظام عدل انگریز کے قوانین سے بہتر کیسے ہے - وغیرہ وغیرہ -
ہو سکتا ہے کہ میرا مشاہدہ غلط ہو , مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایسے بہت سارے معاملات کے بارے میں ہمارے زیادہ تر علماء کو بھی خبر نہیں -
ہمارے علماء نے اسلام کے نظام زندگی پر عبور حاصل کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں دی - بلکہ فروعی اختلافات پہ سینکڑوں کتابیں لکھ ڈالیں , ہزاروں مذاکرے کر دئیے اور بیشمار مدرسے بنا ڈالے ہیں -
آج میڈیا پہ ان لوگوں کو جس تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے , یہ اسی کمزوری کی وجہ سے ہے کہ یہ اپنی اصل منزل کا تعین نہیں کر سکے -
ہمارا علم بحثیت سنی , شیعہ , اہلحدیث , دیوبندی , بریلوی تو مکمل ہے - نہ دلائل کی کمی ہے , نہ حوالوں کی - مگر بحثیت مسلمان چند باتوں سے آگے کچھ نہیں جانتے - غیر مذاہب کو اپنی دلیل پہ قائل کرنا تو دور کی بات ہے , اپنے لوگوں کے سوالوں کا جواب نہیں ہوتا -
ہمیں بحثیت مسلمان ان حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا - اور اگر طاغوت کا مقابلہ کرنا ہے تو اپنی راہ منتخب کرنا ہو گی -
مزید انتظار یا فرقہ بندی کی دیواریں چنی جاتی رہیں تو وہ دن زیادہ دور نہیں , جب ہم اپنے بچوں کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکیں گے اور ان کو طاغوتی تقلید سے روکنے کے لئے نہ ہی کوئی دلیل ہمارے پاس ہو گی -
جو علماء کا رہا سہا احترام ہے وہ بھی ختم ہو جاے گا -
الله کرے ہم اپنی منزل کی شناخت کر لیں -
آزاد ہاشمی
بیشتر تحریریں اداس اور مایوس
" تمہاری بیشتر تحریریں اداس اور مایوس لوگوں کے گرد گھومتی ہیں - کبھی چہکنے اور لہکنے کی بات بھی کر لیا کرو - کبھی اس ماحول کو بھی قریب سے دیکھو جو زندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں - روتے پیٹتے بچوں کی باتیں لکھ کے مایوسی کا درس بانٹ رہے ہو - شکایتیں کرنا ہمیشہ سے غریبوں کی روایت ہے - مسائل ہوں تو کاروبار کو جلا ملتی ہے , معاشی مسائل ضروری ہیں "
شائد محترم کی بات ٹھیک ہے - سکوں سے پر آسائش زندگی گزارنے والوں کو ان کہانیوں سے بوریت ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں - درد کا احساس تو اسے ہی ہو گا , جس کو کبھی درد ہوا ہو - بھوک کی شدت کیا ہوتی ہے ضیافتیں کھانے والے کیا جانیں - جن کے بچے بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہوں , انہیں یتیم بچوں کا کیا احساس ہو گا, جو صبح کسی کونے میں کھڑے ہو کر اسکول جاتے بچوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر روتے ہیں - انہیں کیسے پتہ چلے گا جن کے بچے مخملی بستر پہ سوتے ہیں کہ اینٹ کا سرہانہ کیا ہوتا ہے - جن کے گھر گرمیوں میں ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم ہو جایں , وہ کیا جانیں کہ سردی اور گرمی کی شدت کیا کرتی ہے - غریبوں کے مسائل میں کاروبار ڈھونڈھنے والوں کو کیا خبر کہ انسانیت کیا ہوتی ہے - جس نے درد دیکھا ہو , وہ لکھاری درد لکھتا ہے , اسے لطیفے یاد نہیں ہوتے - درد والے سب اسکے اپنے ہوتے ہیں - اس لئے وہ اپنوں کی باتیں لکھتا ہے - یہ فطرت کی آواز ہے - پیسے کی ریل پیل پہ غریبوں کے درد کو کاروبار کا ذریعہ سمجھنا کم ظرفی اور خود غرضی کی معراج ہے - کوئی تو ہو جو اپنے لوگوں کے درد کا مداوا ڈھونڈھے - امیروں کی محفلوں میں تو صرف بین الاقوامی موضوع ہی زیر بحث ہوتے , ثقافت کے نام پہ راگ و رنگ کے تذکرے , تقریبات میں عشوہ سازی , تو امراء کا معمول ہے - ایسے میں کسی ضرورت مند حاجت روائی کی بات مایوسی ہی کہلایے گی -
اگر یہ دولت کے شیدائی , تھوڑا پیچھے دیکھیں تو شاید انکے باپ دادا میں سے کوئی غربت کے درد کا شکار رہا ہو -
شکریہ
آزاد ہاشمی
دیہاتی سکولوں میں دی جانے والی تعلیم
دوسرے نمبر پر یتیم اور غریب بچے جو اپنے تعلیمی حق سے محروم رہ جاتے ہیں , ہمارا قومی مسلہ بن چکا ہے , اس طرف کوئی بھی حکومت توجہ نہیں دے سکی , سیاستدان توجہ دیتے نہیں کیونکہ اگر تعلیم مساوی ہو گئی تو انکے لئے نعرے کون مارے گا - یہ غریب اور پسماندہ علاقوں کا مسلہ ہے , انہیں ہی سوچنا اور متحرک ہونا ہو گا - یا پھر اس جہاد میں ہر اس شخص کو آگے آنا ہو گا , جو اس درد کو محسوس کرتا ہے - بہت سارے کام پیسے سے نہیں جذبے سے ہوتے ہیں - ہمیں ایسے دوستوں کی تلاش ہے - جن
کے دل میں جذبہ ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایمان کی شرط
اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ناموس رسالت پہ قتل کرنے والا بریلوی ہو , دیو بندی ہو , شیعہ ہو یا اہلحدیث -
ہماری اصل کمزوری فرقہ پرستی ہے , جس کی وجہ سے ہم اصولی باتوں پہ بھی مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں - اور قابل تحسین کاموں پہ بھی کھل کر سامنے نہیں آتے -
ناموس رسالت سب کے ایمان کا حصہ ہے , اور اس پہ کوئی بھی دوسری راۓ , ایمان کی کمزوری ہے.
آزاد ہاشمی
کیا ہم اسلامی مملکت ہیں
اسلامی نظام میں حکمران کے لئے جو شرائط ہیں ان میں سے کتنی شرائط پہ ہمارے حکمران پورے اترتے ہیں - عدلیہ کے کتنے جج ہیں جو اسلامی شرائط پہ جج ہونے کی اہلیت رکھتے ہیں - انتظامی ڈھانچہ کی کونسی کل ایسی ہے جو اسلام سے ہم آہنگ ہے - ہماری تعلیم کا نظام بھی مکمل طور پر غیر اسلامی طرز پہ قائم ہے - ہمارا قانون بھی کسی طور بھی اسلامی نہیں - ہمارا نظام معیشت بھی سود پر قائم ہے -جب یہ سب کچھ غیر اسلامی ہے تو دستور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھ لینے سے کیا حاصل ہے - ہمارے مذہبی رہنما انہی اسمبلیوں میں اسی غیر اسلامی نظام کا حصہ بن کر بیٹھے ہیں - آج تک کس مذہبی لیڈر نے اس نظام پہ تحریک پیش کی , یا کوئی بل سامنے لایا گیا - کسی نے کبھی یہ آواز نہیں اٹھائی کہ سربراہ مملکت کے انتخاب میں اسلامی طریقه اپنایا جاے -دیکھنا صرف یہ ہے کہ کیا ہم اسلامی نظام کے نفاز کیلیے سنجیدہ ہیں یا نہیں - اگر نہیں تو خدا را قوم کو فرقہ پرستی اور گروہی آگ میں نہ گھسیٹیں - کم از کم اخوت اور یگانگت کو زندہ رہنے دیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایک محقق
تو حضرت فرماتے ہیں کہ ممتاز قادری نے دو بڑے جرم کیۓ , ایک یہ کہ قران میں لکھا ہے کہ کسی کو نا حق قتل کرنا پوری انسانیت کا قتل ہے - قران کا فیصلہ کون جھٹلا سکتا ہے - مگر جو قران کے احکامات کو جھٹلاۓ , الله کے احکامات کا منکر ہو , اور الله کے حبیب کی شان میں گستاخی کرے , تو کیا یہ قتل نا حق ہو گا -
حضرت فرماتے ہیں کہ دوسرا جرم یہ ہے کہ اس نے اپنے حلف سے انحراف کیا - ہم سب نے مسلمان ہونے کا اقرار کر کے ایک حلف الله سے اٹھا رکھا ہے , کہ ہم اپنی جان , مال , اولاد , ماں باپ , غرضیکہ ہر چیز سے زیادہ محبت رسول پاک سے رکھیں گے - ہم نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ جب ہمارے دین , ایمان کا تقاضہ ہو گا , ہم تلوار بھی اٹھائیں گے اور کفر کا راستہ روکیں گے -
باقی سارے حلف اسکے بعد ہیں -
میں ایک سوال حضرت سے پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں , کہ کتنے لوگ مذھب کے نام پہ قتل کر کے آزاد ہو گئے , کتنے لوگ سالوں سے سزاے موت سن کر آج بھی زندہ ہیں - حضرت سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ہمارا قانون اسلامی قانون سے مطابقت رکھتا ہے - کیا ہمارے جج اسلام کی شرائط پہ پورے اترتے ہیں - کیا اسلام گناہ کبیرہ کے مرتکب کو حکمرانی کی اجازت دیتا ہے -
شاید بہت سارے سوالوں کا جواب نہیں میں ہو گا -
آزاد ہاشمی
کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں
ایسا ہی رشتہ میری زندگی کی کتاب کی ایک کہانی بن گیا - وہ ایک با وقار افسر اور ذہین نوجوان ہے - نہ گردن میں افسرانہ اکڑ , نہ لہجے میں تیکھا پن - ہر ضرورت مند کی مدد کے لئے تیار - گفتار میں مٹھاس - نوجوانی میں بھی مکمل سنجیدگی - ایسی بہت ساری خوبیوں نے اسے میرے اپنے بچوں کی طرح میرے روح کا حصہ بنا دیا -
ایک تذبذب پہلے دن سے میرے لئے سوال تھا کہ جب بھی بات ہوتی , وہ بات کرتے کرتے کہیں گم ہو جاتا - میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کسی دن یہ راز جاننے کی کوشش کروں گا - دو دن پہلے جب یہ راز پتہ چلا تو میں خود بھی اسی کیفیت کا شکر ہو گیا - اس کے دل پہ ایک ایسا گہرا گھاؤ تھا , جس درد کسی بھی علاج سے نہیں رکتی - اسکی دو بہنیں , عروسی لباس میں , چند منٹوں کے اندر , اسکی نظروں کے سامنے جل گئیں - وہ کچھ نہیں کر سکا - پھول جیسی بچیاں یوں جل کر راکھ ہو جایں گی - اور بھی عروسی لباس میں - ایک قیامت گزر گئی پورے گھر پہ - ماں مبہوت ہوۓ بچیوں کے عروسی لباسوں کی جگہ کفن دیکھ رہی تھی - چاہوں بھی تو درد کی کیفیت نہیں لکھ سکتا - ایسے درد ہر پیمانے سے باہر ہوتے ہیں -
اب سوچتا ہوں , اس گھر میں کبھی کوئی شہنائی نہیں بجے گی , جب بھی کوئی شادی ہوتی ہو گی , ماں مر جاتی ہو گی - بہن بھائی آنسو نہیں روک پاتے ہوں گے -
اب اسکا فون آتا ہے تو ڈرتا ہوں کہ کیسے ہنسی خوشی کی باتیں کروں گا - کیسے اسکے زخموں کی درد بانٹوں گا -
الله ! سے وہ ہمت مانگ رہا ہوں کہ اپنے اس رشتے کی لاج نبھا سکوں - وہ مرہم مل جاے جو اسکے زخم پہ رکھ سکوں -
الله سے وہ سکون مانگ رہا ہوں جو اس گھر کو ضرورت ہے -
الله سے انصاف مانگ رہا ہوں - بچیوں کے لئے جنّت کے بلند مقام مانگ رہا ہوں -
گھر والوں کے لئے وہ نعمتیں مانگ رہا ہوں , جو اس زخم کی درد مٹا دیں - الله کریم بھی ہے قدیر بھی -
وہ ضرور سنے گا -
آزاد ہاشمی
ابا , مت رویا کر
" کیا فرق پڑتا ابا , اگر تو بھی ایمانداری کے جنون کو چھوڑ دیتا - کیا دیا ہمیں تیری دیانتداری نے "
وہ ایک دیانتدار افسر تھا , جس نے اپنی پوری زندگی کسی سے ایک تحفہ بھی لینا حرام سمجھا - یہ سن کر ماں آگے بڑھی, بیٹی کو ممتا کی ٹھنڈک دینے کے لئے سینے سے لگایا , تو بیٹی کی چیخ نکل گئی -
" ماں تجھے تو بہت تیز بخار ہے , بتایا کیوں نہیں "
" بیٹا ! میں تیری ماں ہوں , جانتی ہوں ہر روز ڈیوٹی پہ جاتے تیری آنکھیں کیوں بھیگ جاتی ہیں - کیا کروں بیٹا , ہم اکیلے ہو گئے ہیں "
" ماں دفتر کا ہر شخص مجھے نوچ کھانا چاہتا ہے - سب بلا وجہ ڈانٹتے رہتے ہیں - سب کو دوستی چاہیے میری - کوئی نہیں جو مجھے بہن یا بیٹی کی نظر سے دیکھے - کل میری دوسری ساتھی کہہ رہی تھی - دفتروں کا طریقه سیکھ لو , خوش رہو گی "
باپ چارپائی پر بیٹی کی باتیں سن رہا تھا - اور بیٹی کی طرف ہاتھ جوڑے کچھ کہہ رہا تھا - معصوم بچے کی طرح روتے ہوے باپ کے قدموں سے چپک کر اسکی آنکھوں کا سمندر بھی کناروں سے اچھل رہا تھا -
" نہیں ابا , مت رویا کر - مجھے آپ پہ فخر ہے "
یہ کہہ کر وہ درندوں کے جنگل کی طرف نکل پڑی - اسکے لئے ضروری تھا کیونکہ اسے اپنے مجبور ماں باپ کو زندہ رکھنا تھا - وہ ایک بے حس معاشرے میں رہ رہے تھے - جہاں کوئی غریب کا رشتے دار نہیں ہوتا - جہاں غرض کے پجاری بستے ہیں - جہاں ہر لڑکی کو آوارہ سمجھنے والوں کا راج ہے - جہاں صرف اپنی بیٹی ہی بیٹی ہوتی ہے , اپنی بہن ہی بہن ہوتی ہے , اپنی ماں ہی ماں ہوتی ہے - یہ ہوس کے مارے ہوے لوگ اخلاقیات سے بہت دور ہو چکے ہیں - سمجھتے ہی نہیں کہ انہی بازاروں میں , انہی دفتروں میں , انہی پارکوں اور سڑکوں پہ انکی اپنی بہن بیٹیاں بھی چلتی پھرتی ہیں - کون جانے کہ ایک دفتر میں کام کرنے والی لڑکی کی کیا مجبوری ہو -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ہمارے بیورو کریٹس
یہ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے , کہ ہمارے بیورو کریٹس کی کچھ یہی کیفیت ہوتی ہے - بیچارے جب تک ڈیوٹی پہ ہوتے ہیں تو صرف سامنے دیکھ سکتے ہیں یا پھر بالکل دیکھ ہی نہیں سکتے - ایک چابک یا ایک سیٹی کے اشارے پہ چلتے رہتے ہیں - نہ کوئی اپنی راۓ ہوتی ہے نہ کچھ سوچنے سمجھنے کی اجازت -
اور جب نوکری کا وقت ختم ہو جاتا ہے , تو پھر سوچنے لگتے ہیں اور قوم کا درد بہت شدت سے انکے سینے میں ہونے لگتا ہے - پھر قانون بھی یاد آنے لگتا ہے , اور ایمان کے تقاضے بھی ازبر ہو جاتے ہیں -
یہ بیورو کریٹ ایسا کیوں کرتے ہیں , اسکی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان میں اکثر سفارشی ہوتے ہیں , کچھ سیاسی لوگوں کے عزیز رشتہ دار ہوتے ہیں اور کچھ راشی -
یہ ہے وہ دیمک جس نے پورے سسٹم کی بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں - نہ کوئی عدل ہے نہ کوئی انصاف - عدالتوں میں اکثر فیصلے قانون کی کتابوں سے نہیں ججز کی صوابدید سے ہوتے ہیں - یہی سبب ہے کہ قصور وار چھوٹ جاتا ہے اور بے قصور کو لٹکنا پڑتا ہے -
کون ہے جو اس ساری دیمک کو مٹا سکے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایک اہم سازش
ایسی لغویات کبھی عیسائیت , یہودیت , بدھ مت , ہندو آزم یا کسی بھی مذھب کے بارے میں دکھائی نہیں دیتیں - یہ محض اسلیے کیا جا رہا ہے کہ آنے والے وقت میں اسے اسلامی اقدار کو بدنام کرنے کیلیے بطور ثبوت پیش کیا جا سکے -
ہم نے فرقہ بندی , گروہی عقائد میں پہلے ہی ایسی بحثوں کا آغاز کر رکھا ہے , جس سے اسلامی رحجان میں بہتری کی بجاے کمی آئ ہے - ہم نے ساری قوت اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر قرار دینے میں لگا رکھی ہے - اس نے اسلام دشمنوں کو تقویت دی اور آج یہ صورت حال ہے کہ ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اسلام مخالف پروپگنڈا کر رہا ہے - اہستہ اہستہ ہمیں سمجھ ہی نہیں ایگا کہ ہماری منزل کدھر ہے - یہ وہ اہم مسلہ ہے جسے علماء کو , مذہبی طالبعلموں کو , مذھب سے وابستہ سکالرز کو اور تمام دانشوروں کو بحثیت قوم دیکھنا ہو گا - یہ ایک ایسی سازش ہے جو مسلمانوں کے نام سے مسلمانوں کے خلاف پورے شد و مد سے شروع ہے -
الله مجھے اور آپکو توفیق بخشے کہ اس سازش کے خلاف اپنا اپنا کردار ادا کر سکیں -
آمین
آزاد ہاشمی
خلوص کی پہچان
یہ وہ کردار تھا جسے , ختم کرنا یا تبدیل کرنا بالکل ایسے ہے تھا جیسے دریا کے پانی کو الٹا بہایا جاے - انکی یہی اصول پرستی ہے جو انکو کبھی بھی , کسی بھی حال میں متزلزل نہیں کرتی - کوئی خوف , کوئی لالچ , کوئی ترغیب اپنے رستے سے ہٹا نہیں سکتی - انکی جرات کو جہالت سمجھنا اور ارادوں کو قدامت پرستی کہنا , ان لوگوں کا شیوہ ہے جو خود کسی بھی قیمت پہ بک جاتے ہیں - جن کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا , جو حیا اور بے حیائی میں تمیز نہیں جانتے , جن کے آباؤ اجداد کے کردار مشکوک رہے ہیں - ایک ملاله کی تضحیک جن کو نئی اقدار کی ترقی نظر آتی ہے - انہیں تاریخ سے آگاہی ہی نہیں , کہ یہی وہ پتھر کے دور کے لوگ تھے جو کفر سے جب بھی بر سر پیکار ہوۓ , کفر کو ذلت ملی - یہی وہ پتھر کے دور کے لوگ ہیں , جنہوں نے وطن کی حفاظت میں ہمیشہ پہل کی , یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسلامی اقدار کو سینے سے لگاے رکھا - سلام ہے ان پتھر کے زمانے کے لوگوں کو -
کاش ہم بحثیت قوم ایسے ہی پتھر کے زمانے کے لوگ بن جاتے - پھر نہ کوئی اسلام کی تضحیک کرتا , نہ کوئی گستاخ رسول ہوتا , نہ ہماری بہن بیٹیاں بازاروں میں بے پردہ گھومتیں - اور نہ ہی بے راہروی اتنی عام ہوتی -
کاش ہم بھی پتھر کے زمانے کا لوگ ہو سکیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
برات کی رات
کائنات کا مالک ہر مانگنے والے کی مرادیں پوری کرنے پر راضی ہے - ہر گناہگار کی توبہ , ہر زاہد کا زہد , ہر عابد کی عبادت قبول کرنے کا وعدہ کیے ہوے ہے -
آج مالک مطلق کی رحمتوں کا سمندر موجزن ہے - آئیے اپنے رحیم و کریم کے سامنے خالی جھولی پھیلائیں اور رحمتوں سے بھر لیں - اپنی خطاؤں کو بخشوانے کا سما ہے - آج دنیا کے طلبگار دنیا مانگیں گے , اور الله کے بندے الله کی رضا کی بھیک کے طلبگار ہونگے - دینے والا وہ سب دے گا , جو کسی کی تمنا ہو گی -
کیوں نہ الله کی رضا مانگ لیں , کیوں نہ اسکی محبت مانگ لیں , کیوں نہ اسکے حبیب کی لگن مانگ لیں , کیوں نہ اسکا ذکر کرنے والی زبان مانگ لیں , کیوں نہ اسی سے ڈرنے والا دل مانگ لیں , کیوں نہ اسکے دامنے جھکنے والا سر مانگ لیں , کیوں نہ اسکی راہ میں چلنے والے قدم مانگ لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
چیف جسٹس صاحب کو تشویش
" نہ جانے بری طرز حکومت اور کرپشن کا خاتمہ کب ہو گا - اور گڈ گورنس کب آئیگی "
ایسی معصوم سی آرزو سن کر نہ تعجب کیا جا سکتا ہے نہ شکایت - ہمارے جسٹس صاحب بھی کتنے سادہ ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ جس بڑی کرسی پہ وہ خود بیٹھتے ہیں - وہاں سے عدل کا آغاز ہوتا ہے اور یہیں سے برے لوگوں کا راستہ روکا جاتا ہے - ساری زندگی جرم و سزا سے کھیلنے کے بعد بھی محترم کو پتہ ہی نہیں چلا کہ انکے فرائض کیا تھے اور کیا ہیں - انکی یاد داشت بھی کچھ اچھی نہیں لگتی کہ ابھی چند ہی ماہ پہلے ایک ایاز صادق کو دھاندلی پر نا اہل کیا گیا اور پھر اسی شخص کو دوبارہ اسی سیٹ پہ بٹھا دیا گیا - یہ بھی موصوف کے بھائی لوگ جسٹس ہی تھے - اگر الله سے مانگنا ہے تو با کردار عدالتیں مانگیں گڈ گورنس بھی آ جاۓگی اور حکومتی معاملات بھی ٹھیک ہو جاینگے - موصوف اسی گنگا میں اشنان کر کے خود کو بیانات سے کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
" اس بار عید پہ
چند دن بعد عید کا دن ہو گا ,ہر آنگن میں خوشی کا اہتمام ہو گا - زرق برق لباس , مہندی , چوڑیاں , خوشبوئیں , عیدی اور مسکراہٹیں , معانقے اور دعوتیں ہوں گی - ماتحت اپنے افسران کے گھروں میں تحفے اور مٹھائیاں لے کر جاینگے - لیڈر جھوٹی مسکراہٹیں بانٹتے پھریں گے - اخبارات اور میڈیا پر خیرات کے سیشن بھی ہونگے -
ایسی خوشی میں چند گھروں میں آنسو اور اداسی ہو گی - وہ بچے جن کے باپ دہشت اور ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے , وہ سہاگنیں جن سے سہاگ چھن گئے , وہ مائیں جن کے لخت جگر مٹی میں جا سوے - در و دیوار کو حسرت سے دیکھ رہی ہونگی -
ایسے تہوار پہ کونوں پہ کھڑے , پراگندہ لباس پہنے , قمیض کا دامن مروڑتے ہوۓ , چند معصوم بھی ہونگے - جنھیں نہ کوئی عیدی دینے والا ہو گا , نہ سینے سے چپکانے کو کوئی آگے بڑھے گا -
عید کی نماز پہ آخری صفوں پہ کھڑے غریب بھی ہونگے جو خطبہ ختم ہوتے ہی کھسک لیں گے - کیونکہ انہیں پتہ ہے ان سے کوئی بغلگیر نہیں ہو گا -
ایسے سفید پوش بھی ہونگے جو اپنا بھرم بچانے کی فکر میں لگے ہوں گے -
کیا اچھا ہو , اس عید پہ رسمیں بدل ڈالیں - اپنے ارد گرد میں , ہر آنگن میں عید ہی عید ہو جاے - صرف فطرانہ بانٹ کر بری الذمہ نہ ہوا جاے - بہت قیمتی نہ سہی عام سے لباس غریب بچوں کے تن پہ پہنا دیے جایئں - عید کے لئے کھانے پینے کے لوازمات ان گھروں میں پہنچا دیے جو ہمارے ارد گرد ہیں -
کسی گھر میں بھائی بن کر , کسی ماں کا بیٹا بن کر -
ایک نئی رسم ڈال دی جاے کہ پہلے آخری صفوں کے غریبوں کو سینے سے لگائیں - اب کے مٹھائیوں کے ڈبے غریبوں کے گھروں میں جایں - افسران کی چاپلوسی کیلیے نہیں - اس عید کا لطف شاید پہلے کبھی کسی عید پہ نہیں آیا ہو گا - ایک استراحت جو پہلے کبھی محسوس نہیں کی ہو گی اس عید پہ ملے گی - مایوس چہروں پہ پھیلی ہوئی خوشی دیکھ کر جو عید ہو گی - حقیقی عید ہو گی -
آئیے اس رسم کو شروع کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایک سجدہ
اے کائنات کے خالق و مالک !
اے رحمتوں کی بارش کرنے والے رحیم و کریم !
اے میری خطاؤں اور لغزشوں کو در گزر کرنے والے غفور و رحیم !
اے بن مانگے دینے والے غنی !
ہمیشہ میری جھولی کی وسعت سے زیادہ ملا - میں تیرا شکر کا حق بھی ادا نہیں کر سکتا - ہر امتحان میں تیری مدد میرے ساتھ رہی , یہ احسان میرا حق نہیں تیرا فضل ہے -
میں سجدوں کو حق عبادت سمجھتا رہا اور مطمئن ہوتا رہا - کبھی غور ہی نہیں کیا کہ ان سجدوں میں بھی دنیا کی طلب تھی - جب بھی جھکا مانگنے کے لئے -
اپنے دکھاوے کی عبادت بھی گن گن کر کی اور منافع کے ساتھ صلہ چاہا -
یہ میری فطرت کی کمزوری تھی , خود غرضی تھی -
اے الله اب بھی مانگنے ہی کی طلب ہے - جانتا ہوں کہ تو مانگنے والے کو پسند فرماتا ہے - میں بھی تجھ سے مانگ کر خوش ہوتا ہوں - میری طلب تو بن مانگے بھی پوری ہوتی رہی , تو نے وہ بھی دیا جو میں نے کبھی مانگا ہی نہیں - یہ تیرا کرم ہے - مجھے شکر گزار بنا دے -
اے میرے مالک ! مجھے ایک ایسا سجدہ عطا فرما , جو تیری قبولیت , تیری رضا , تیرے پیاروں کے سجدوں جیسا ہو - جو میرے من کی ساری میل کچیل دھو ڈالے - جو میرے تمام گناہوں کی معافی بن جاے - جو میری زندگی بھر کی ریا سے آلودہ عبادت کو قبولیت بخش دے -
اے الله ! ایک سجدہ , جو آنے والے ہر سجدے میں تیری رضا کا سبب ہو جاے -
آمین
آزاد ہاشمی
ہم اور ہماری خارجہ پالیسی "
ہم سب شکایت کرتے ہیں کہ انڈیا ہر میدان میں پاکستان سے بازی لئے جا رہا ہے - تجارت میں قریب قریب دنیا کی ساری مارکیٹوں سے پاکستان نکل چکا ہے - پچھلے کئی سال سے چاول جیسی جنس گوداموں میں پڑی ہے کوئی خریدار نہیں - اگر کوئی ہے تو انڈیا کے تاجر - باہمی تعلقات میں ہمارے بہترین دوست ممالک بھی رحجان بدل رہے ہیں - یوں لگتا ہے کہ چند سال میں ہم دیوار کے ساتھ لگ جایئں گے - ہماری پہچان صرف اور صرف ایک فسادی , دہشت گرد قوم کے سوا کچھ نہیں ہو گی - ظاہر ہے جب گاہک نہیں ہو گا , تجارت ختم ہو جایئگی , معاشی بدحالی کو روکنا ممکن نہیں ہو گا - اگر اسباب پر نظر کی جاے تو ہر زبان پہ ایک ہی فقرہ ہو گا - کہ ہمارے سفارتی ادارے نا اہل ہیں -
بات یہ بھی غلط نہیں , اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے سفیروں کے پاس کوئی ایسا مشن نہیں ہوتا , جس سے کوئی ملکی مفادات ہوں یا وہاں پہ ہموطنوں کیلیے کوئی منصوبہ ہو - نہ جانے وہ کونسے خفیہ مشن ہوتے ہیں جن کیلیے بھاری اخراجات ملکی وسائل پہ ڈالے جاتے ہیں - اگر مزید گہرائی میں جایں تو یہ بھی حقیقت ہے کہ جسقدر دوسری کمیونٹی متحرک ہوتی ہیں اور اپنی قومی مفادات سے مخلص ہوتی ہیں - ہم اتنے مخلص نہ انفرادی طور پہ ہیں نہ اجتماعی طور پہ -
ایسی قوم کا پیچھے رہ جانا کوئی اچنبھا نہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ہمارے حکمران
باب العلم حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:
” ھر وہ شخص جسکی تمام کوشش پیٹ بھرنے کے لئے ھے اسکی قیمت اتنی ھی ھے جو اس کے پیٹ سے خارج ھوتی ھے “
یہ ہے ہمارے حکمرانوں کی اصلیت - اور یہ ہے انکی اوقات - کبھی سوچا ہم لوگوں نے کہ جن لوگوں کو ہم ووٹ دیتے ہیں , اور جو لوگ کسی مستحق کے ہاتھ پہ ایک کوڑی نہیں رکھتے - ابھی رمضان کا مبارک مہینہ گزرا , ان سیاسی لوگوں میں کتنے ہیں جنہوں نے حقوق العباد پورے کیے - کتنے ہیں جنہوں نے کسی یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھا - کتنے ہیں جنہوں نے اپنے اثاثوں کی زکوات ادا کی - کتنے ہیں جو پسماندہ علاقوں میں عید پہ سامان خورد و نوش لے کر گیے -
یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار تک جانے کیلیے کروڑوں خرچ کر ڈالتے ہیں - کیوں -
اگر صرف اس کیوں کا جواب تلاش کریں تو سمجھ آ جائیگی , کہ یہ سب تاجر ہیں , جو وطن کی مٹی , عوام کی حرمت , اپنی غیرت اور قوم کی مجبوریوں کو بیچتے ہیں - اسلام کے دشمنوں سے بھیک مانگتے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرتے چلے جاتے ہیں - انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ سر بازار انکی کتنی رسوائی ہے - کوئی کچھ کہہ لے انہیں فکر ہی نہیں - یہ ایک منافق کی کھلی نشانی ہے کہ وہ غیرت مند بھی نہیں ہوتا اور بہادر بھی نہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
تالیاں بجانے والی قوم
وہ قومیں کبھی مسائل کے دلدل سے نہیں نکلا کرتیں , جو احتساب سے نا واقف ہوتی ہیں - جو اپنے مستقبل کی فکر چھوڑ دیتی ہیں - جو گردنیں ظلم کے سامنے جھک جائیں , ایک روز تن سے جدا کر دی جاتی ہیں-ّ ہمارا مذھب ہر برائی کو روکنے اور ہر اچھائی کا ساتھ دینے کا حکم دیتا ہے - مگر ہم نے دین کا رستہ ہی چھوڑ دیا - چوروں کے ہاتھ کاٹنے کو ظلم کہہ دیا اور وہی چور رہزن بن کر ہمیں ہی نہیں ہمارے وطن کی مٹی کو لوٹنے لگے - وہ مٹی جس کی حفاظت ہمارا فرض بھی ہے اور لوٹنے والے کو روکنا جہاد بھی - مگر ہم وہ قوم ہیں جو نہ فرض سے آگاہ ہیں , نہ حقوق سے - ہم نے دو لفظ کی گردان سیکھ لی -
ہر آنے والا " زندہ باد "
ہر جانے والا " مردہ باد "
اور ایک کام سیکھ لیا -
تالیاں بجانا - چور ہو یا قومی لٹیرا , زانی ہو یا شرابی , غنڈہ ہو یا بد معاش - کچھ بھی ہو اگر ہمارا لیڈر ہے تو ہم تالیاں بجاتے ہیں - بھلے وہ دوسروں کی پگڑی اچھالے , بد گوئی کرے , جھوٹ بولے - سر عام نا زیبا حرکات کرے -
ہم تالیاں بجائیں گے -
ایسی قوم کا آنے والا کل بھیانک نہیں ہو گا تو کیا ہو گا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
ایک تھا بادشاہ
یہ بہت پرانے زمانے کی کہانی نہیں - آج کی کہانی ہے - عجیب انسان تھا , عجیب حکمران تھا - نہ کوئی پروٹوکول نہ محافظ , نہ کوئی کرسی , نہ کوئی وزیر نہ کابینہ - نہ ہاتھ میں گھڑی نہ جیب میں پیسہ -
کبھی کسی سڑک پہ کبھی کسی چوک پہ , چادر پھیلاۓ بھیک مانگ رہا ہے - بے سہارا , غریب , یتیم اور مریضوں کے لئے -
مانگ رہا تھا وہ فرض نبھانے کے لئے جو اس پر واجب ہی نہیں تھے -
ہر لمحۂ اپنی جمہور کی فکر - نہ ووٹ کا لالچ نہ اقتدار کی حرص - اسکی عوام , اسکا خاندان ہر غریب , ہر بے کس , ہر یتیم , ہر بیمار - نہ مذھب کی حد بندی , نہ عمر کی قید -
ایک لباس , روکھی سوکھی خوراک , بس ایک ہی دھن , ایک ہی لگن , ایک ہی شوق -
خدمت -
آج کسی لکھاری کے پاس وہ لفظ ہی نہیں , جو اس بادشاہ کی خدمت کا اظہار کر سکیں -
احترام کی جو دولت اسکو نصیب ہوئی کسی بھی اقتدار پہ نہیں ملتی - آج کون ایسا دل ہے جو اسکے بچھڑنے پہ دکھی نہیں - کون ایسی زبان ہے جس کے پاس شکایت کا ایک لفظ ہو -
یہ وہ بادشاہ اگر دل مانگتا تو لاکھوں سینے دل سے خالی ہو کر دل پیش کرتے -
اپنے لئے زندگی بھی نہیں مانگی -
یہ آج کا بادشاہ , عبدالستار ایدھی !
دلوں میں بھی زندہ ,تاریخ میں بھی -
الله تیری مرقد پہ رحمتوں کی بارش کرے - آمین
آزاد ہاشمی
" ناکارہ لوگوں کے مشاغل
ہماری ذہنی پستی کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ ہم بحث و تمحیص کیلیۓ کسی بھی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں - حقائق کو نظر انداز کر کے شخصی معاملات کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں -
ایک عظیم انسان کی موت نے ہر دل کو اداس کیا - جب تک اسکی سانس باقی رہی کوئی ایک زبان اسکے مذہبی , ذاتی یا سماجی کردار کی نفی نہیں کر سکی - تعجب اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پہ ایک مذہبی مفکر سمجھے جانے والے حضرت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرحوم کسی بھی طور پر اسلام سے آگاہ ہی نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی ارکان کو اہمیت دیتے تھے - انہوں نے اپنے دلائل کے حق میں بہت سی کڑیاں بھی جوڑ دیں -
ایک دوسری بحث یہ شروع ہو گئی ہے کہ مرحوم نے آنکھوں کا عطیہ دے کر غیر اسلامی کام کیا ہے -
سمجھ نہیں آتا کہ ان جیسے موضوعات سے اسلام کی خدمت ہو گی , یا مرحوم کی خدمات کو رد کرنا مقصود ہے -
اسکی مذہبی فکر یا اعمال کا تعلق الله اور اسکے درمیان ہے - جو اس نے حقوق العباد کیلیۓ کیا , ایسا کام ہے جو صدیوں تک یاد رہے گا - قبولیت کا کیا کم ثبوت ہے , کہ الله نے اس شان سے قبر تک پہنچایا , جو شاہوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی -
ناکارہ لوگوں کا فطری طور پر مزاج حاسدانہ بھی ہو جاتا ہے - انہیں اچھا کام بھی متاثر نہیں کرتا -
خدا را مذھب کی خدمت کا پہلا کام یہ ہے کہ کافروں کے نظام کی جڑیں کاٹنے پر پوری توجہ دو - میرا ایمان ہے الله کسی سے نہیں پوچھے گا کہ ایدھی مرحوم کا مذہبی فکر کیا تھا , اسکی آنکھیں تو مٹی کی امانت تھیں , کسی زندہ انسان کو کیوں دیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
سر داد نہ داد دست در دست یزید "
ہمارے انتہائی پڑھے لکھے لوگ بھی یہی سوال کرتے ہیں , کہ انقلاب کیسے ممکن ہے - کچھ یوں لگتا ہے کہ ہم انقلاب کے مفہوم سے ہی نا بلد ہو گئے ہیں - حکومت کو بدلنا انقلاب ہے تو یہ عمل ہر پانچ سال بعد دہرا دیا جاتا ہے - انقلاب برائی کو ختم کر کے اچھائی کو لانے کا نام ہے - اسکا طریقه سینکڑوں سال پہلے امام حسین علیہ السلام نے یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دینے سے سمجھا دیا - یزید ایک حکمران کا نہیں ایک کردار کا نام ہے - جس کی اطاعت نہ کرنا , انقلاب کی بنیاد بنتا ہے - اور اسکے اثرات کیا ہوتے ہیں , اسکی قیمت کیا ہوتی ہے , اسکے لئے کیا جذبہ ہوتا ہے - یہ سیکھنے کیلیے کربلا ہی کافی ہے - ہمیں چہرے نہیں کردار بدلنا ہے - اپنا بھی , اپنے ہمراہیوں کا بھی اور حکمرانوں کا بھی - قیمت کچھ بھی ہو انقلاب کیلیے ادا کرنا ہو گی - یہی جہاد ہے یہی رضاے الہی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
آخر وہ کونسی قابلیت ہے "
ہمارے حکمران مراعات کے طور پر کروڑوں روپے لیتے ہیں - سوچتا ہوں آخر وہ کونسی سی قابلیت ہے , جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے اور وہ صرف انہی کے پاس ہے -
آپ دیانتداری سے سوچیں کہ ان سیاسی لوگوں کو اگر بیرون ملک نوکری تلاش کرنی پڑے تو کتنے ہیں جن کو مینجر کی سیٹ کا اہل سمجھا جایئگا -
کیا یہ قوم کو جمہوریت کی طرف سے ملنے والی سزا نہیں -
کیا یہ الله کی نا راضگی کا نشان نہیں -
سمجھ نہیں آتا کہ ہم بحثیت قوم اتنے جاہل ہو گئے ہیں کہ ہم ووٹ دیتے وقت سوچتے ہی نہیں - کہ جن کے ہاتھوں میں ہم اپنا اور اپنی نسلوں کا مستقبل دے رہے ہیں , وہ کس قماش کے لوگ ہیں -
جمہوریت کے پجاریوں سے پوچھنا چاہوں گا , کہ اس دیوی نے آخر وہ کونسا چمتکار دکھایا پچھلے سارے عرصے میں -
کیا ایسے ہی لوگ ہمارے سروں پر نہیں بیٹھے رہے , جنہوں نے اپنے اپنے دور میں اقربا پروری کر کے پورے نظام پہ نا اہل لوگ بٹھا دیے - آج نہ عدل ہے نہ انصاف - کوئی فرد محفوظ نہیں - تھانے شرفا کیلیے عقوبت خانے اور غنڈوں کیلیے پناہیں بن چکے ہیں - قاضی عدل کی منڈی لگاے بیٹھے ہیں - کونسا ادارہ ہے جہاں انہی سیاسی خاندانوں کے لوگ حکمرانی نہیں کر رہے -
عقل کی اندھی قوم کیوں نہیں پوچھتی , کہ بھائی تم قوم کی خدمت کو اے تھے یہ مراعات کس لئے -
کیوں نہیں پوچھتی ان ممبران اسمبلی سے کہ وہ احتساب کی آواز کیوں نہیں اٹھاتے -
سب جانتے ہیں کہ سب کے سب ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں - سب کے دو روپ ہیں , ایک اصلی دوسرا سیاسی -
خدا کے لئے جمہوریت کی دیوی کو پہچانو - پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
دوستوں کا سوال "
اکثر دوست پوچھتے ہیں کہ موجودہ نظام کی تبدیلی کیسے ممکن ہے - کچھ یقین کیۓ بیٹھے ہیں ,کہ اب تبدیلی کا قطعی امکان نہیں - کچھ کسی طاقتور مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں - کچھ خود بھی مایوس ہیں اور دوسروں کو بھی مایوس کر رہے ہیں کہ اب یہی قوم کا مقدر ہے -
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب , کوئی بھی تبدیلی لانے میں چند لوگوں کا کردار ہی ہوا کرتا ہے - اور وہ چند لوگ عام سطح کے ہوتے ہیں - کسی اشرافیہ سے نہیں ہوتے - یہ حقیقت ہے کہ اس نظام کا زہر ہماری رگ رگ کو قابو کر چکا ہے - ہمارے علماء , ہمارے محقق , دانشور , قانون دان , استاد , سیاستدان , فوجی اور دیگر اداروں کے لوگ , اس موزی مرض کا شکار ہیں - اپنے دین , مذھب , ایمان اور روایات کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے - جمہوریت کے خلاف بولنا ملک دشمنی بن جاتا ہے -
اس سب صورت حال کے باوجود اس مرض کا علاج آسان بھی ہے اور ممکن بھی -
اسکا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ جو اس نظام کو پسند نہیں کرتے , وہ کسی- جمہوری عمل کا حصہ نہ بنیں -
دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ اپنے احباب کو اسی تحریک میں شامل کیا جایئے -
تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ انتخاب کی کسی بھی سرگرمی میں بطور شغل بھی شمولیت نہ کی جائے -
یہ وہ پہلا قدم ہے , جو مشن کو تقویت دے گا - اسے دیکھ کر بہت سارے کونوں سے , دانشور بھی نکل آئیں گے - میڈیا سے بھی ابن الوقت حصہ ڈال دیں گے - پٹے ہوے ساستدان بھی ہمنوا ہو جائیں گے -
خوف کی فضا بدل جاے گی - اور دیوانوں کے خوابوں کی تعبیر قریب ہو جائیگی - گونگوں کو زبان ملنا ضروری ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

