اکثر دوستوں کا مشاہدہ ہو گا کہ دیہاتی سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کا
معیار کیا ہوتا ہے - خصوصی طور پر پسماندہ علاقوں کے سکولوں میں ملنے والی
تعلیم کے بعد کوئی بھی بچہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ زندگی کی دوڑ میں آگے
نکل سکے - ان سکولوں سے آنے والے بچوں میں چند بچے کلرک بن جاتے ہیں یا کسی
محکمے میں سفارش اور رشوت دے کر معمولی سے عہدے پر ملازمت حاصل کر لیتے
ہیں - جس سے وہ نہ تو گھر کے اخراجات بخوبی پورے کر پاتے ہیں نہ اپنے بچوں
کو پڑھا سکتے ہیں - یہ سلسلہ نسل در نسل چل رہا ہے -
دوسرے نمبر پر یتیم اور غریب بچے جو اپنے تعلیمی حق سے محروم رہ جاتے ہیں , ہمارا قومی مسلہ بن چکا ہے , اس طرف کوئی بھی حکومت توجہ نہیں دے سکی , سیاستدان توجہ دیتے نہیں کیونکہ اگر تعلیم مساوی ہو گئی تو انکے لئے نعرے کون مارے گا - یہ غریب اور پسماندہ علاقوں کا مسلہ ہے , انہیں ہی سوچنا اور متحرک ہونا ہو گا - یا پھر اس جہاد میں ہر اس شخص کو آگے آنا ہو گا , جو اس درد کو محسوس کرتا ہے - بہت سارے کام پیسے سے نہیں جذبے سے ہوتے ہیں - ہمیں ایسے دوستوں کی تلاش ہے - جن
کے دل میں جذبہ ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
دوسرے نمبر پر یتیم اور غریب بچے جو اپنے تعلیمی حق سے محروم رہ جاتے ہیں , ہمارا قومی مسلہ بن چکا ہے , اس طرف کوئی بھی حکومت توجہ نہیں دے سکی , سیاستدان توجہ دیتے نہیں کیونکہ اگر تعلیم مساوی ہو گئی تو انکے لئے نعرے کون مارے گا - یہ غریب اور پسماندہ علاقوں کا مسلہ ہے , انہیں ہی سوچنا اور متحرک ہونا ہو گا - یا پھر اس جہاد میں ہر اس شخص کو آگے آنا ہو گا , جو اس درد کو محسوس کرتا ہے - بہت سارے کام پیسے سے نہیں جذبے سے ہوتے ہیں - ہمیں ایسے دوستوں کی تلاش ہے - جن
کے دل میں جذبہ ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment