ایک عام سوال جو ہر با شعور سوچ رہا ہے - کہ ہمارے وطن میں کونسا نظام
حکومت ہونا چاہیے - اس سوال کی ایک وجہ تو وہ مایوسی ہے جو ہمیں ہمارے
سیاسی مداریوں نے دے رکھی ہے - لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر جمہوریت
کا مطلب یہی ہے کہ بد کردار , نا اہل , بیرونی دنیا کے ایجنٹ اور دھاندلی
کی پیداوار قیادت ہمیشہ بھیس بدل بدل کر آنا ہے تو اس بہتر ہے کہ کوئی محب
وطن ڈکٹیٹر آ کر حکومت سنبھال لے - جمہوریت جو اگر غور سے دیکھا جاے - تو
تمام جمہوریت کے چیمپئن ملکوں میں دو پارٹیاں ہی باریاں لیتی رہتی ہیں - تمام چھوٹی جماعتیں یا تو چمچہ گیری کرتی ہیں , یا سودا بازی , یا پھر بلیک میلنگ - یہ ہے جمہوریت -
جمہوریت کی گود میں وزارتی نظام پلے یا صدارتی - ثمر ایک جیسا ہی ہو گا -
یہ سوال اٹھنے کی بڑی وجہ ہمارے مذہبی رہنماؤں اور مذہبی جماعتوں کی نا اہلی ہے , کیونکہ انہوں نے لوگوں میں اسلام کے وہ پہلو اجاگر ہی نہیں کیے کہ لوگ اسلام کو ایک مکمل نظام سمجھ لیتے اور جمہوریت کی بجاۓ الله کے نظام کو اختیار کر لیتے -
(آزاد ہاشمی )
جمہوریت کی گود میں وزارتی نظام پلے یا صدارتی - ثمر ایک جیسا ہی ہو گا -
یہ سوال اٹھنے کی بڑی وجہ ہمارے مذہبی رہنماؤں اور مذہبی جماعتوں کی نا اہلی ہے , کیونکہ انہوں نے لوگوں میں اسلام کے وہ پہلو اجاگر ہی نہیں کیے کہ لوگ اسلام کو ایک مکمل نظام سمجھ لیتے اور جمہوریت کی بجاۓ الله کے نظام کو اختیار کر لیتے -
(آزاد ہاشمی )
No comments:
Post a Comment