وہ دوستوں میں بیٹھا حسب معمول بیوی پر حکمرانی کے گر بتا رہا تھا -
" یار چھوڑو یہ سب ہوا میں قلعے بنا رہے ہو - میں نے بڑے بڑے سورمے بیوی کے سامنے بھیگی بلی بنتے دیکھے ہیں - ارے جب شیرنی گرجتی ہے تو ببر شیر بھی جھاڑی کی طرف چلنے لگتا ہے "
یہ قصہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ بیوی کو قابو کرنے کے گروں کے ماہر کا فون بجنے لگا - سکرین پہ کسی خاتون کی تصویر دیکھ کر اسکا رنگ فق ہو گیا -
" جی جی جی " یہی ایک لفظ تھا جو اسے یاد رہ گیا , زندگی میں سیکھی ہوئی ساری باتیں بھول گیا -
" بس پانچ منٹ میں آ جاتا ہوں - چائ بنا دی تھی , پراٹھے آ کے بناتا ہوں , آپ آج جلدی اٹھ گئے ہو , میں بازار آ گیا تھا آپ کے لئے سری پاے لانے کے لئے - بس یوں آیا "
سب دوست ہنس رہے تھے -
" ابھی جا کے سبق سکھاتا ہوں , اب فون پہ بد اخلاقی کرنا تو اچھا نہیں "
فون پھر بجا -
" جی جی , ٹھیک ہے , ٹھیک ہے , جیسے آپ کا من کرے - وہ برتن دھونے کا صابن نہیں تھا , ویسے بھی برتنوں کے شور سے آپکی آنکھ کھل جاتی ہے اسلیے - کپڑے میں نے بھگو دیے تھے "
کہانی کھل رہی تھی
" یار فون بند کر دو , اتنے گبھرانے سے بہتر ہے "
ایک دوست نے مشورہ دیا -
" ارے ! کیا کہہ رہے ہو. تمہاری بھابھی کا فون ہے - نہیں بند کر سکتا - بیوی کے حقوق کا سوال ہے - یہ اسکا حق ہے "
" اتنی صابر ہے - لاکھوں میں ایک , اسی لئے میں کبھی اسکی دل آزاری نہیں کرتا - جو کہتی ہے سن لیتا ہوں "
فون کی گھنٹی پھر بجی -
" جی جی , مجھے یاد نہیں رہا - آ کے پکا دیتا ہوں - آپ آرام کریں - آپکا ڈریس استری کر دیا رات کو "
کہانی کے سارے ورق کھل چکے تھے مگر وہ اب بھی یہی کہ رہا تھا -
" الله کا شکر کرتا کہ مجھے اتنی اچھی بیوی عطا کی "
بیچارے کی بیوی
آزاد ہاشمی
" یار چھوڑو یہ سب ہوا میں قلعے بنا رہے ہو - میں نے بڑے بڑے سورمے بیوی کے سامنے بھیگی بلی بنتے دیکھے ہیں - ارے جب شیرنی گرجتی ہے تو ببر شیر بھی جھاڑی کی طرف چلنے لگتا ہے "
یہ قصہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ بیوی کو قابو کرنے کے گروں کے ماہر کا فون بجنے لگا - سکرین پہ کسی خاتون کی تصویر دیکھ کر اسکا رنگ فق ہو گیا -
" جی جی جی " یہی ایک لفظ تھا جو اسے یاد رہ گیا , زندگی میں سیکھی ہوئی ساری باتیں بھول گیا -
" بس پانچ منٹ میں آ جاتا ہوں - چائ بنا دی تھی , پراٹھے آ کے بناتا ہوں , آپ آج جلدی اٹھ گئے ہو , میں بازار آ گیا تھا آپ کے لئے سری پاے لانے کے لئے - بس یوں آیا "
سب دوست ہنس رہے تھے -
" ابھی جا کے سبق سکھاتا ہوں , اب فون پہ بد اخلاقی کرنا تو اچھا نہیں "
فون پھر بجا -
" جی جی , ٹھیک ہے , ٹھیک ہے , جیسے آپ کا من کرے - وہ برتن دھونے کا صابن نہیں تھا , ویسے بھی برتنوں کے شور سے آپکی آنکھ کھل جاتی ہے اسلیے - کپڑے میں نے بھگو دیے تھے "
کہانی کھل رہی تھی
" یار فون بند کر دو , اتنے گبھرانے سے بہتر ہے "
ایک دوست نے مشورہ دیا -
" ارے ! کیا کہہ رہے ہو. تمہاری بھابھی کا فون ہے - نہیں بند کر سکتا - بیوی کے حقوق کا سوال ہے - یہ اسکا حق ہے "
" اتنی صابر ہے - لاکھوں میں ایک , اسی لئے میں کبھی اسکی دل آزاری نہیں کرتا - جو کہتی ہے سن لیتا ہوں "
فون کی گھنٹی پھر بجی -
" جی جی , مجھے یاد نہیں رہا - آ کے پکا دیتا ہوں - آپ آرام کریں - آپکا ڈریس استری کر دیا رات کو "
کہانی کے سارے ورق کھل چکے تھے مگر وہ اب بھی یہی کہ رہا تھا -
" الله کا شکر کرتا کہ مجھے اتنی اچھی بیوی عطا کی "
بیچارے کی بیوی
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment