Sunday, 18 June 2017

اے میرے وطن کے بھولے بھالے لوگو

اے میرے وطن کے بھولے بھالے لوگو !
اگر کبھی وقت ملے سوچنے کا , غور کرنے کا , تو یہ جمہوریت کی دیوی کے بارے میں سوچنا - کہ اس نے کیا دیا غریبوں کو - وہ لوگ جو بار بار ووٹ لینے آتے ہیں , ان میں کتنے لوگ صاحب کردار ہیں , کتنے اپنے وعدوں کا پاس رکھتے ہیں , کتنے عملی طور پر غریب پروری کرتے ہیں - ہم مسلمان ہیں , ہمارے صاحبان اقتدار کا صالح , امین , اسلامی احکمات کا پابند ہونا لازمی شرطیں ہیں - ان میں سے کتنے ان شرطوں پر پورے اترتے ہیں - معاشرتی زندگی میں کتنے ہیں جو گناہ کبیرہ کے مرتکب نہیں -
کبھی غور کریں کہ وہ لوگ جو بھکاری کو بھیک دیتے تنگ دل ہوتے ہیں , الیکشن پہ لاکھوں کروڑوں کیوں خرچ کر ڈالتے ہیں - وہ کیا مفادات ہیں , جن کی خاطر سیاست پیشہ بن گئی ہے - ایک غریب شخص کوئی بھی سیٹ جیتنے کے بعد امیر کیسے ہو جاتا ہے -
آپ جب گہری نظر سے مشاہدہ کریں گے تو سیاسی میدان کے کم و بیش تمام کھلاڑی , یا تو رسہ گیر ہوں گے , یا پیشہ ور لینڈ مافیا , یا عادی مجرم , یا غنڈے اور بدمعاش - ایسا بہت کم ہو گا کہ کوئی شریف النفس انکے رستے میں آیا ہو اور عزت بچا سکا ہو -
کیا یہ سلسلہ کبھی رکے گا - کیا ہم ووٹ مانگنے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے کارکردگی کا حساب مانگ سکیں گے -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment