" خیرات یا فریب "
وہ بڑے کروفر سے جنرل وارڈ میں داخل ہوا , ہر مریض کے پاس جاتا , حال احوال دریافت کرتا اور ایک تھیلا , ایک لفافہ مریض کو دیتا . ہر مریض پر ایک تصویر بنتی رہی . چاپلوسی کے مریض اسکے ارد گرد , دم ہلا رہے تھے . وہ ایک جاگیر دار ہی نہیں ایک بڑا سیاستدان , ایک گدی نشین بھی تھا . مریدین کا لشکر اسکی پشت پر تھا , بڑے بڑے پولیس افسران , حکمران کارندے اسکی ایک نظر التفات کے منتظر رہتے تھے . وہ بڑھتے بڑھتے , ایک عمر رسیدہ مریض کیطرف بڑھا . سلام کہا , حال پوچھا . مگر مریض نے نہ سلام کا جواب دیا , نہ حال پر کچھ کہا . لفافہ اسکے آگے پھینکتے ہوئے بولا .
" اللہ کریم ہے , بیماری دی ہے تو شفا بھی دے گا . اس خیرات سے , یہ مت سمجھ لینا کہ اللہ نے گناہ معاف کر دئے . اپنی طاقت سے غریبوں کو دکھ دینا چھوڑ دو . دو گز زمین سے زیادہ کچھ حصے میں نہیں آئے گا . مجھے پہچانتا تو ہو گا . میں تیری جاگیر کا ہی ایک باسی ہوں . تیرے سگے چچا کا بیٹا . جسے کئی سال پہلے تو نے مروا دیا تھا . صرف اسلئے کہ اسکی زمین ہڑپ کر لے . ہم در بدر ہو گئے . اور تو بڑا رئیس بن گیا . یہ تیرے پیچھے کھڑا تیرا کتا , جس نے میرے باپ کو گولی ماری تھی , مجھے پہچان رہا ہے . یہ تیری خیرات , ایک فریب ہے . لوگ تو اندھے ہیں , کچھ نہیں دیکھتے , مگر اللہ نہ اندھا ہے , نہ بہرا "
وہ مریض کی باتیں بڑے انہماک سے سن رہا تھا . کچھ بولے بغیر , سپاٹ چہرے سے . کسی تاثر کے بغیر .
اس نے ڈاکٹر کیطرف دیکھا , ڈاکٹر آگے بڑھا اور اسکے بازو میں ٹیکہ ٹھوک دیا . چند لمحوں میں مریض غنودگی میں تھا .اور سخی خیرات بانٹ رہا تھا .
" ڈاکٹر ! یہ مریض ہمارا مہمان ہے . آزردہ ہے , کسی کے ظلم کا شکار ہے . اسکا پورا خیال رکھنا . اسے لمبے آرام کی ضرورت ہے . ہم آپ کی خدمت کر دیں گے "
اس نے ہسپتال سے نکلتے ہوئے , ہدایت جاری کی .
اگلے دن اس بد نصیب کو دل کا دورہ پڑا . اور سرھانے رونے والے دو معصوم بچوں , ایک نحیف سی عورت کے علاوہ کوئی نہیں تھا
ازاد ھاشمی .
Thursday, 22 June 2017
خیرات یا فریب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment