" کیا ہوا بیٹا , کیوں رو رہے ہو "
خوبرو جوان میرے سوال پہ پھر نم دیدہ ہو گیا -
" ایماندار افسر کا بیٹا ہوں جو چند ماہ پہلے فوت ہو گئے ہیں - سول سروس کا امتحان پاس کر چکا ہوں , رشوت مانگتے ہیں انٹرویو کے لئے - گھر میں کھانے کو روٹی نہیں - رشتے اجنبی ہو چکے ہیں - کہاں سے لاؤں رشوت " سوال سچ بھی تھا اور معاشرہ کی بے حسی کا ثبوت بھی -
" ماں روز صبح اٹھتی ہے , ہمیں دیکھ کر بہت روتی ہے , کچھ نہیں بولتی - پہلے تو بات بات پہ ڈانٹا کرتی تھی - مار بھی لیتی تھیں - اب کچھ نہیں کہتیں "
" آج کہ رہی تھیں کہ سامنے والے گھر والوں کے برتن دھونے کو جا رہی ہوں "
" میں برداشت نہیں کر سکا - خود کشی کرنے آیا تھا - بزدل نہیں ہوں , موت سے نہیں ڈرتا , خیال آ گیا کہ میں تو ایک بار میں مر جاؤں گا - ماں کا کیا ہو گا - وہ تو روز مرے گی - بہن بھائیوں کا کیا ہو گا "
" مزدوری کرنے سے نہیں گھبراتا , مگر مزدوری سے نہ چولہا پوری طرح سے جل پاۓ گا , نہ بہن بھائی پڑھ سکیں گے "
میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جو تھا اسے دینا چاہا - یہ میری اس ماہ کی پوری تنخواہ تھی -
" انکل ابھی میں نے بھیک لینے کا ارادہ نہیں کیا - آپ کا بہت بہت شکریہ - اگر ہو سکے تو حکمرانوں کی بے حسی کا ذکر اپنے حلقہ احباب میں کرتے رہنا "
" گھر جا رہا ہوں , کل سے مزدوری کروں گا - بھوکا رہوں گا , بے سود تعلیم کا زیور اپنے بہن بھائیوں کو بھی ضرور پہناؤں گا "
وہ چلا گیا - مجھے ایسے لگا جیسے یہ کہانی تو میری اپنی تھی , اسے کس نے بتائی -
شکرہہ
آزاد ہاشمی
خوبرو جوان میرے سوال پہ پھر نم دیدہ ہو گیا -
" ایماندار افسر کا بیٹا ہوں جو چند ماہ پہلے فوت ہو گئے ہیں - سول سروس کا امتحان پاس کر چکا ہوں , رشوت مانگتے ہیں انٹرویو کے لئے - گھر میں کھانے کو روٹی نہیں - رشتے اجنبی ہو چکے ہیں - کہاں سے لاؤں رشوت " سوال سچ بھی تھا اور معاشرہ کی بے حسی کا ثبوت بھی -
" ماں روز صبح اٹھتی ہے , ہمیں دیکھ کر بہت روتی ہے , کچھ نہیں بولتی - پہلے تو بات بات پہ ڈانٹا کرتی تھی - مار بھی لیتی تھیں - اب کچھ نہیں کہتیں "
" آج کہ رہی تھیں کہ سامنے والے گھر والوں کے برتن دھونے کو جا رہی ہوں "
" میں برداشت نہیں کر سکا - خود کشی کرنے آیا تھا - بزدل نہیں ہوں , موت سے نہیں ڈرتا , خیال آ گیا کہ میں تو ایک بار میں مر جاؤں گا - ماں کا کیا ہو گا - وہ تو روز مرے گی - بہن بھائیوں کا کیا ہو گا "
" مزدوری کرنے سے نہیں گھبراتا , مگر مزدوری سے نہ چولہا پوری طرح سے جل پاۓ گا , نہ بہن بھائی پڑھ سکیں گے "
میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور جو تھا اسے دینا چاہا - یہ میری اس ماہ کی پوری تنخواہ تھی -
" انکل ابھی میں نے بھیک لینے کا ارادہ نہیں کیا - آپ کا بہت بہت شکریہ - اگر ہو سکے تو حکمرانوں کی بے حسی کا ذکر اپنے حلقہ احباب میں کرتے رہنا "
" گھر جا رہا ہوں , کل سے مزدوری کروں گا - بھوکا رہوں گا , بے سود تعلیم کا زیور اپنے بہن بھائیوں کو بھی ضرور پہناؤں گا "
وہ چلا گیا - مجھے ایسے لگا جیسے یہ کہانی تو میری اپنی تھی , اسے کس نے بتائی -
شکرہہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment