یہ ایک فطری عمل ہے کہ جب کوئی قوم باہمی خلفشار کا شکار ہو جاتی ہے - یا
اسکے ادارے کرپٹ ہو جائیں تو کمزور سے کمزور دشمن بھی اپنی ضرب لگانے کی
کوشش کرتا ہے -
ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارا ایک بھی ادارہ ایسا نہیں , جسکی کارکردگی ضرورت کے مطابق ہے -
سب سے زیادہ خرابی عدلیہ میں ہے , جہاں سزا کا عمل مفقود ہے - انصاف نام کی کوئی چیز نہیں - اگر سزا اور انصاف ہوتا تو دہشتگردی کا بھوت بہت پہلے مر جاتا -
انتظامیہ بھی حکمرانوں کی غلام ہے - اسلیے سارے انتظامی معاملات سیاست کا شکار رہتے ہیں -
ہم اپنی نا اہلی کو دشمن کی مکاری کی چادر میں چھپانے میں لگے رہتے ہیں - یہ کوئی خوبی کی بات نہیں کہ جو کام پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کا تھا وہ فوج کو کرنا پڑا - سرحدوں کے باہر ہم نے سب ہمسایوں کو دشمن بنا رکھا ہے - اور سرحدوں کے اندر مذہبی انارکی , لسانی تعصب , سیاسی جنگ اور معاشی بدحالی جیسے دشمن پال رکھے ہیں -
ہر ادارہ نا اہل قیادت کے ہاتھوں میں ہے - جس پر سیاسی لوگوں کے نا اہل , زانی , راشی , شرابی اور نا لائق افسران برا جمان ہیں -
کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ جب تک اصلاح کا عمل لاگو نہ ہوا - یہ سب کچھ جاری رہے گا -
فوج کیا کیا کر لے گی - کہاں کہاں لڑے گی -
یہی ایک ادارہ ہے جس کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے , اور جس پر قوم بھروسہ کرتی ہے -
پاکستان میں کتنی بار فوج نے انتظام سنبھالا - وقتی طور پر معاملات بہتر ہوۓ - پھر سول حکومت آئ تو وہی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی -
اب ضرورت ایسے اقدام کی ہے , جو زود اثر بھی ہو اور مستقل علاج بھی - قوم کو کہانیاں سنانے اور بیوقوف بنانے سے کام نہیں چلے گا - قوم کو عملی طور پر متحرک کیے بغیر کوئی بھی کامیابی ممکن نہیں - اور پوری قوم کو اس جہاد میں شامل ہونا پڑے گا - یہ ہے اصل جہاد کہ ہم اپنی نسلوں کو دشمنی اور نفرت کے عفریت سے محفوظ کر دیں -
الله کرے ہم سمجھ جائیں کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے -
آمین
آزاد ہاشمی
ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارا ایک بھی ادارہ ایسا نہیں , جسکی کارکردگی ضرورت کے مطابق ہے -
سب سے زیادہ خرابی عدلیہ میں ہے , جہاں سزا کا عمل مفقود ہے - انصاف نام کی کوئی چیز نہیں - اگر سزا اور انصاف ہوتا تو دہشتگردی کا بھوت بہت پہلے مر جاتا -
انتظامیہ بھی حکمرانوں کی غلام ہے - اسلیے سارے انتظامی معاملات سیاست کا شکار رہتے ہیں -
ہم اپنی نا اہلی کو دشمن کی مکاری کی چادر میں چھپانے میں لگے رہتے ہیں - یہ کوئی خوبی کی بات نہیں کہ جو کام پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کا تھا وہ فوج کو کرنا پڑا - سرحدوں کے باہر ہم نے سب ہمسایوں کو دشمن بنا رکھا ہے - اور سرحدوں کے اندر مذہبی انارکی , لسانی تعصب , سیاسی جنگ اور معاشی بدحالی جیسے دشمن پال رکھے ہیں -
ہر ادارہ نا اہل قیادت کے ہاتھوں میں ہے - جس پر سیاسی لوگوں کے نا اہل , زانی , راشی , شرابی اور نا لائق افسران برا جمان ہیں -
کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کر سکتا ہے کہ جب تک اصلاح کا عمل لاگو نہ ہوا - یہ سب کچھ جاری رہے گا -
فوج کیا کیا کر لے گی - کہاں کہاں لڑے گی -
یہی ایک ادارہ ہے جس کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے , اور جس پر قوم بھروسہ کرتی ہے -
پاکستان میں کتنی بار فوج نے انتظام سنبھالا - وقتی طور پر معاملات بہتر ہوۓ - پھر سول حکومت آئ تو وہی دم ٹیڑھی کی ٹیڑھی -
اب ضرورت ایسے اقدام کی ہے , جو زود اثر بھی ہو اور مستقل علاج بھی - قوم کو کہانیاں سنانے اور بیوقوف بنانے سے کام نہیں چلے گا - قوم کو عملی طور پر متحرک کیے بغیر کوئی بھی کامیابی ممکن نہیں - اور پوری قوم کو اس جہاد میں شامل ہونا پڑے گا - یہ ہے اصل جہاد کہ ہم اپنی نسلوں کو دشمنی اور نفرت کے عفریت سے محفوظ کر دیں -
الله کرے ہم سمجھ جائیں کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے -
آمین
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment