Sunday, 18 June 2017

قربانی ہوتے جانور

اس نے اپنی آنکھوں میں آنسووں کا ایک سمندر تھام رکھا تھا - اور حسرت بھری نگاہوں سے قربانی ہوتے جانور کو دیکھ رہا تھا - میں اس انتظار میں تھا کہ اسکی آنکھوں میں رکا ہوا سمندر بہہ نکلے تو اس سے اسکا سبب پوچھوں - قربانی ہو گئی اور اہل خانہ نے سب کچھ اٹھایا اور گھر کے اندر لے گئے - وہ ابھی بھی گم سم بیٹھا گھر کے دروازے پہ نظریں جماے بیٹھا تھا -
میرے صبر کا پیمانہ بہت کم نکلا اور میں اس کے پاس جا کے بیٹھ گیا -
" کیسے ہو بابا ! "
میری آواز سن کر وہ ایسا چونک گیا , جیسے کسی کو جھنجھوڑ کر نیند سے اٹھا دیا جاے - شائد میں نے اسکے خوابوں کا تسلسل توڑ دیا تھا -
" تم نے دیکھا ان لوگوں کو "
میرے سوال کا جواب دئیے بغیر اس نے ایک معنی خیز سوال کر دیا -
" کتنے خوش قسمت ہیں یہ لوگ - الله نے انہیں توفیق بخشی کہ ایک فرض ادا کر دیا "
" وہ سامنے جھونپڑا ہے , وہ میرا گھر ہے , میری بیٹی اور میں وہاں رہتے ہیں - میری بیٹی شادی کے قابل ہے , اور میں فالج زدہ ہوں "
" یہ جو گھر ہے, اسکا مالک بہت امیر آدمی ہے- میں اسے اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹا سا بچہ تھا - اور جب اسکا باپ فوت ہوا تھا , میں بھی جنازے اور کفن دفن میں شامل تھا "
" چند دن پہلے میں اس کے دروازے پہ آیا تھا , میری بیٹی بیمار تھی , دوائی کے لئے تھوڑے سے پیسے مانگنے - اس کے پاس کچھ نہیں تھا , چند سکے بھی نہیں تھے اس کے گھر میں - آج یہ دو دو جانور قربانی کر رہا ہے - سوچ رہا ہوں کہ اس کا کونسا عمل ہے جو اسے قربانی کے لئے الله نے اسباب دے دیے اور ایک مستحق کے لئے چند سکے نہیں دیے "
وہ مسلسل بولے جا رہا تھا , مگر ابھی تک اسکی آنکھوں کا سیلاب باہر نہیں آیا تھا -
" پتہ ہے اب کیا ہو گا - گوشت میں سے اچھے اچھے ٹکڑے قریبی تعلق داروں میں بانٹ دیے جایں گے , اور چند ہڈیاں غریبوں میں تقسیم کر دی جایئں گی "
" یہ قربانی کا مسنون طریقه ہے "
اس نے میری طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا -
اور پھر آنکھوں سے نہ رکنے والی برسات ہونے لگی - وہ ایک چھوٹے سے بچے کی طرح رو رہا تھا -
" یہ میری بیٹی بہت ضدی ہے - میں اسکی وجہ سے یہاں آیا تھا - بیوقوف کہہ رہی تھی , چچا نے قربانی کی ہے - میرے لئے گوشت لے کے آؤ - میں نے انکار کیا تو کہنے لگی , میں خود جاتی ہوں اور چچا سے ڈھیر سارا گوشت لاؤں گی "
میری آنکھیں بھی نم آلود ہو رہی تھیں -
" پگلی کو کیسے سمجھاتا کہ غریبوں کے رشتے دار نہیں ہوتے - اور اگر وہ آ جاتی تو آج مر کر واپس جاتی"
میں تجسس میں تھا کہ چچا کا رشتہ کیوں دہرا رہا ہے - پیشتر اس کے کہ میں سوال کرتا - اس نے اپنی میلی سی چادر سے آنکھیں خشک کیں اور بولا -
" یہ گھر کا مالک میرا سگا بھائی ہے "
یہ سنتے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے -
"بیٹا یہ باتیں بہت پرانی ہو گئی ہیں - کبھی ہوتے تھے رشتے ناطے "
" سوچتا رہتا ہوں کہ میں مر گیا تو میری بیٹی کا کیا ہو گا - کہاں جاے گی وہ - یار ! وہ مر جاے تو مجھے بھی سکون کی موت آ جاے گی "
وہ پھر رونے لگا -
" پتہ نہیں الله غریبوں کو بیٹیاں کیوں دے دیتا ہے "
" میں اس کے سامنے کبھی نہیں رویا - ڈرتا ہوں کہ وہ بھی رونے لگے گی - کیا جھوٹ بول کر چپ کراؤں گا اسے "
وہ رو رہا تھا - کہ اتنے میں قربانی کے گوشت کی چند ہڈیاں لئے ایک بچہ سامنے کھڑا تھا - بابا نے جھولی آگے کی - اس نے جھولی میں گوشت ڈالا اور بھاگ گیا -
" یہ میرا بھتیجا ہے , بہن کے لئے گوشت دے کے گیا ہے "
پھر وہی آنکھیں وہی برسات -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment