Sunday, 18 June 2017

ایک شہید کی روح

قومی پرچم میں لپٹے ہوۓ تابوت میں ایک شہید کی روح تھی - جس نے قوم کی خدمت کا فرض اپنے خون سے نبھایا تھا -
تابوت کے باہر ایک عظیم ماں بھی کھڑی تھی - جس نے بیوگی کا کٹھن سفر کاٹا تھا , اس شہید کو پروان کرنے میں - کبھی تابوت کو نم آلود نگاہوں سے دیکھتی اور کبھی اپنے پہلو میں کھڑے دو معصوم بچوں کو - ہر آنکھ برس رہی تھی اسے دیکھ کر - ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ بیٹے سے کچھ راز کی باتیں کر رہی ہو- شائد شکایت کر رہی ہو اپنے بیٹے سے کہ اسکی بوڑھی ہڈیاں ان معصوموں کا بوجھ کیسے اٹھائیں گی - کیا جواب دے گی جب یہ پوچھیں گے -
" دادو ! ڈیڈی کب لوٹیں گے "
کیسے کہے گی اپنی بہو سے کہ بیٹا اب ہاتھوں کی مہندی کو مٹا دو - اسکو دیکھنے والا کبھی نہیں لوٹے گا - تیری چوڑیوں کی کھنک سننے والا بہت دور چلا گیا ہے - یا شائد بیٹے سے پوچھ رہی ہو , کہ بیٹا جب گولیوں کی بوچھاڑ تیرے بدن کو چیر رہی تھی تو تجھے کتنی درد ہوئی تھی - یا شائد اپنے رب سے کہ رہی تھی کہ اے سب جہانوں کے مالک , میری دنیا کا ایک ہی پھول تھا تو نے وہ بھی چن لیا - یا شائد الله کی رحمتوں کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اسے شہید کی ماں ہونے کا اعزاز مل گیا - ممتا کا گھائل دل تڑپ رہا تھا مگر ابھی تک آنکھوں میں رکے سیلاب کا بند نہیں ٹوٹا تھا -
بہو نے ہاتھ پکڑا اور بولی -
" ماں جی ! مجھے فخر ہے کہ میرا رفیق سفر پوری قوم پر اپنے خون کا احسان چھوڑ کر گیا ہے - جو قوم کبھی نہیں لوٹا سکے گی "
" دادو ! میں کب شہید بنوں گا "
معصوم پوتے کے سوال نے رکا ہوۓ سیلاب کا بند توڑ دیا-
عظیم ماں , بہادر بہو اور بےخبر بچے بھوجل قدموں سے تابوت کی طرف بڑھے - ماں نے تابوت کو بوسہ دیا اور پوتے کو سینے سے لگا کر خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی - فوج کا دستہ الرٹ ہوا - ماں کی عظمت کو سلام کیا اور شہید کو اسکی منزل کی طرف اٹھا لیا - رفیق سفر کے آخری سفر نے بیچاری دلہن کے سارے خواب توڑ دئیے -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment