اسراف اور بخل اسلامی تعلیمات میں نا پسندیدہ عمل ہیں - یہ دونوں عمل
ہماری زندگی کا معمول ہیں - کسی مستحق کی مدد کرنا پڑے تو ہم بخل سے کام
لیتے ہیں - کوشش ہوتی ہے کہ بھیک میں ایسی چیز دی جاے جو اپنے استعمال کے
لائق نہ ہو - پھٹے پرانے کپڑے , بچا کھچا کھانا مانگنے والے کو دے کر
سمجھتے ہیں , کہ بہت بڑی قربانی دے ڈالی ہے - حالانکہ یہ بخل ہے -
اسراف کرتے وقت جو حال رزق کے ساتھ کیا جاتا ہے ,وہ نہایت اخلاقی گراوٹ ہے - دیگر امور زندگی میں بھی ہم اسراف کرنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں - اور اسے سٹیٹس سے منسوب کرتے ہیں -
اگر اسی اسراف میں سے کچھ کسی مستحق کو دے دیا جاے , تو نیکی بھی ملے گی اور الله کی رضا بھی , اور برکت بھی -
ہم اپنے دستر خوان طرح طرح کے کھانوں , مشروبات اور پھلوں سے سجا لیتے ہیں - اگر ان میں چند چیزیں کسی ضرورت مند کو دے ڈالیں , تو بلا شبہ احسن اقدام ہو گا - اور الله ان سب چیزوں میں برکت فرما دے گا -
آئیے ! یہ عمل اپنے معمول کا حصہ بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
اسراف کرتے وقت جو حال رزق کے ساتھ کیا جاتا ہے ,وہ نہایت اخلاقی گراوٹ ہے - دیگر امور زندگی میں بھی ہم اسراف کرنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں - اور اسے سٹیٹس سے منسوب کرتے ہیں -
اگر اسی اسراف میں سے کچھ کسی مستحق کو دے دیا جاے , تو نیکی بھی ملے گی اور الله کی رضا بھی , اور برکت بھی -
ہم اپنے دستر خوان طرح طرح کے کھانوں , مشروبات اور پھلوں سے سجا لیتے ہیں - اگر ان میں چند چیزیں کسی ضرورت مند کو دے ڈالیں , تو بلا شبہ احسن اقدام ہو گا - اور الله ان سب چیزوں میں برکت فرما دے گا -
آئیے ! یہ عمل اپنے معمول کا حصہ بنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment