Monday, 25 September 2017

شکست کسے ہوئی

" شکست کسے ہوئی"
ہر کسی کا ایک زاویہ نگاہ ہے . کسی کی نظر میں عمران خان ہار گیا . کوئی کہتا ہے پیپلز پارٹی کے خاتمے کا اعلان ہوا . کسی کو لگتا ہے کہ جماعت اسلامی کو اپنی اوقات دیکھنا پڑی . یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن ماضی کی نسبت شکست سے دوچار ہوئی . میری رائے مختلف ہے . سب جیت گئے . کوئی نہیں ہارا . یہ جمہوری کھیل ہے جس میں کوئی نہیں ہارتا . سب جیت جاتے ہیں . چوروں کی اکثریت ہو چور جیت جاتا ہے . بدمعاشوں کا غلبہ ہو بدمعاشی جیت جاتی ہے . گمراہی کے  پرستار زیادہ ہوں , گمراہ جیت جاتا ہے .
تعجب اس پر ہے کہ جن لوگوں نے دین اور مذہب کی سربراہی کا بھرم بنا رکھا ہے , وہ بھی اندر سے گمراہی , بدمعاشی اور کرپشن کے ساتھی ہیں . وہ بھی جیت گئے . پھر وہی ہوا کہ حماقت جیت گئی اور دانش ہار گئی .
جمہوریت اسی کا نام ہے . اگر یہ کہا جائے کہ شیطنت جیت گئی , اب گمراہی کا خنجر پھر سے تیز ہو گیا .
سوچتا ہوں روز محشر , اللہ کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے . کیا کہیں گے اللہ کے سامنے کہ ہم نے تیری نمازیں پڑھیں , روزے رکھے , حج کئے , کئی بار قران کو چوما , مسجدیں بنائیں . مگر جہاں تیرے نظام کی بات آئی , وہاں اسے طاغوتی نظام کے سامنے رسوا  کیا . ہم نے ن کو پوجا , ع کو پوجا , س کو پوجا , سب کی پرستش کی . مگر تیرا نام ثواب کیلیئے , تسبیح کیلئے  دہراتے رہے .
زندہ بتوں کے پوجنے والے ہیں . تیرا نام صرف ذکر کیلئے بنا لیا . ہم سب تیرے دین کے سرکش ہیں . ہم سب جیت گئے ہیں .
ازاد ھاشمی 

جماعت والو واپس لوٹ آو

" جماعت والو ! واپس لوٹ آو"
یہ تو میں نہیں جانتا کہ اس انتخابی ٹیسٹ کے بعد جماعت کی با شعور قیادت کیا سوچتی ہے . اسے حزیمت سمجھتی ہے یا جہاد . ایک بات بالکل واضع ہے کہ لوگ آپ کی سیاست سے نالاں ہیں . میری سوچ میں اسے حزیمت سمجھ کر " اسلامی " کی طرف لوٹ آئیں تو مناسب ترین فیصلہ ہو گا . جمہوریت کیلئے کی جانے والی کوئی بھی کوشش جہاد نہیں ہے . اور اس راستے سے آپ کو کبھی کامیابی نصیب نہیں ہو گی .
یہ تحریر تنقید کے حوالے سے نہیں , دکھ سے لکھ رہا ہوں  . کیونکہ سیاست کے میدان میں صرف آپ لوگ تھے , جن سے امید تھی کہ کبھی نہ کبھی اسلامی نظام کی تحریک اٹھے گی . مگر آپ کی قیادت کی سوچ سراسر جمہوریت کی آبیاری پر مرکوز ہے . جس سے نہ باشعور عوام خوش ہیں , بلکہ معذرت کے ساتھ , آپ کی سیاست کو منافقت سمجھنے اور بولنے لگے ہیں . آپ کی پارسائی اور دیانت کو محض دکھاوا سمجھنے لگے ہیں . میرے خیال میں تائید الہی آپ سے اٹھ گئی ہے .
جانتا ہوں آپ کے اراکین , اس تحریر کو پڑھ کر کئی جواز پیش کریں گے . مگر سچ یہی ہے .
ابھی کچھ نہیں بگڑا . جمہوریت کی کشتی سے اتر آئیں اور اسلامی نظام کا پرچم بلند کر دیں . اللہ کی تائید آپ کے ساتھ ہو گی . میرا ایمان بھی ہے اور یقین بھی .
واپس لوٹ آئیں , اپنے نعروں کی عملی حقیقت کی طرف .
ازاد ھاشمی

لاکھ میں سے دو سو ووٹ

" لاکھ میں سے دو سو ووٹ "
یہ ہے وہ کارکردگی , جو جماعت اسلامی کا طرہ امتیاز بنی . جماعت کے لئے اس سے بڑا لمحہ فکریہ اور کیا ہو گا . مگر اس حزیمت سے اگر سیکھنے کی کوشش کی جائے اور جماعت کے اکابرین اپنی دانش کا رخ جمہوریت سے موڑ کر دیکھیں , تو کامیابی کا روشن مینار سامنے ہے . اس معرکے میں لاکھ میں سے تریپن ہزار لوگ جمہوریت سے منہ موڑے کھڑے نظر آتے ہیں . تاریخ عالم میں یہی خاموش لوگ انقلاب لایا کرتے ہیں . بھنگڑے ڈالنے والے , کرتب دکھانے والے , کڑکنے اور گرجنے والے اصل میں مروجہ نظام کا حصہ ہوتے ہیں . یہ تمام اقتدار کی حرص میں اندھے ہوتے ہیں . انکو نہ عوام سے دلچسپی ہوتی ہے نہ مسائل سے سروکار .
اب کوئی بھی اللہ کا بندہ , جرات کے ساتھ جمہوریت سے منہ موڑ کر میدان میں اترے گا تو اسکے ساتھ لاکھ میں سے دو سو لوگ نہیں , لاکھ میں سے اسی ہزار لوگ اسکی پشت پر ہونگے . لوگ اسلام کے نظام سے دلبرداشتہ نہیں . جمہوری اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتے . مذہب سے فرار نہیں ہوا , لوگ ملا سے اکتا گئے ہیں . ملا کی دورخی سوال بن گئی ہے . اس قدغن میں سیاسی ملا کا بہت بڑا ہاتھ ہے .
سیکولر ازم کیلئے راہ ہموار کرنے میں جو کردار مذہبی سیاستدانوں نے کیا ہے , وہ جدت پسند نہیں کر سکتے تھے . لہو لعب سے  دلچسپی رکھنے والے سیکولرز  کو کامیابی کی سیڑھی اور کھلا میدان ان سیاسی جبہ کیشوں نے دیا ہے .
ازاد ھاشمی

مساجد مدرسے اور مولوی

" مساجد , مدرسے اور مولوی "
پاکستان سرزمین , جس میں مساجد کا اندازہ ایک لاکھ بیس ہزار ہے . جبکہ یقینی طور پر غیر رجسٹرڈ مساجد کی گنتی شامل نہیں . علماء , مولوی اور مشائخ کروڑ کے لگ بھگ اندازہ کئے جاتے ہیں , ان میں وہ دانشور شامل نہیں , جو داڑھی کے بغیر مولوی ہیں . مدارس جہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے , چالیس ہزار رجسٹرڈ ہیں اور غیر رجسٹرڈ کا اندازہ ممکن نہیں . پیر پرستی کے دربار بھی ہزاروں کی تعداد میں ہے .
یہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا رحجان کسقدر اسلامی ہے . جہاں اسلامی تعلیم اور تبلیغ کا یہ عالم اور شوق ہو وہاں پر اسلامی تعلیمات سے فرار ناقابل فہم ہے . لبرلز , دین کے سرکش اور اسلام کے مخالفین کتنے ہونگے . جنکا نہ کوئی سکول ہے اور نہ کوئی مربوط ٹھکانہ . پھر کیا وجہ ہے کہ چند کامیاب ہیں اور اکثریت ناکام . کیا وجہ ہے کہ اتنے عالم اور شیوخ کی موجودگی میں بھی نظام اسلام مدرسوں میں قید ہو کر رہ گیا اور بی بی جمہوریت روز بروز تقویت پکڑتی جا رہی ہے . ہر مولوی کے بیسیوں مقلد اور شیدائی ہوتے ہیں . پھر ان لوگوں کو اسطرف کیوں نہیں لگایا جاتا کہ اسلامی نظام کیطرف سوچنا شروع کریں . کیا پڑھایا جاتا ہے ان چالیس ہزار مدرسوں میں . اگر یہی لوگ اور انکے مقلدین خاص ہی متحد ہو جائیں تو اسلامی قوانین کا اطلاق ایک دن میں ہو سکتا ہے . مسالک کا دھندہ روزی اور آسائشوں کا ماخذ سہی . نہیں روکنا چاہتے مت روکیں . کم از کم سب کا اللہ تو ایک ہے , رسول تو ایک ہے , قران تو ایک ہے . اپنے اپنے فقہ کی حدود و قیود , سزائیں اور شرائط الگ الگ لاگو ہونے میں قباحت بھی نہیں . چور جس مسلک کا بھی ہو اسی فقہ کے مطابق ہاتھ کاٹ دو . زانی جس مسلک کا بھی ہو اسی مسلک کے مطابق سنگسار کر دو . بد عنوان کی سزا  اسی کے فقہی دستور پر دے دو .
اگر یہی علماء , شیوخ اور مولوی پورے اخلاص سے اپنے فرائض ادا کریں تو جمہوریت کا جنازہ اسی انتخاب پہ اٹھ جاتا ہے . اگر نہیں کیا جاتا تو اس رسوائی کے لئے تیار ہو جائیں جو لبرلز اور طاغوت تیار کر رہا ہے . جیسے آج ہر داڑھی والا دہشت گرد بنا دیا گیا ہے . علماء کی تضحیک کا ایک طوفان اٹھے گا , جس میں علماء کا کردار نشانہ بنے گا . تعظیم اور توقیر کا بھرم ختم ہو جائے گا .
اللہ کا قانون یہی ہے جو اللہ کے نظام سے مکر کرتا ہے تو اللہ اس سے مکر کرتا اور اللہ کا مکر ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے .
از راہ کرم نہ سہی , اپنی عاقبت کے خوف سے ہی سہی . آپ فکر کریں اور حجروں سے نکل کر طاغوت کو روکیں . دعائیں بھی اسی وقت قبول ہوں گی جب عمل شامل ہو گا .
ازاد ھاشمی 

اسلامی سال پر مبارک کا رحجان

" اسلامی سال پر مبارک کا رحجان "
مبارک خوشی پر اظہار کی رسم ہے . مگر اسلام کے ساتھ تو عجیب تاریخ  اسی مہینے میں  رقم ہوئی . جسے قطعی خوشی کے اظہار کیلئے  استعمال نہیں کیا جاسکتا . جس رسول کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں , جس رسول کے وسیلے سے ہم اللہ کی وحدانیت سے آشناء ہوئے , جس رسول نے ہمارے لئے ایمان کی شمع روشن کی . اسی رسول کی آل پر ظلم و بربریت کے پہاڑ اسی مہینے میں ٹوٹے . بچے , نوجوان اور عمر رسیدہ سب کے سب خون میں نہلا دئے گئے . رسول کی آغوش میں پلنے والے پھول اسی ماہ میں گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندے گئے . عورتوں  کے ہاتھوں میں رسیاں باندھ کر تماشا بنایا گیا ادی ماہ میں . کیا  وہ سب بھلانا ممکن ہے . کیا نئے سال کی خوشی اہم ہے یا اس ظلم پر دکھ کرنا اہم ہے . نئے سال کی خوشی کا اہتمام طاغوت کی تاریخ ہے , اسلام میں کب اور کس دور میں یہ مبارک باد دینے کا رواج تھا . ابھی  چند سال پہلے تک ایسی کوئی رسم نہیں تھی . مسالک کی جنگ اپنی جگہ , آل رسول کی محبت سے کسے مفر ہے . کون انکار کر سکتا ہے کہ آل رسول کا دکھ  ہمارا دکھ نہیں .
یہ خوشی تو یزید کی خوشی تھی کہ اس نے اوائل سال پہ آل رسول کا گھر اجاڑنے کی خواہش پوری کر لی .
ہمیں یقینی طور پر نئی روایت کی بنیاد رکھنے سے پہلے سوچنا چاہئے . رسول کی  آل کا دکھ , رسول کا دکھ ہے .
اگر اس نئی رسم کے پیچھے , یہ سوچ کار فرما ہے کہ اسطرح غم حسین بھول جائے گا . تو جس دل میں یہ غم بس چکا ہے , وہ قائم رہے گا . اسکے لئے کسی مسلک سے وابستگی ضروری نہیں . یہ تعلق کا معاملہ ہے , جس کو رسول سے تعلق ہوگا , اسے آل رسول سے تعلق رہے گا .
ہمیں اسطرف سے قطعی غافل ہو کر اس نئی رسم کو پروان نہیں چڑھانا چاہیئے .
ازاد ھاشمی   

کربلا کا راستہ

" کربلا کا راستہ "
محرم الحرام کا مہینہ ابد سے حرمت اور تعظیم کا مہینہ رہا . بے شمار واقعات کا تعلق اس ماہ سے ہے . کربلا کے بعد اس کی تخصیص مسلم ہو گئی . کربلا میں جو ہوا , وہ غم اور دکھ کا اچھوتا باب ہے .
حسین علیہ السلام کی قربانی اقتدار , ضد یا ذاتی عناد کی خاطر نہ تھی . اس سچائی پر کبھی کوئی انگلی نہیں اٹھی . جو اس محبت میں مجالس کرتے ہیں . اسکا اجر انکے رب کے پاس ہے .  جو دوسری طرح حب اہل بیت ادا کرتے ہیں , انکا اجر بھی اللہ کے پاس ہے .
اصل حب اہل بیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ راہ اختیار کر لی جائے , وہ عمل اپنا لیا جائے جو اہل بیت کو کربلا کی طرف لیکر  گیا . درس یہ تھا کہ ملوکیت کو روکا جائے . اور وہ راہ اختیار کی جائے  جو احکامات ربی کے مطابق ہو . یہ  سبق تو  ہم نے بھلا دیا .  جسے ہم ازبر نہیں کر سکے  نہ اپنا سکے .  حسین کی محبت میں وارفتہ لوگ , مظالم کربلا کے دکھوں کو اپنی ذات کا حصہ بنا لینے والے لوگ , معتبر ہیں .
مگر جب یہ لوگ شراب بھی پیئں گے , زنا بھی کریں گے , برائی کا ساتھ بھی دیں گے , احکامات ربی کی تضحیک کرنے والوں  کی مدد بھی کریں گے . یزید سے بڑے یزیدوں کے ساتھ بھی کھڑے بھی ہونگے .  تو کربلا کا سوگ ایک ڈھونگ بن کر رہ جائے گا . اگر پوری دیانتداری سے دیکھا جائے تو یہی ہو رہا ہے . حسینیت کا علم بلند کرنے کیلئے حسین کا عمل اپنانا ہو گا .
یہ ہو گا رسول اور آل رسول کا حق . اسے ادا کرنا فرض بھی ہے اور ضرورت بھی . یہ ہے وہ راہ جو کربلا کی طرف جاتی ہے .
ازاد ھاشمی

میری منفی سوچ

" میری منفی سوچ"
مجھے تو فخر ہے اور اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہوں . کہ میری سوچ میں چودہ سو سال پرانا نظام آج کے تمام نظاموں سے بہتر ہے . مجھے فخر ہے کہ مظلوم آج بھی میری نظر میں معزز ہے اور میرا دوست ہے . ظالم کے ظلم کے سامنے کھڑا ہو جانے کو حماقت نہیں سمجھتا ہوں , اللہ کا کرم خیال کرتا ہوں . اسلامی روایات کو دقیانوسی نہیں سمجھتا ہوں , آج کی روایات کو دیوانگی خیال کرتا ہوں . مجھے اپنی منفی سوچوں پر قائم رہ کا دل کا اطمینان ملتا ہے , موسیقی سے دل لبھانے کی ضرورت نہیں پڑتی . اپنی علمی قابلیت کو اللہ کے احکامات تک محدود رکھنے میں استراحت محسوس کرتا ہوں . کفر اور طاغوت کے معرکوں کی داستانیں ڈھونڈھنے سے گریزاں رہتا ہوں . اپنی زبان بول کر فخر ہوتا ہے اور چبا چبا کر بولی جانے والی انگریزی مجھے مرعوب نہیں کرتی . میری منفی سوچ میرا اعزاز ہے , اسے تادم مرگ قائم رکھنا چاہتا ہوں . مجھے فخر ہے کہ میری اولاد کی سوچ میں میرا ہی رنگ ہے . میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ مجھ جیسے پتھر کے زمانے کی سوچ والے کو بے لگام اولاد نہیں دی . اطاعت اور تابعداری سے سجے ہوئے بچے , میری قدامت پرستی کا انعام ہیں .
دوست کہتے ہیں , میں  دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں , میں سمجھتا ہوں , کہ جو انعامات مجھے ملے , وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں . اللہ نے ہر اس نعمت سے نوازا , جس کیلئے دعائیں کی جاتی ہیں .
اس منفی سوچ , اس قدامت پرستی , اس اسلامی شعار سے وارفتگی اور اس پر قائم رہنے کی ھٹ دھرمی میرا سکون اور اطمینان قلب ہے .
ازاد ھاشمی

جنگ کے دوسرے میدان

"جنگ کے دوسرے میدان "
ہمارا قومی جذبہ جنگ کے لئے جس طرح بیدار ہوتا ہے اور ہر شہری ہاتھ میں چھری اٹھائے شہادت کے لئے محاذ جنگ کی طرف بستر باندھے نظر آتا ہے ۔ یہ فریفتگی وطن کی مٹی سے لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ اللہ سلامت رکھے ۔
مگر جنگیں ہوش مانگتی ہیں جوش نہیں ۔ وسائل مانگتی ہیں بڑھکیں نہیں ۔ وہ قومیں جنگوں سے مثبت نتائج لیتی ہیں جن کے لیڈر وطن سے مخلص ہوتے ہیں ، وہ قومیں جنگیں کیا لڑیں گی جن کے لیڈر وطن کو لوٹ رہے ہوں اور عوام تماشائی بنے دیکھتے رہتے ہوں ۔
یہ بھی ایک محاذ ہے ، اٹھو اس محاذ پر جنگ سر پر مسلط ہے ۔ اسے جیت لو تو دوسرا محاذ منتخب کر لو ۔
اپنے گھر میں موجود خلفشار ختم کرو تاکہ کوئی دوسری مکتی باہنی نہ بنے ۔ یہ بھی ایک محاذ ہے ۔
بنیا بزدل بھی ہے اور پیٹھ پہ وار کرنے میں ماہر بھی ۔ وہ جب سے پاکستان بنا اس ارادے پر کام کر رہا ہے کہ اکھنڈ بھارت بنا کر ریے گا ۔
ہم  اپنے گھر میں زبان ، علاقہ اور مسالک کی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں ۔ اتفاق اور اتحاد جنگ جیتنے کا کارگر ہتھیار ہے ،  اور ہم اس سے خالی ہیں ۔
ہم کشمیر چھیننے کے نعرے لگاتے رہتے ہیں اس نے دریاؤں کا پانی بھی روک لیا ہے ۔ اس نے ہماری خارجہ پالیسی کو بیکار کر کے رکھ دیا ، ہمیں بین القوامی منڈیوں سے نکال بایر کر دیا ۔ ہمارے کتنے لیڈر ہیں جو بنئے کی زبان بولتے ہیں ، اور اسکے ارادوں کو تقویت دیتے ہیں ۔  کیا ان محاذوں کو خالی چھوڑ دینا ، شکست کی مضبوط  اساس نہیں ۔
جنگ کی صورت میں فوجیوں کو بسکٹ ، چنے اور سگریٹ بھیج کر کونسی وطن کی خدمت ہو جائے گی ۔ ایک عام شہری کا جذبہ کس محاذ پر کام آئے گا ۔ ایک با شعور اور محب وطن قوم ہونے کا اصل ثبوت یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے محاذ پورے  خلوص ، سچائی اور پوری لگن سے ڈٹ جائیں ۔
دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ، قوموں کے حقیقی جذبوں سے مرعوب ہوتا ہے ۔ نعرے اور بڑھکوں سے نہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

Sunday, 24 September 2017

اسوہ حسنہ

اسوہ حسنہ
۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے. ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر "یاکریم یاکریم" کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کیطرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم،، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔
اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے
روشن چہرے والے !اے حسین قد والے ! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں.
سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟
عرض کیا: نہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟
عرض کیا: بِن دیکھے ان کی نبوت و رسالت کو تسلیم کیا، مانا اور بغیر ملاقات کے میں نے انکی رسالت کی تصدیق کی۔ آپ نے فرمایا: مبارک ہو، میں دنیا میں تیرا نبی ہوں اور آخرت میں تیری شفاعت کرونگا۔
وہ حضور علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور بوسے دینے لگا۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ وہ معاملہ نہ کر جو عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اللہ نے مجھے متکبر وجابر بناکر نہیں بھیجا بلکہ اللہ نے مجھے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے۔
راوی کہتے ہیں کہ اتنے میں جبریل علیہ السلام آئےاور عرض کیا کہ اللہ جل جلالہ نے آپ کو سلام فرمایا ہے اور فرماتا ہے کہ اس اعرابی کو بتادیں کہ ہم اسکا حساب لیں گے۔ اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اللہ میرا حساب لے گا؟ فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو حساب لے گا۔
عرض کیا کہ اگر وہ میرا حساب لے گا تو میں اسکا حساب لونگا۔
آپ نے فرمایا کہ تو کس بات پر اللہ سے حساب لیگا؟
اس نے کہا کہ اگر وہ میرے گناہوں کا حساب لیگا تو میں اسکی بخشش کا حساب لونگا۔ میرے گناہ زیادہ ہیں کہ اسکی بخشش؟
اگر اس نےمیری نافرنیوں کا حساب لیا تو میں اسکی معافی کا حساب لونگا۔
اگر اس نے میرے بخل کا امتحان لیا تو میں اس کے فضل و کرم کا حساب لونگا۔
حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب سماعت کرنے کے بعد اتنا روئے کہ ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ پھر جبریل علیہ السلام آئے۔عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ رونا کم کریں۔ آپ کے رونے نے فرشتوں کو تسبیح و تحلیل بھلا دی ہے۔ اپنے امتی کو کہیں نہ وہ ہمارا حساب لے نہ ہم اسکا حساب لیں گے اور اس کو خوشخبری سنادیں یہ جنت میں آپ کا ساتھی ہوگا۔
کیا عقل نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
ان خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
۔
کتاب: مسند احمد بن حنبل

اسوہ حسنہ

اسوہ حسنہ

والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن دشمن اسلام ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی‘ یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی‘ یہ چند دن کا دودھ تھا لیکن ہمارے رسولؐ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ مکہ کا دور تھا تو ثوبیہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے‘ ان سے حسن سلوک بھی فرماتے تھے‘ ان کی مالی معاونت بھی کرتے تھے‘ مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثوبیہ کیلئے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں‘ یہ ملاقات کیلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں‘ میری ماں پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘ وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھا دی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین متاع سمجھتے ہیں‘ اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘ غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے‘ حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سوعنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘ حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘ حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘ کافروں کا ایک شاعر تھا‘ سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘ تڑپ کر فرمایا ’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘ سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘ اس سے پوچھا گیا ’’کیوں؟‘‘ سہیل بن عمرو نے جواب دیا ’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں‘ میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں‘‘ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کواسی وقت رہا کر دیا‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخ رسول بھی لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں یا پھر اس کے دو دانت توڑ دیں‘ یہ ہے شریعت ۔غزوہ خندق کا واقعہ ملاحظہ کیجئے‘ عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا‘ ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور بھی ۔ جنگ کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘ کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘ کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘ سفیر نے لاش نکالنے کے عوض دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘ یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘‘ کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی ‘ خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘ سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا ’’بلال آپ نے یہ کیا کیا‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ﷺجس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘ تبسم فرمایا اور حکم دیا ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی‘ آپؐ نے نماز ادا کروائی اور پھر فرمایا ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا ’’مدینہ‘‘ کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا‘ یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا اور فرمایا ’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں‘‘ نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘ یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتارہا‘ ایک مسلمان نے کسی اہل کتاب کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے اور انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا ’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘ رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا اور فرمایا ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔ مدینہ میں تھے تو مکہ میں قحط پڑ گیا‘ مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکہ بھجوادیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی ’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے‘ آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں‘‘۔ مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے ’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘ یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے ’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔ ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ یہ گرفتار ہو گیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘ یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہمذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘ صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘ حضرت زینبؓ نے عرض کیا ’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘ مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘ صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘ آپ ملاحظہ کیجئے‘ حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا‘ یہ ہے شریعت۔ حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا ’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘ فرمایا‘ وہ دن جب میں طائف گیا اورعبدیالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا‘عبدیالیل طائف کا سردار تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ پر اتنا ظلم کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی جلال میں آ گئی‘ حضرت جبرائیل امین تشریف لائے اور عرض کیا‘ اگر اجازت دیں تو ہم اس پورے شہر کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیں‘ یہ سیرت کا اس نوعیت کا واحد واقعہ تھا کہ جبرائیل امین نے گستاخی رسول پر کسی بستی کو تباہ کرنے کی پیش کش کی ہو اور عبدیالیل اس ظلم کی وجہ تھا‘ عبد یالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا اور عبد یالیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کی دل جوئی کرتے‘ عبداللہ بن ابی منافق اعظم تھا‘ یہ فوت ہوا تو اس کی تدفین کیلئے اپنا کرتہ مبارک بھی دیا‘ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور یہ بھی فرمایا‘ میری ستر دعاؤں سے اگر اس کی مغفرت ہو سکتی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ بار اس کیلئے دعا کرتا‘‘ یہ ہے شریعت۔ مدینہ کی حدود میں آپ کی حیات میں نو مسجدیں تعمیر ہوئیں‘ آپؐ نے فرمایا ’’تم اگر کہیں مسجد دیکھو یا اذان کی آواز سنو تو وہاں کسی شخص کو قتل نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت۔ ایک صحابیؓ نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘ جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘ وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے ’’غصہ نہ کرو‘‘ یہ ہے شریعت اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ’’ پیغمبرؐ اللہ کی بڑی رحمت ہیں‘ آپ لوگوں کیلئے بڑے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں‘ آپ تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب آپ کے گردوپیش سے چھٹ جاتے‘‘ اور یہ ہے شریعت لیکن ہم لوگ نہ جانے کون سی شریعت تلاش کر رہے ہیں‘ ہم کس شریعت کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ کیا کوئی صاحب علم میری رہنمائی کر سکتا ہے؟۔