" میری منفی سوچ"
مجھے تو فخر ہے اور اسے اللہ کا فضل سمجھتا ہوں . کہ میری سوچ میں چودہ سو سال پرانا نظام آج کے تمام نظاموں سے بہتر ہے . مجھے فخر ہے کہ مظلوم آج بھی میری نظر میں معزز ہے اور میرا دوست ہے . ظالم کے ظلم کے سامنے کھڑا ہو جانے کو حماقت نہیں سمجھتا ہوں , اللہ کا کرم خیال کرتا ہوں . اسلامی روایات کو دقیانوسی نہیں سمجھتا ہوں , آج کی روایات کو دیوانگی خیال کرتا ہوں . مجھے اپنی منفی سوچوں پر قائم رہ کا دل کا اطمینان ملتا ہے , موسیقی سے دل لبھانے کی ضرورت نہیں پڑتی . اپنی علمی قابلیت کو اللہ کے احکامات تک محدود رکھنے میں استراحت محسوس کرتا ہوں . کفر اور طاغوت کے معرکوں کی داستانیں ڈھونڈھنے سے گریزاں رہتا ہوں . اپنی زبان بول کر فخر ہوتا ہے اور چبا چبا کر بولی جانے والی انگریزی مجھے مرعوب نہیں کرتی . میری منفی سوچ میرا اعزاز ہے , اسے تادم مرگ قائم رکھنا چاہتا ہوں . مجھے فخر ہے کہ میری اولاد کی سوچ میں میرا ہی رنگ ہے . میں اللہ کا شکر گزار ہوں کہ مجھ جیسے پتھر کے زمانے کی سوچ والے کو بے لگام اولاد نہیں دی . اطاعت اور تابعداری سے سجے ہوئے بچے , میری قدامت پرستی کا انعام ہیں .
دوست کہتے ہیں , میں دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہوں , میں سمجھتا ہوں , کہ جو انعامات مجھے ملے , وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں . اللہ نے ہر اس نعمت سے نوازا , جس کیلئے دعائیں کی جاتی ہیں .
اس منفی سوچ , اس قدامت پرستی , اس اسلامی شعار سے وارفتگی اور اس پر قائم رہنے کی ھٹ دھرمی میرا سکون اور اطمینان قلب ہے .
ازاد ھاشمی
Monday, 25 September 2017
میری منفی سوچ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment