" کربلا کا راستہ "
محرم الحرام کا مہینہ ابد سے حرمت اور تعظیم کا مہینہ رہا . بے شمار واقعات کا تعلق اس ماہ سے ہے . کربلا کے بعد اس کی تخصیص مسلم ہو گئی . کربلا میں جو ہوا , وہ غم اور دکھ کا اچھوتا باب ہے .
حسین علیہ السلام کی قربانی اقتدار , ضد یا ذاتی عناد کی خاطر نہ تھی . اس سچائی پر کبھی کوئی انگلی نہیں اٹھی . جو اس محبت میں مجالس کرتے ہیں . اسکا اجر انکے رب کے پاس ہے . جو دوسری طرح حب اہل بیت ادا کرتے ہیں , انکا اجر بھی اللہ کے پاس ہے .
اصل حب اہل بیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ راہ اختیار کر لی جائے , وہ عمل اپنا لیا جائے جو اہل بیت کو کربلا کی طرف لیکر گیا . درس یہ تھا کہ ملوکیت کو روکا جائے . اور وہ راہ اختیار کی جائے جو احکامات ربی کے مطابق ہو . یہ سبق تو ہم نے بھلا دیا . جسے ہم ازبر نہیں کر سکے نہ اپنا سکے . حسین کی محبت میں وارفتہ لوگ , مظالم کربلا کے دکھوں کو اپنی ذات کا حصہ بنا لینے والے لوگ , معتبر ہیں .
مگر جب یہ لوگ شراب بھی پیئں گے , زنا بھی کریں گے , برائی کا ساتھ بھی دیں گے , احکامات ربی کی تضحیک کرنے والوں کی مدد بھی کریں گے . یزید سے بڑے یزیدوں کے ساتھ بھی کھڑے بھی ہونگے . تو کربلا کا سوگ ایک ڈھونگ بن کر رہ جائے گا . اگر پوری دیانتداری سے دیکھا جائے تو یہی ہو رہا ہے . حسینیت کا علم بلند کرنے کیلئے حسین کا عمل اپنانا ہو گا .
یہ ہو گا رسول اور آل رسول کا حق . اسے ادا کرنا فرض بھی ہے اور ضرورت بھی . یہ ہے وہ راہ جو کربلا کی طرف جاتی ہے .
ازاد ھاشمی
Monday, 25 September 2017
کربلا کا راستہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment