" مساجد , مدرسے اور مولوی "
پاکستان سرزمین , جس میں مساجد کا اندازہ ایک لاکھ بیس ہزار ہے . جبکہ یقینی طور پر غیر رجسٹرڈ مساجد کی گنتی شامل نہیں . علماء , مولوی اور مشائخ کروڑ کے لگ بھگ اندازہ کئے جاتے ہیں , ان میں وہ دانشور شامل نہیں , جو داڑھی کے بغیر مولوی ہیں . مدارس جہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے , چالیس ہزار رجسٹرڈ ہیں اور غیر رجسٹرڈ کا اندازہ ممکن نہیں . پیر پرستی کے دربار بھی ہزاروں کی تعداد میں ہے .
یہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا رحجان کسقدر اسلامی ہے . جہاں اسلامی تعلیم اور تبلیغ کا یہ عالم اور شوق ہو وہاں پر اسلامی تعلیمات سے فرار ناقابل فہم ہے . لبرلز , دین کے سرکش اور اسلام کے مخالفین کتنے ہونگے . جنکا نہ کوئی سکول ہے اور نہ کوئی مربوط ٹھکانہ . پھر کیا وجہ ہے کہ چند کامیاب ہیں اور اکثریت ناکام . کیا وجہ ہے کہ اتنے عالم اور شیوخ کی موجودگی میں بھی نظام اسلام مدرسوں میں قید ہو کر رہ گیا اور بی بی جمہوریت روز بروز تقویت پکڑتی جا رہی ہے . ہر مولوی کے بیسیوں مقلد اور شیدائی ہوتے ہیں . پھر ان لوگوں کو اسطرف کیوں نہیں لگایا جاتا کہ اسلامی نظام کیطرف سوچنا شروع کریں . کیا پڑھایا جاتا ہے ان چالیس ہزار مدرسوں میں . اگر یہی لوگ اور انکے مقلدین خاص ہی متحد ہو جائیں تو اسلامی قوانین کا اطلاق ایک دن میں ہو سکتا ہے . مسالک کا دھندہ روزی اور آسائشوں کا ماخذ سہی . نہیں روکنا چاہتے مت روکیں . کم از کم سب کا اللہ تو ایک ہے , رسول تو ایک ہے , قران تو ایک ہے . اپنے اپنے فقہ کی حدود و قیود , سزائیں اور شرائط الگ الگ لاگو ہونے میں قباحت بھی نہیں . چور جس مسلک کا بھی ہو اسی فقہ کے مطابق ہاتھ کاٹ دو . زانی جس مسلک کا بھی ہو اسی مسلک کے مطابق سنگسار کر دو . بد عنوان کی سزا اسی کے فقہی دستور پر دے دو .
اگر یہی علماء , شیوخ اور مولوی پورے اخلاص سے اپنے فرائض ادا کریں تو جمہوریت کا جنازہ اسی انتخاب پہ اٹھ جاتا ہے . اگر نہیں کیا جاتا تو اس رسوائی کے لئے تیار ہو جائیں جو لبرلز اور طاغوت تیار کر رہا ہے . جیسے آج ہر داڑھی والا دہشت گرد بنا دیا گیا ہے . علماء کی تضحیک کا ایک طوفان اٹھے گا , جس میں علماء کا کردار نشانہ بنے گا . تعظیم اور توقیر کا بھرم ختم ہو جائے گا .
اللہ کا قانون یہی ہے جو اللہ کے نظام سے مکر کرتا ہے تو اللہ اس سے مکر کرتا اور اللہ کا مکر ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے .
از راہ کرم نہ سہی , اپنی عاقبت کے خوف سے ہی سہی . آپ فکر کریں اور حجروں سے نکل کر طاغوت کو روکیں . دعائیں بھی اسی وقت قبول ہوں گی جب عمل شامل ہو گا .
ازاد ھاشمی
Monday, 25 September 2017
مساجد مدرسے اور مولوی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment