" علیؑ کی شہادت "
شہادت گواہی کو بھی کہتے ہیں اور شہادت اللہ کی راہ میں جان دینے کو بھی ۔ اگر ہم ان دونوں معانی کو حیدر کرارؑ کی ذات سے جوڑ کر دیکھیں تو دونوں عظیم تر درجے پر ہیں ۔ نہایت کم عمری میں ، جب لڑکپن کا وقت ہوتا ہے ، جس وقت کی گواہی معتبر نہیں ہوتی ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے علیؑ سے گواہی دلائی اور بہت عظیم گواہی دلائی ۔ اللہ کے نبیؐ کی بعثت کی گواہی ۔ اللہ کے نبیؐ کی صداقت کی گواہی ۔ وحی کے نزول کی گواہی ۔ الہام کی گواہی ۔ قرآن کی پہلی آیت کی گواہی ۔ آج اس گواہی کی صداقت پر دنیا قائم ہے اور ایمان لا چکی ہے کہ
" محمد اللہ کے رسول " ہیں ۔
عرب کے بت پرستوں کو ، شیطان کے پجاریوں کو ، گمراہی میں گھرے سرداروں کو اس گواہی سے بھی عناد تھا اور گواہ سے بھی عناد رہا ۔
مگر رسولؐ کو اس گواہی سے بھی پیار تھا اور گواہ سے بھی ۔ جہاں ضرورت پڑی ، جب ضرورت پڑی ، اس ننھے گواہ کو آواز دے لی ۔ پھر اس گواہ کی طاقت کے سامنے بڑے بڑے پہاڑ بے بس ہوگئے ۔ دشمن تلملاتے رہے ، انتظار کرتے رہے کہ کب اس روشن چراغ کو بجھا دیں ۔ مجرم ہمیشہ اس کھوج میں رہتا ہے کہ اسکے جرم کا پردہ کھولنے والے کو کب نشانہ ستم بنائے ۔ علیؑ کی عظمت اور شان کچھ مجرم خصلت لوگوں کیلئے حسد کا سبب بھی تھی اور یہ خوف بھی کہ علیؑ ہو گا تو انکی سرداری قائم نہیں ہو پائے گی ۔ یہ وہ سبب تھا کہ بد بخت ابن ملجم کے ہاتھ میں زہر میں بجھا ہتھیار تھما دیا کہ اگر وار کارگر نہ ہوا تو زہر کا اثر جان لے لے گا ۔
اب دوسری شہادت کا وقت تھا۔ اللہ کی راہ میں جان دینے کا وقت ۔ اللہ کے دین کو خون سے آبیاری کا وقت ۔ وہ علیؑ جس کے سامنے عرب و عجم کے بڑے بڑے شہ زور بھی کانپنے لگتے تھے ۔ کس کی مجال تھی کہ علیؑ پر تلوار سونت لے ۔ کون تھا جو سامنے آکر مقابلے کی جرات کرتا ۔ کم ظرف جانتے تھے کہ علیؑ کا سجدہ ، علیؑ کا رکوع ، اور علیؑ کی نماز اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کی شکل تھی ۔ دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو کر سجدہ ریز ہونا ، علیؑ کی شان تھی ، تربیت تھی اور مزاج تھا ۔ اسلام کے لبادے میں منافق مشاہدہ کر چکے تھے کہ جب بھی شیر خدا کے جسم سے نیزے ، تیر یا بھالے کا پھل نکالا ، سجدے میں نکالا تو آپؑ کی زبان سے کبھی درد کے احساس کی آواز نہیں سنی گئی ۔ ابن ملجم نے اسی لئے مسجد کا انتخاب کیا ۔ عقب سے وار کرنا ، نہایت بزدل کی نشانی ہوا کرتی ہے ۔
" اللہ کے گھر میں پیدا ہونا اور اللہ کے گھر سے واپس جانا " پوری کائنات میں صرف علیؑ کی شان ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ مئی ٢٠١٩
Saturday, 25 May 2019
علیؑ کی شہادت
Friday, 24 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (10)
" اسلامی نظام کیوں اور کیسے (10)
تجارت وہ شعبہ ہے ، جو کسی بھی حکومت کی معیشت میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ دنیا میں جتنے بھی ممالک ترقی یافتہ ہیں یا ترقی پذیر ہیں ، ان سب کی معاشی بیساکھی " تجارت " ہے ۔ جو ملک جتنا دیانتدار ہے ، اسکی تجارتی ساکھ اتنی ہی مضبوط ہے ۔ تجارت میں دیانتدار اور رویہ کسی بھی قوم کے کردار کا غماض ہوتا ہے ۔ شومئی قسمت سے ہم اس شعبے میں اچھی شہرت نہیں رکھتے ۔ ملاوٹ ، ذخیرہ اندوزی ، بد عہدی ، وزن میں کمی ، کوالٹی پر مصالحت وغیرہ وغیرہ ، وہ عام برائیاں ہیں جو ہمارا معمول ہیں ۔ ہمارا مزاج ہے کہ اپنے گاہک سے دھوکہ کر کے زیادہ منافع حاصل کیا جائے ۔ اس رحجان نے ہمیں بین الاقوامی منڈیوں میں بدنام کر رکھا ۔ اس پر طرہ یہ کہ حکومت میں اس پر نہ کوئی پکڑ ہے ، نہ متحرک قانون اور نہ ہی کنٹرول پر توجہ ۔ شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ادارے رشوت کو حق سمجھ چکے ہیں ۔ شاید یہ وجہ بھی ہے کہ تاجر اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اور وہ سیاسی پارٹیوں کے فنانسر بھی ہوتے ہیں ۔ وہ اسطرف توجہ ہی نہیں ہونے دیتے ۔
وجہ جو بھی ہے ، قابل قبول نہیں کیونکہ اس برائی کے اثرات پورے معاشرے پر ہوتے ہیں ۔ تجارت میں ایک رحجان ، ذخیرہ اندوزی کا ہے ، جو عام ہے ۔ تجارت میں سود عملی طور پر شامل ہے ، جو قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ، اسی طرح بے ہنگم ٹیکس بھی ہمیں بین الاقوامی منڈیوں سے دور کر رہا ہے ۔ پچھلے ستر سال سے ہم اپنی تجارتی نیک نامی حاصل کرنے میں ناکام ہیں ۔ چونکہ جمہوری عمل میں پارلیمنٹ اور حکومت تک پہنچنے والے کسی نہ کسی طرح سے تاجر ہی ہیں ۔ اور یہ شعبہ ناکام ہو گیا ۔
اب اسی شعبے کو اسلامی نظام کے تحت دیکھتے ہیں ، تو تمام مذکورہ خرابیاں ، حرام ہیں اور قابل گرفت ہیں ۔ اسلام میں ذخیرہ اندوزی نہ صرف برائی ہے بلکہ قابل گرفت جرم اور ناجآئز ہے ۔
تاجر کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی شے کے عیب نہ چھپائے ۔ باب العلم حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سوال کیا گیا کہ منافع کی شرح کیا ہونی چاہئے ؟ آپؑ نے فرمایا ۔
" پچیس فیصد جس میں تجارت اخراجات شامل ہوں ، جائز ہے ۔ چالیس فیصد زیادتی ہے اور اسی فیصد ظلم ہے ، واپس لوٹانا پڑے گا " یعنی اگر آپ کا منافع غیر منطقی ہے تو کسی نہ کسی صورت میں آپ کی دسترس سے نکل جائے گا ۔
اسلامی نظام میں جو تجارتی حدود نافذ ہوتی ہیں ، وہ تجارت کی بہترین شکل ہے ۔ اب ان اسلامی شرائط کو تجارت پر لاگو کرنے میں کونسی رکاوٹ ہے؟ کونسا جہاد ضروری ہے کہ اس شعبے کو اسلامی نظام سے مربوط کر دیا جائے ؟
محض عذر بے معنی ہے ۔
۔۔جاری ہے ۔۔ ملاحظہ ہو قسط ١١ ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ مئی ٢٠١٩
Wednesday, 22 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے (9)
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (9)
نظام کوئی بھی ہو ، ملک کی معیشت انتہائی اہم ہوتی ہے ۔ معیشت کی بہتری اس بات کی دلیل ہے کہ عوام ذہنی دباو سے آزاد رہتے ہیں اور مثبت سوچ کے ساتھ مثبت اقدام کرتے ہیں ۔ یہ وہ گر ہے جو ترقیاتی سوچ کو جنم دیتا ہے ۔ اگر معیشت متوازن نہ ہو تو بیشمار مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ بد دیانتی ، بدامنی ، لوٹ کھسوٹ وغیرہ عام ہو جاتے ہیں ۔ چونکہ عوام کی سہولیات کا گہرا تعلق ملکی معیشت سے جڑا ہوتا ہے ۔ اسلئے یہ شعبہ انتہائی اہم ہے ۔ ہم چونکہ معیشت کی نچلی سطح پر ہیں ، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ کیا مسائل ہیں ، جو ہماری معیشت کو بہتر نہیں ہونے دیتے اور انکا حل کیا ہے ۔
ہم ایک مقروض ملک ہیں ، اور ہم پر قرضوں کے بوجھ کے مسلسل اضافہ کی ایک بڑی وجہ وہ سود ہے جو ہم ادا کرتے ہیں ۔ سود کا نظام ہمارے کاروبار کا بھی بڑا حصہ بن چکا ہے ۔
دوسری بڑی وجہ انتخابی عیاشی ہے جو ہر پانچ سال بعد روایت بن گئی ہے ۔
تیسری بڑی وجہ جمہوری طرز سے آنے والی حکومت کی شہ خرچی اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہے جو پارلیمان ، وزراء ، حکمران بے دریغ کرتے ہیں ۔
ان تمام اخراجات کو پورا کرنے کیلئے عوام پر ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ، پیداوار پر اضافی بوجھ ڈالا جاتا ہے ۔ جس بناء پر تجارت متاثر ہوتی ہے اور ملکی مصنوعات کے مقابلے میں بیرونی مصنوعات سستی ہو جاتی ہیں ۔ تجارت کا توازن دو طرح سے بگڑنے لگتا ہے ، ایک برآمدات کم ہوتی ہیں اور درآمدات بڑھ جاتی ہیں ۔ موجودہ نظام حکومت میں ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔
اب اسی نظام معیشت کو اسلامی طرز حکومت کے تحت دیکھیں تو ٹیکس کے نظام کی جگہ زکوٰة ، عشر اور خمس لے لیتے ہیں ۔ ان تمام طریقوں سے نہ پیداواری اخراجات بڑھتے ہیں اور نہ غریب پر بوجھ پڑتا ہے ۔ یہ
" زر مردہ" کو " زندہ معیشت " میں تبدیل کرنے کا بہترین گر ہے جو کسی دوسرے نظام میں نہیں ۔ امراء اور حکمرانوں کا احتساب ہوتا ہے اسلئے وہ ایک کلئے اور قاعدے کے تحت چلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ ایک مختصر سی شوریٰ ہوتی ہے ، جس کے اخراجات واجبی سے ہوتے ہیں ۔ ٹیکس نہ ہونے کے باعث اشیائے صرف سستی ہو جاتی ہیں اور آسانی سے بین الاقوامی منڈی میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں ۔ سود کی جگہ "مشارکہ " اور " مضاربہ " لاگو ہو جاتا ہے ۔
اب ان اصطلاحات کو نافذ کرنے میں کونسا جتن کرنا ہوگا ۔ کونسے فساد کا خطرہ ہے ؟
۔۔۔ جاری ہے ۔ قسط ١٠ ملاحظہ فرمائیں ۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ مئی ٢٠١٩
Tuesday, 21 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 1
" اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (1) "
موضوع کی طوالت کے تحت چند حصوں میں لکھنے کی کوشش ہے تاکہ موضوع کی وضاحت ہو سکے ۔
اسلامی نظام کا قیام کیوں ضروری ہے ، یہ سمجھنے سے پہلے ہمیں مروج نظام کو دیکھنا ہوگا ۔ اس بارے میں جمہوریت پر چند نا گزیر سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ انہیں پرکھ لیا جائے تو معاملات زیادہ آسانی سے سمجھ آجاتے ہیں ۔
١- کیا جمہوریت نظام حکومت ہے یا اقتدار کے حصول کی سیڑھی ؟
شاید اس میں کسی کو شک و شبہ نہیں کہ جمہوریت قطعی طور پر نظام حکومت نہیں ۔ یہ ایک طریقہ ہے ، راستہ ہے اور سیڑھی ہے جو اقتدار پر پہنچنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے ۔ اس سیڑھی کے استعمال کے بعد ایک مخصوص وقت تک یہ سسٹم غیر فعال ہو جاتا ہے ۔ اس جمہوری عمل کی ایک ناکامی یہ ہے ۔ اگر کسی دوسرے نے سو میں سے گیارہ ووٹ حاصل نہیں کئے تو گیارہ ووٹ حاصل کرنے والا فاتح ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ تین فیصد ،چار فیصد اور پانچ فیصد اکٹھے مل بیٹھیں اور اقتدار بانٹ لیں ۔ جمہوری عمل کا سب سے ناقص اور کمزور پہلو یہی ہے ۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ
٢ ۔ کیا جمہوریت کے تحت حکمران کیلئے کردار کا کوئی معیار قائم ہے ؟ "
کسی بھی ریاست کا حکمران اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کوکماحقہ پورا کرے گا ۔ ریاست کے مفادات کا تحفظ کرے گا ، عادل اور منصف ہو گا ، ریاستی مذاہب اور عقائد کو انکی حدود میں رکھے گا ۔ یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ اسکا کردار صالح اور عیب دار نہ ہو ۔ عادی مجرم اور معاشرتی برائیوں سے آلودہ شخص کو اقتدار دینا قرین قیاس نہیں ہے ۔ اسکے لئے اسکا ماضی اور اسکے روز مرہ معمولات بہت اہم ہوتے ہیں ۔ جمہوریت میں کردار کوئی شرط نہیں ، اسکے معاشرتی اور سماجی معاملات سے کوئی سروکار نہیں ۔ اگر معاشرے کے کسی حصے میں بدقماش لوگوں کی اکثریت ہے تو وہ کسی بدقماش کے سر پر کامیابی کی ٹوپی رکھ سکتے ہیں ۔ اسطرح اقتدار پر پہنچنے والے چوں چوں کا مربہ بن جاتے ہیں ۔ اور وہ عوام کے مسائل سے زیادہ اپنے مسائل میں الجھے رہتے ہیں ۔ مثبت نتائج مبہم ہو جاتے ہیں ۔ جمہوریت کا بہت منفی پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ شاید ہم نے اس تلخ تجربے کا ذائقہ چکھا ہے ، چکھ رہے ہیں اور چکھتے رہیں گے ۔
۔۔۔۔مزید اگلی پوسٹ میں جاری ہے ۔ ۔۔۔
آزاد ھاشمی
مئی ١١ ۔ ٢٠١٩
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 2
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (2) "
گذشتہ تحریر میں جمہوریت پر دو سوال اور انکے ممکنہ جواب تحریر کئے تھے ، جن پر کوئی اختلاف نہیں کیا گیا اور جمہوریت کے مبلغ حقائق سے متفق نظر آتے ہیں ۔ اس تحریر میں مزید سوالات پر خیال آرائی کی کوشش ہے ۔ سوال ہے کہ
٣- کیا جمہوری نظام میں ووٹ دینے والے کی اہلیت میں عمر کے علاوہ کوئی دوسرا پیمانہ قائم ہے ؟ "
جب جمہوری عمل کا آغاز ہوا تو اس کا مرکز یونان تھا ، وہاں ووٹ دینے کا ایک پیمانہ نافذ کر دیا گیا ، جس کے تحت چند مخصوص طبقہ کے پاس یہ حق تھا ۔ عام سطح کے کسی شخص کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا ۔ طاقتور اشرافیہ کی تشکیل کیلئے مرتب کیا جانے والا یہ نظام جمہوریت کہلایا ۔ مگر رفتہ رفتہ اس کو پھیلانا شروع کیا گیا اور یورپ کے ممالک نے انسان کے بنیادی حقوق کی نفی کہہ کر اس میں ایک حد لاگو کر دی کہ ووٹ دینے والے کا بالغ ہونا اور آزاد خیال ہونا ضروری ہے ۔ وہ اپنی رائے کو آزادی سے استعمال کرنے کے اہل ہو گا۔ یہاں اہلیت ، تعلیمی قابلیت ، جنس اور کردار کی حد ختم کر دی گئی ۔ یہ اہمیت کیوں ختم کی گئی ؟ اسکے پیچھے ایک شاطرانہ چال تھی ۔ سیاست کے کھلاڑی اچھی طرح سے اگاہ تھے کہ عقلی اور کردار کی شرط عائد کر دی گئی تو سیاسی مداری اپنا کھیل کھل کر نہیں کھیل سکیں گے ۔ سیاسی گروہوں کی اجارہ داری کسی وقت بھی ختم ہو جائے گی ۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ سیاست سے متعلق لوگ خدمت خلق کا کھیل پیش کرکے اقتدار حاصل کرتے ہیں ۔ ذہین اور صاحب الرائے لوگ انکے کردار کو دیکھ کر انہیں میدان سے باہر کر سکتے ہیں ۔ سیاست پوری دنیا میں ایک پیشہ کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ آج کسی بھی ملک میں دیکھ لیں وہی لوگ اقتدار میں آتے ہیں جو بطور پیشہ سیاستدان ہیں ۔ ان سیاسی شعبدہ بازوں نے اپنے اپنے ووٹر مختلف طریقوں سے نتھی کر رکھے ہیں ۔ چونکہ ان ووٹرز کا تعلیمی معیار ، کردار ، معاشرتی رہن سہن ، معاملات کی سوجھ بوجھ مشروط نہیں ہے تو یہ ووٹر اپنے مفادات ، کم فہمی ، ذاتی تعلقات اور پارٹی یا امیدوار سے ذاتی وابستگی کو اہمیت دیتے ہیں ۔ یوں ایک مخصوص گروہ بن جاتا ہے ۔ جسے پارٹی کہہ لیا جاتا ہے جبکہ ہر پارٹی میں صاحب اختیار لوگ چند ہوتے ہیں باقی سب انکے کارندوں کا کردار کرتے ہیں اور کارکن کہلاتے ہیں ۔ چونکہ ووٹر کی اہلیت کا کوئی معیار نہیں تو عام طور پر ووٹ کے استعمال میں زیرک اور عقل و فہم والے لوگ اس جمہوری عمل سے الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ کسی بھی سیاستدان کیلئے اس سے اچھی بات کوئی نہیں کہ اسکا ووٹر مطلب پرست ، عقل و شعور سے پیدل ، مجرم پیشہ یا لالچی ہو ۔ یہ وہ گر ہے جو جمہوریت کے میدان میں عمل پیرا ہوتا ہے اور شاطر شخص سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ کردار باختہ لوگ اس جھمیلے میں نہیں پڑتے کہ انکا امیدوار باکردار ہے یا نہیں ۔ انہیں صرف یہ سرو کار ہوتا ہے کہ انکے جائز اور ناجائز مفادات کیسے حاصل ہونگے ۔ اسلئے جمہوریت میں ووٹر کی اہلیت کا کوئی معیار مقرر نہیں ہے ۔ یہ ایک بنیادی خامی ہے جو بدکردار اور اقتدار پرست طبقوں کو بقا بخشے ہوئے ہے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔ اگلی قسط ملاحظہ فرمائیں "۔۔
آزاد ھاشمی
مئی ١٢ ۔ ٢٠١٩
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 3
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (3) "
اس ضمن میں دو اقساط پیش کر چکاہوں جس میں جمہوریت کے حقائق پر لکھنے کی اشد ضرورت محسوس کی گئی کیونکہ جب تک جمہوریت سمجھ نہیں آئے گی تب تک اسلامی نظام کے نفاذ کا طریقہ سمجھ نہیں آ سکتا ۔ یہاں پہ یہ واضع کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ جمہوریت کا طریقہ اتحاد ملت کو کسطرح شکست و ریخت سے دوچار کرتا ہے ۔
سوال ہے کہ
٤ ۔ کیا جمہوریت گروہ بندیوں کو جنم دینے کا باعث نہیں بنتی ؟
جمہوری عمل کی سب بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں شامل ہر گروہ اپنے مخصوص نعرے استعمال کر کے اپنے ہم خیال لوگوں کو پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے اور پھر اسی پلیٹ فارم سے دوسرے لوگوں کے ذہن پراگندہ کئے جاتے ہیں ۔ یہاں مودی کا بھارت کی سیاست میں کردار اس کی ایک زندہ مثال ہے کہ اس نے مذہب کو اشتعال میں لاکر اقتدار حاصل کیا. گو اسکا یہ عمل اپنے ملک کے اندر ایک انارکی کا سبب بنے گا. ٹرمپ کا اقتدار میں آنا بھی ایسی ہی ایک کڑی ہے ۔ اب جب ہم پاکستان کے جمہوری عمل کو دیکھتے ہیں تو بہت ساری جماعتیں لسانی تعصب کو ہوا دیتی نظر آتی ہیں ۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ہی نہیں ، سندھ کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی لسانیت کے نام پر جو قتل و غارت گری ہوئی ، اور جو یکجہتی اور اتحاد کو نقصان پہنچا کہ علاقوں میں نو گو ایریاز بن گئے ۔ اسکے پیچھے وہ طاقت کار فرما تھی جو جمہوریت کے نام پر حاصل کرکے پارلیمانی نظام پر غلبہ حاصل کر لیا گیا ۔ لسانی تعصب کے نام پر پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں کئی پارٹیاں پوری قوت سے متحرک ہیں ۔ علاقائی سوچ بھی نہائت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے ۔ جو مزید گروہ بندی کرے گی ۔ یہی حال کچھ مسالک کا ہے ۔ کئی ایک پارٹیاں مسلک کو استعمال کر کے بھی ووٹ لینے کی کوشش کرتی ہیں ۔ تعجب خیز ہے کہ اس جمہوری نظام میں ذات برداری کو بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ کسی برادری کا کوئی معتبر شخص اگر کسی سیاستدان سے منسلک ہے تو پوری برادری کو امیدوار کی ہر برائی کے باوجود اس بات قائل کرتا ہے کہ اسے ووٹ دیا جائے ۔ کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ جتنی پارٹیاں ہونگی ، اتنے گروہ ہونگے اور ہر گروہ کے اپنے اپنے مفادات اولیت پر ہونگے ۔
۔۔۔" مزید ملاحظہ ہو اگلی قسط میں "۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٣ مئی ٢٠١٩
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 4
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (4) "
گذشتہ اقساط میں جمہوری عمل کے جو پہلو واضع کئے گئے ، جو ہر لحاظ سے عوام کے مفاد عامہ کی راہ میں کھلی رکاوٹ ہیں ۔تا حال جمہوری عمل کا سبق پڑھانے والے کسی ایک محقق نے حقیقت سے انکار نہیں کیا ۔ جمہوری عمل کی چند مزید قباحتیں بھی ہیں ۔ سوال ہے کہ
٤ ۔کیا جمہوریت میں دو طبقے جنم نہیں لے لیتے ، ایک اشرافیہ اور دوسرے عوام ؟ "
جمہوریت کی افادیت میں کہا جاتا ہے کہ
"عوام کی حکومت عوام کیلئے " ۔ اس نعرے کی حقیقت بالکل مختلف ہے ۔ بلکہ جمہوریت کے طرز انتخاب سے دو طبقے جنم لیتے ہیں ۔ ایک وہ جو اس عمل کے تحت اقتدار میں آتے ہیں اور دوم وہ جو انکو ووٹ دیتے ہیں ۔ مراعات کا سارا حق اقتدار میں آنے والوں کو ملتا ہے اور عوام کو اس طرح کا کوئی استفادہ حاصل نہیں ہوتا ۔ اگر ہم پوری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص دیکھیں تو کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا کہ جمہوریت میں اقتدار چند مخصوص لوگوں کے گرد گھومتا ہے اور بطور وراثت انکی نسلوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ پاکستان میں چند خاندان خاص علاقوں میں کئی نسلوں سے کئی سیٹوں پر قابض ہیں ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کی اکثریت انہی لوگوں کی نظر آئے گی جو خاندان سیاست کو بطور پیشہ اپنا چکے ہیں ۔ ہاں کبھی کبھی کچھ نووارد بھی دھونس دھاندلی سے ، شاطرانہ چالوں سے ، عوام کو بہکا کر اس دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر عمر بھر اسی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں ۔ وہ مخلوق جو خود کو عوام کہتی ہے ، انتخاب کے بعد پانچ سال تک تماشا دیکھتی رہتی ہے ۔ پھر نئے انتخابات ہوتے ہیں اور وہی چہرے سیٹیں بدل کر دوسری سیٹوں پہ جا بیٹھتے ہیں ۔
سوال ہے کہ
٥ - کیا عملی طور پر جمہوریت میں اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے یا چند افراد کی مٹھی میں رہتا ہے ؟
نہایت دیانتداری سے تجزیہ کریں کہ جب سے جمہوریت کی دیوی نے قدم رکھا ہے ۔ کب اور کہاں ایسا ہوا کہ عوام نے کوئی فیصلہ کیا ہو اور وہ عملی طور پر لاگو ہو گیا ہو؟ عوام بہت تیر مار لیں تو احتجاج کر سکتے ہیں ، جلسے کر کے شور مچا سکتے ہیں ، جلوس نکال کر خود فریبی کر سکتے ہیں مگر اقتدار میں بیٹھے پنڈتوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ وہ اپنی مدت پوری بھی کرتے ہیں اور اگلی مدت کے امیدوار بھی ہوتے ہیں ۔
۔۔۔۔ جاری ہے اگلی قسط ملاحظہ ہو ۔۔۔
آزاد ھاشمی
مئی ۔ ١٤ ۔ ٢٠١٩
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 5
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟( (5 ) "
جمہوریت پر ایک ایسا سوال ہے ، جو عوام کی معاشی ترقی سے متعلق ہے ۔ سوال ہے کہ
٦ ۔ کیا جمہوری عمل معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ نہیں ؟
ایک دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ
٧ ۔ پارلیمان کا دائرہ عمل ہے کہ وہ قانون سازی کریں تاکہ عوام کو سہولیات کی راہ ہموار ہو ۔ کیا قانون سازی کیلئے ایک فوج کی ضرورت ہے یا چند زیرک اور معاملہ فہم قانون دانوں کی ؟ "
اسراف ہمارے دین میں ایک ناقابل قبول خرابی ہے اور قرآن میں واضع الفاظ میں کہا گیا کہ اللہ پاک اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اسراف وہ اخراجات ہیں جو اپنی استطاعت اور ضرورت سے باہر ہو کر کئے جائیں ۔ جمہوری عمل کھلا اسراف ہے ، جو ملک کی معیشت کو معذور کر کے رکھ دیتا ہے ۔ وہ ملک جہاں لوگ صاف پانی کو ترس رہے ہوں ، عورتیں سڑکوں پر بچے جننے لگیں ، غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے ہوں ، بچے درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہوں ، وہاں ہر پانچ سال اربوں روپے کا ضیاع اسلئے کر دیا جائے کہ چور اچکے منتخب کر کے اسمبلی کی سیٹیں رونق افروز کی جائیں ۔ سینکڑوں ممبران کو منتخب کیا جائے اور پھر انہیں ہر ماہ اربوں روپے تنخواہ اور مراعات دی جائیں ۔ ان ممبران کی افادیت کیا ہے؟ ستر سال سے کونسی قانون سازی ہوئی ، کونسی دستوری پیچیدگیاں درست کی گئیں ، عوام کی سہولیات کے کتنے قانون بنے ؟ نظام حکومت میں کیا تبدیلی آئی ؟
اگر تجزیہ کیا جائے تو سینکڑوں ممبران میں کتنے صاحب الرائے ہوتے ہیں اور کتنے ہاتھ کھڑا کرنے والے ؟
جمہوری عمل کا بد ترین پہلو یہ ہے کہ ہر قانونی اور دستوری تبدیلی کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اکثریت کی رائے شامل ہو ۔ جس وجہ سے کوئی بھی عوامی مفاد کی تجویز رد ہو سکتی ہے ۔ بڑی خامی یہ ہے کہ جتنے لوگ زیادہ ہونگے ، کسی رائے پہ اتفاق کے اتنے ہی کم چانس ہونگے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریت پر بیشمار سوال باقی ہیں ۔ مگر موضوع کی طوالت کے پیش نظر اگلی قسط میں یہ بحث زیر غور ہوگی کہ " اسلامی نظام کا نفاذ کیسے "
آزاد ھاشمی
١٥ مئی ٢٠١٩
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 6
اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟( 6 ) "
گذشتہ اقساط میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جمہوریت کسی بھی اعتبار سے نہ تو نظام ہے اور نہ اقتدار تک رسائی کا مناسب طریقہ ۔ کوئی ایک ایسی خوبی نظر نہیں آتی کہ ہم اس سے چپکے رہیں ۔
اس قسط میں ہم ان اعتراضات کو دیکھتے ہیں جو عام طور اسلامی نظام کے نفاذ کی بات پر کئے جاتے ہیں ۔
١ ۔ کہا جاتا ہے کہ اسلامی نظام جمہوریت کے بغیر ممکن ہی نہیں اور ناقابل نفاذ ہے ۔
٢- یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ جمہوریت کے بغیر سربراہ مملکت کا کیا طریقہ ہو گا ؟
٣ ۔ ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ آج تک کب اور کہاں اسلامی نظام نافذ ہوا ، جسے ہم بطور رہنمائی دیکھ سکیں ؟
٤ ۔ اگر شوریٰ کا تقرر کیا جائے تو شوریٰ میں لوگوں کا انتخاب کیسے ہو گا ؟
٥ ۔ ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ کونسا اسلامی نظام نافذ ہوگا ؟ سعودی یا ایرانی ؟
٦ ۔ یہ خوف بھی ہے کہ اگر جمہوریت کے بغیر اسلام نافذ کرنے کی کوشش کی جائے تو بہت قتال ہو گا ۔
٧ ۔ یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اسلامی نظام میں مسالک کے الگ الگ فقہ ہیں ، تو کونسا فقہ نافذ العمل ہو گا ؟ ۔
ایسے بیشمار خدشات اور سوالات سامنے آتے ہیں ، جو یہ یقین دلانے کی کوشش میں کئے جاتے ہیں کہ اگر کسی ذہن میں یہ فتور ہے کہ اسلامی نظام لازم ہے تو وہ فتور نکل جائے ۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ یہ سوالات لبرل کم اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے زیادہ کرتے ہیں ۔ تاویلات بے ہنگم اور بے معنی سی ہوتی ہیں ۔ بے دلیل بحث اور چند رٹے ہوئے سوالات کی بھرمار ہو جاتی ہے ۔
اصل الجھن یہ ہے کہ ہم اسلامی نظام کو " خلافت " کے ساتھ نتھی کر کے دیکھتے ہیں ۔ خلافت کے تصور کو ناقانل عمل کہا جا سکتا ہے ، کیونکہ خلافت کیلئے تمام امت مسلمہ پر واحد حکمران کا تصور ہے ۔ جو جغرافیائی حدود بندی کی وجہ سے ناقابل عمل ہے ۔ مگر کسی ایک خطے کیلئے کوئی بھی نام منتخب ہو سکتا " امیر " بھی کہا جا سکتا ہے یا کوئی دوسری اصطلاح استعمال کی جا سکتی ہے ۔ لہذا یہ موضوع بے معنی ہے کہ خلافت کیسے قائم ہو گی ۔
جب ہم آصطلاح " اسلامی نظام " استعمال کرتے ہیں ۔ تو جو امر سمجھنے کی ضرورت ہے وہ " نظام " ہے ۔
ہم انشاء اللہ اگلی قسط میں " اسلامی نظام " اور دیگر " نظام ہائے سلطنت " پر سرسری تقابل دیکھیں گے ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٥ مئی ٢٠١٩