اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟( 7 ) "
اس بحث کا بنیادی نقطہ " نظام حکومت " ہے ، کہ حکومت کن خطوط پر استوار ہونی چاہئیے ؟ ہم نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ جمہوریت کو نظام حکومت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ حکمران چننے کا ایک طریقہ ہے ، مشاہدات اس امر کی دلیل ہیں کہ اس طرز انتخاب میں پیشہ ور سیاستدانوں کا تسلط قائم رہتا ہے ۔ جس میں شاذ ہی کوئی اخلاقی کردار کا حامل ہو ۔ اسلئے ممکنات میں سے نہیں کہ کوئی صالح ، باکردار اور اہل شخص حکمرانی کی کرسی تک پہنچ پائے ۔
" نظام حکومت " حکومت چلانے کے قواعد و ضوابط اور طریق کار ہے ۔ حکومت کا اولین فرض عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی ، ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت اور زیر تسلط علاقے کی معاشرتی اور معاشی بہبود کو احسن انداز میں چلانا ہوتا ہے ۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کچھ ادارے اور شعبے تشکیل دئیے جاتے ہیں ۔ ان اداروں اور شعبوں کی ذمہ داریاں اور اختیارات وضع کئے جاتے ہیں ۔ جو ایک طے شدہ دستور کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ مروجہ طرز انتخاب سے پارلیمان میں آنے والے ممبران کو ان طے شدہ دستور میں خامیاں تلاش کر کے اسے درست سمت لانا ہوتا ہے ۔ جو عام طور سیاسی کشمکش میں کبھی نہیں ہوا ۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دور میں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے سوا کسی اہم امر کیطرف دیکھنا گوارہ بھی نہیں کرتیں ۔
عوام کے جان ، مال اور عزت کے تحفظ کیلئے
" محکمہ داخلہ " قانونی حدود اور عدل و انصاف کیلئے " عدالتیں " تشکیل دی جاتی ہیں ۔
جب سے پاکستان وجود میں آیا یہ دونوں ادارے ، سیاسی دباو کا شکار رہے ، ان دونوں اداروں میں اہلیت سے زیادہ سفارش اور اقرباء پروری قائم رہی ۔ اور ہر آنے والی حکومت صرف اپنے لوگوں کو کلیدی عہدوں پر بٹھانے تک محدود رہیں ۔ جو قانون انگریز نے دیا ، اسے ہی لیکر چلتے رہے ، جس میں مجرم کو سزا دینے کے طریقے کم اور بچانے کے گر زیادہ ہیں ۔ یہ وہ سقم ہے کہ عام شہری کو جان ، مال اور عزت کے بنیادی حقوق حاصل نہ ہو سکے ۔ قانون وکلاء کی شاطرانہ ذہنیت اور ججز کے مفادات اور صوابدید کا شکار ہو گیا ۔ محافظ ادارے سیاستدانوں کے گھریلو اور پالتو ملازم بن گئے ۔ یہ سب نظام صرف جمہوری طرز انتخاب کے سبب ہوا ۔
جب انہی دو شعبوں کو " اسلامی نظام " کے ماتحت کر کے دیکھتے ہیں تو بلا شک ان کی کارکردگی بہتر نظر آتی ہے ۔ قاضی کو جرات ہی نہیں ہوتی کہ وہ کوئی مفاد یا صوابدید سامنے رکھ کر فیصلہ کرے ۔ قاضی کے انتخاب میں جو شرائط نافذ ہیں اسکے تحت کوئی بھی کردار سے عاری شخص قضاة تک پہنچ ہی نہیں پاتا ۔ عدل کے قانون اور دستور اللہ کیطرف سے نافذ کرتا ہے جس میں نہ کوئی خرابی ، نہ مصلحت اور نہ کوئی لچک ۔ اگر یہ دونوں شعبے اور ادارے درست سمت میں چلائے جائیں تو معاشرتی سکون یقینی ہے ۔ اور ان اداروں کا طریقہ جو اسلام وضع کرتا ہےوہ کوئی بھی دوسرا نظام نہیں کر پایا ۔
اب اگر خلوص نیت ہو تو اسکے نفاذ کیلئے کسی بھی قتال اور فساد کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی پیچیدگی باقی رہتی ہے ۔ ان دو شعبوں میں اسلامی حدود اور مروجہ کلیدی عہدیدار کا انتخاب اسلامی خطوط پر کرنا ہو گا ۔
--- جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٩ مئی ٢٠١٩
Tuesday, 21 May 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے 7
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment