" آو ! دعائیں مانگیں "
کائنات میں اللہ کے حبیب سے زیادہ کونسی دعا ہو گی جو قبول ہو جاتی ہو گی. آپ صل اللہ علیہ وسلم چاہتے تو دعا کرکے پورے عرب و عجم کو اسلام میں داخل فرما لیتے . کربلا کی تپتی ریت پر اگر حسین ابن علی علیہ السلام دعا مانگ کر یزید ملعون کی ناپاک خواہش کو روکنا چاہتے تو روک لیتے . مگر ان تمام اسلام کے محافظوں نے میدان کارزار کا انتخاب فرمایا . کفر کے خلاف جب اور جہاں ضرورت پڑی تلوار سونت لی . یہ سوچے اور سمجھے بغیر کہ اس میں جان بھی جا سکتی ہے , اسلام کے دشمنوں سے میدان میں فیصلہ کیا . یہ ہے سنت یہ ہے اسوہ حسنہ اور یہ ہے اہل بیت کا راستہ .
آج کا مولوی , یہی درس دیتا رہا کہ شلوار کا پا ئینچہ کہاں ہو , داڑھی کی لمبائی کتنی ہو , تبلیغ کیلئے گھر چھوڑنا کتنا ثواب ہے , اولیاء کو وسیلہ بنا کر اللہ سے مانگنا ٹھیک ہے یا غلط . طاغوت نے ہماری شہ رگ دبوچ لی اور ہم نے مساجد میں بیٹھ کر لمبے لمبے خطبے دئیے . رو رو کر دعائیں مانگیں مگر سب بے سود . اللہ کوئی دعا سننے پر راضی ہی نہیں . اللہ کو ہمارا عملی ایمان دیکھنا ہے . ہمارا میدان کار زار میں اللہ کی مدد آنے کا یقین دیکھنا ہے . یہ سب روضے , مزار اور حرمین ہمارے لئے محترم ہیں . کفار کیلئے یہ سب قبریں ہیں . ہمیں القدس چاہئیے , تو میدان کا انتخاب کرنا ہوگا . موت میں زندگی تلاش کرنا ہو گی . یہ کافروں سے بھیک میں نہیں ملے گی . دعائیں مانگنے سے کچھ نہیں ہو گا , جلسے اور جلوس کچھ کام نہیں آئیں گے . حقیقی مسلمان بننا ہو گا . وہی مسلمان جن کو اکٹھے بیٹھ کر مسواک کرتے دیکھ کر کفر کا دل دہل جائے . جو نہ طاقت سے ڈریں نہ تعداد سے . جن کو اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے زیادہ اللہ کا حبیب عزیز ہو . جو اللہ کی رسی کو ایک ہو کر پکڑیں , جو مسلم یگانگت کو فروعی مسائل پر قتل نہ کریں .
اگر ایسا ہوا تو بن مانگے بھی دعائیں قبول ہونگی . اللہ دلوں کے حال جانتا ہے وہ مسلمانوں کی نصرت کیلئے فرشتے بھی بھیجے گا اور چھوٹے چھوٹے کنکروں کو میزائیل بھی بنا دے گا . شک نہیں ہونا چاہئیے کہ اللہ اس پر قادر ہے .
ازاد ھاشمی
9 دسمبر 2017
Saturday, 8 December 2018
آو! دعائیں مانگیں
Friday, 7 December 2018
بھوک لگتی ہے
" بھوک لگتی ہے "
پھٹے پرانے اور گرد آلود کپڑوں میں ملبوس ننھے بہن بھائی مسجد کے صحن میں بیٹھے ، شاید کسی کا انتظار کر رہے تھے ۔ لوگ نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد میں آنا شروع ہوئے ۔ مولانا نے مسالک کے موضوع پر اپنے مخالفین کو خوب رگیدا ۔ خطبہ سے کچھ پہلے ، معصوم بچہ کھڑا ہو گیا ۔
" مولوی صاحب ۔ میرے لئے دعا کرا دیں "
مولوی صاحب نے بچے کیطرف دیکھا ۔ مسکرا کر بولے ۔
" ہاں بولو بیٹا ! کیا دعا کرانی ہے ؟ "
" مولوی صاحب ! بھوک بہت لگتی ہے ۔ میں تو برداشت کر لیتا ہوں یہ میری بہن رونے لگتی ہے ۔ دعا کر دیں کہ ہمیں بھوک نہ لگا کرے "
" تمہارے ماں باپ کہاں ہیں " مولوی صاحب نے پوچھا ۔
" نہیں ہیں ۔ اللہ کے پاس گئے ہوئے ہیں ۔ بھائی کہتا ہے روٹی لینے گئے ہیں ۔ روز یہی کہتا ہے "
بچی معصومیت سے بولی ۔
مسجد میں ایک سناٹا تھا ۔ ایک عجیب سی خاموشی تھی ۔ شاید ہر کوئی اپنے احتساب میں لگ گیا تھا ۔ کہ اللہ کے رسولؐ نے جو پیغام ہم تک پہنچایا تھا وہ مسالک کی لڑائی میں ہم بھول گئے ۔ ہمیں یاد ہی نہیں رہا اور نہ کبھی مولوی نے یاد کرایا کہ کسی مستحق کی خبر رکھنا بھی عبادت ہے ، ہم کیوں بھول گئے ۔ یتیم تو پورے معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ہم کیسے غافل ہوگئے ۔ مسجد میں سب کیا کیا سوچ رہے تھے ۔ ایک بات واضع تھی کہ ہر چہرے پر ندامت تھی ۔ حقوق العباد کی غفلت کی ندامت ۔
" بیٹا ! میں شرمندہ ہوں کہ میں نے اپنا فرض نہیں نبھایا ۔ میں لوگوں کو دین نہیں مسلک سکھاتا رہا ۔ مجھے معاف کر دو بیٹا ۔ وعدہ کرتا ہوں آج سے کوئی بھوک نہ لگنے کی دعا نہیں کرائے گا ۔ "
شاید کوئی آنکھ تھی جس پر آنسو نہیں تھے ۔
آزاد ھاشمی
٧ دسمبر ٢٠١٨
چاچا پالیسی
" چاچا پالیسی "
دوستوں کی ہر ٹولی میں ایک آدھ دوست ایسا ہوتا ہے ، جسکا دماغ نئے نئے منصوبے تراشتا ہے اور کبھی دوست اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کبھی نقصان ۔ ہمارے گروپ میں بھی ایک ایسا ہی ہونہار دوست ہوا کرتا تھا ، جس کے پاس روز ایک نئی سکیم ہوتی تھی ۔ ہم اسے " چاچا " کہتے تھے ۔ کچھ " چاچا پالیسی " کہتے اور کچھ " چاچا آگ " بولتے ۔ روز کوئی نہ کوئی " پنگا " ہوتا جسے حل کرنا پڑتا ۔ مگر دوست تو دوست ہوتا ہے ۔ جیسا بھی ہو ، جس آگ میں بھی جھونکے ، اسے تنہا نہیں چھوڑا جاتا ۔
اب ہماری حکومت بھی " چاچا پالیسی " کے ہاتھ میں آگئی ہے ۔ جو بھی کرے گا ، نبھانا پڑے گا ۔
ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شگوفہ چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ یار لوگ اسے نبھاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر فرما دیا کہ مرغیاں پالو ، انڈے دیں گی ، انڈے بیچو ۔ غربت کا مسلہ بھی حل ہو گا اور دیسی خوراک سے صحت کا مسلہ بھی ختم سمجھو ۔ انکار تو ممکن نہیں کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ مشکل ترین حالات میں اسی قابل شخص نے ورلڈ کپ جیتا تھا ۔ جانتے ہیں کہ اب ایسے ہی چوکے چھکوں کی بھی ضرورت ہے اور ایسی باولنگ بھی کرنا ہوگی کہ کوئی بھی مزاج نازک پر بات کرے ، ٹھونس دو جیل میں ۔ دہشت گرد کہہ کر نوے سال کے بوڑھے کو بولڈ کر دو۔ بس پھر فتح کا کپ ہمارا ہے ۔
اب ایک اور خوبصورت اصطلاح نکالی ہے کہ سگریٹ پینے والوں پر " گناہ ٹیکس " لاگو کردو ۔ اس سے سب دین پرست بھی خوش ہو جائیں گے اور سگریٹ نوشی برائی بھی بن جائے گی ۔ کیا خوبصورت پالیسی ہے ۔ ہم یار لوگ تو واہ واہ کریں گے ، بھلے کوئی " تک " بنے یا نہ بنے ۔
پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسی پالیسیاں جاری رہیں تو ایک دن ہماری پالیسیوں کی دنیا " واہ واہ " کرے گی ۔ بس قوم کے جاہل تھوڑی سی " چوں چاں " کریں تو انکا علاج مشکل نہیں ۔ وطن دشمن کہو اور کسی اندھیرے کونے میں ڈال دو ۔ سمجھ آ جائے تو ٹھیک ورنہ پڑے رہیں ۔
آزاد ھاشمی
٥ دسمبر ٢٠١٨
Monday, 3 December 2018
بہت جی لیا ہے
" بہت جی لیا ہے "
زندگی کے جھمیلے , دنیا داری کی تگ و دو , حالات کے نشیب و فراز کی جنگ , زندگی میں ملنے والے انعامات اور اپنی کوتاہیوں پہ ملنے والے سبق . لگتا ہے زندگی یونہی بے سود گذر گئی . جو بھی کیا یہاں پر ہی کھیتی بوئی اور یہاں ہی چھوڑ دی . نہ ہاتھ میں کچھ اور نہ اعمال میں کچھ کہ جسے رخت سفر بنا سکوں . جہاں چند سانسوں کا ٹھہراو تھا . سب کچھ اسی کیلئے کرتا رہا . جہاں اصل ٹھکانا تھا وہاں کیلئے کچھ نہیں کیا . جب زندگی کی بیاض کھول کر بیٹھتا ہوں تو دامن خالی نظر آتا ہے . سمجھ ہی نہیں آیا کہ میری تخلیق , بحیثیت اشرف المخلوقات تھی اور میں نے اس اعزاز کیلئے کیا کیا . کیا جواب ہے میرے پاس اپنے رب کے سامنے . عمر شیطان کو راضی کرتے گذار دی , اپنے رحیم و کریم کے احکامات کی خبر ہی نہیں ہوئی . یوں لگتا ہے کہ بے مقصد زندگی تو بہت جی لیا ہے . اگر اور جی کے بھی یہی کچھ کرنا ہے تو زندگی کا کیا فائدہ .
جب عمرے کی سعادت نصیب ہوئی تو اللہ کے حضور تین دعائیں مانگی تھیں . ایک اولاد کے صالح اور کامیاب زندگی کی . دوسری اللہ اور اللہ کے حبیب کے حرمین کی بار بار حاضری کی . تیسری اللہ کے بندوں اور اللہ کے دین کی خدمت کی . اللہ نے پہلی قبول فرما لی . اپنے انعامات میری اولاد کو عطا فرما دئے . دوسری کا انتظار ہے کہ کب قبول ہو . تیسری کے وسائل اور حالات کی جنگ میں الجھتے الجھتے تھکن محسوس ہونے لگی ہے . کبھی کبھی شیطانی وسوسے مذاق اڑانے لگتے ہیں . کہ میری دعا اللہ تک پہنچی ہی نہیں . مگر کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کے گھر پر نظر پڑتے ہی مانگی گئی دعا اللہ کی پاک ذات نے نہ سنی ہو . شاید میرے عمل اس قابل نہیں کہ اسکے سامنے قبولیت مل جاتی . اللہ کریم ہے . وہ تو صالح دعائیں قبول فرماتا ہے . بے مقصد زندگی جتنی بھی طویل ہو جائے کیا فایدہ . با مقصد زندگی جینے کے تو لمحے بھی جنت سماں ہوتے ہیں .
اے اللہ ! اگر میری دعاوں میں اخلاص کی کمی ہے تو اپنی رحمت سے اخلاص عطا فرما . اگر میرے اعمال رکاوٹ ہیں تو میرے اعمال کی اصلاح فرما . تیری دی ہوئی زندگی تو بہت جی لیا . اب مقصد والی زندگی کی طلب کے سوا کچھ نہیں مانگتا ہوں . ہمت اور اسباب کی بھیک مانگتا ہوں صرف تیرے دین اور تیرے بندوں کیلئے کام کر سکوں . ایمان ہے کہ تیری پاک ذات نے کبھی مایوس نہیں کیا . جو ضرورت ہوئی تیری رحمت سے پوری ہوئی . اس آرزو کو بھی میری اخروی ضرورت ہی سمجھ کر پورا فرما دے .
ازاد ھاشمی
2 نومبر 2017
تجارت اور صنعت
"تجارت اور صنعت "
دنیا کے نقشے میں جتنی بھی قومیں ، ترقی یافتہ کہلاتی ہیں ۔ انکی ترقی کے پیچھے دو شعبے بہت اہم نظر آتے ہیں ۔ ان میں ایک صنعت ہے اور دوسرا اس صنعت کا تجارتی طرز عمل ۔ صنعت کیلئے ضروری نہیں کہ بہت بڑی ہو ، گھریلو طور پر چھوٹی چھوٹی ضروریات زندگی کی اشیاء کو تیار کر کے مارکیٹ میں لانا بھی صنعت ہی کا حصہ ہے ۔ یہ شعبہ ان ممالک کیلئے زیادہ موزوں ہوتا ہے جہاں معیشت زیادہ مستحکم نہ ہو اور مالی فراوانی نہ ہو ۔ اسکا ایک فائدہ یہ ہے کہ بیروزگاری کا جن قابو میں رہتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سامان کم دام پر مارکیٹ میں آ جاتا ہے جس سے مقابلہ آسان ہو جاتا ہے ۔ چین ، جاپان ، تھائی لینڈ اور تائیوان کی ترقی کے پیچھے یہی ابتداء تھی ۔ ضروریات زندگی کی ترسیل از خود کر لینے سے غیر ملکی زر مبادلہ محفوظ ہونے لگتا ہے اور ہم درآمدات کے بوجھ سے بچ جاتے ہیں ۔
صنعت کا دوسرا معیار ، دیوقامت صنعتوں کا قیام ہے ، جو اشیاء ضرورت گھریلو طور پر تیار نہ کی جا سکیں اور کثیر سرمائے کی ضرورت ہو ، یہ حکومت کی ذمہ داری میں آتا ہے کہ وہ انتظام کرے ۔ تیسرا شعبہ ہے کہ جو اجناس اور معدنیات ہمارے وسائل کا حصہ ہوں ، انہیں بین الاقوامی منڈی میں پہنچایا جائے ۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم قیمت میں مقابلہ کر سکیں ۔ اور قیمت میں مقابلے کیلئے حکومت کی پالیسی بہت اہم ہوتی ہے ۔
بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اور ہمارے حکمران کبھی سنجیدگی سے سوچتے ہی نہیں ۔ اپنی اپنی آسائشوں اور سیاسی جھگڑوں میں اسطرح الجھے رہتے ہیں کہ کسی مثبت پیش رفت کا وقت ہی نہیں ملتا ۔ قوم کو لالی پاپ دیتے رہتے ہیں جس سے روز بروز معیشت کمزور سے کمزورتر ہو رہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ دسمبر ٢٠١٨
اتنا ظلم مت کرو
" اتنا ظلم مت کرو "
ہم اللہ کے کرم کا جتنا بھی شکر ادا کریں . اسکی ایک رحمت کا شکر ادا نہیں کر سکتے کہ اس نے ہمیں مسلمان امت میں پیدا کیا . مگر ہم کیا کر رہے ہیں اور کس رستے پہ چل نکلے ہیں . چند روز پہلے تحریک تحفظ ختم نبوت , کے زعماء نے , بالخصوص امیر تحریک نے جو زبان استعمال کی , وہ کسی بھی طور ایک عالم دین کو زیب نہیں دیتی . یہ آغاز ہے اس بے لگامی کا کہ جب ہر کوئی اس لہجے کو جائز سمجھ لے گا . پھر آہستہ آہستہ یہ ہماری روایت بن جائیگا . یہ طریقہ کسی بھی باشعور انسان کو اچھا نہیں لگے گا . ایک روز تو محترم نے یہاں تک کہہ دیا کہ صحابہ کرام تو آپ صل اللہ علیہ وسلم کے پیشاب سے شفا حاصل کرتے تھے . یہ علم انہیں کہاں سے ملا , کونسی حدیث کو اس سے جوڑا گیا . تعجب یہ نہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا , تعجب یہ ہے کہ اس بیان پر کوئی مفتی , کوئی مدرس , کوئی فقیہہ اور نہ ہی میڈیا کو ذرہ برابر تلملاہٹ ہوئی . کئی گدی نشینوں نے بھی سنا مگر کسی ایک نے اسے خرافات نہیں کہا . ایسی بے شمار کہانیاں مولانا طارق جمیل بھی مذہب کا اور تبلیغ کا حصہ بنا رہے ہیں . لیکن انکا طرز تکلم مہذب ہوتا ہے اسلئے سمجھ آنے تک روایت اپنی جڑیں مضبوط کر لیتی ہے .
آج عید میلاد النبی پر باقاعدہ نوجوانوں کو بیہودہ ڈانس کرتے دیکھا گیا .
خدارا اللہ کے پاک حبیب کی مناسبت سے ایسی بیہودگی مت پھیلاو . اتنا ظلم نہ کرو کہ اللہ تمہیں بھی معتوب کر ڈالے . میلاد النبی کی عید , خوشی اور عقیدت کا اظہار حدوداللہ کے اندر رہ کر کرو . حمد کرو , ذکر کرو , اسوہ رسول کی محفلیں منعقد کرو , خوش لباسی کرو . ہر وہ خوشی کرو جو آپ کی شان کے مطابق ہو . راگ , رنگ , ڈھول تماشا آپ کی عظمت کی نفی ہے .
ازاد ھاشمی