"تجارت اور صنعت "
دنیا کے نقشے میں جتنی بھی قومیں ، ترقی یافتہ کہلاتی ہیں ۔ انکی ترقی کے پیچھے دو شعبے بہت اہم نظر آتے ہیں ۔ ان میں ایک صنعت ہے اور دوسرا اس صنعت کا تجارتی طرز عمل ۔ صنعت کیلئے ضروری نہیں کہ بہت بڑی ہو ، گھریلو طور پر چھوٹی چھوٹی ضروریات زندگی کی اشیاء کو تیار کر کے مارکیٹ میں لانا بھی صنعت ہی کا حصہ ہے ۔ یہ شعبہ ان ممالک کیلئے زیادہ موزوں ہوتا ہے جہاں معیشت زیادہ مستحکم نہ ہو اور مالی فراوانی نہ ہو ۔ اسکا ایک فائدہ یہ ہے کہ بیروزگاری کا جن قابو میں رہتا ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سامان کم دام پر مارکیٹ میں آ جاتا ہے جس سے مقابلہ آسان ہو جاتا ہے ۔ چین ، جاپان ، تھائی لینڈ اور تائیوان کی ترقی کے پیچھے یہی ابتداء تھی ۔ ضروریات زندگی کی ترسیل از خود کر لینے سے غیر ملکی زر مبادلہ محفوظ ہونے لگتا ہے اور ہم درآمدات کے بوجھ سے بچ جاتے ہیں ۔
صنعت کا دوسرا معیار ، دیوقامت صنعتوں کا قیام ہے ، جو اشیاء ضرورت گھریلو طور پر تیار نہ کی جا سکیں اور کثیر سرمائے کی ضرورت ہو ، یہ حکومت کی ذمہ داری میں آتا ہے کہ وہ انتظام کرے ۔ تیسرا شعبہ ہے کہ جو اجناس اور معدنیات ہمارے وسائل کا حصہ ہوں ، انہیں بین الاقوامی منڈی میں پہنچایا جائے ۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم قیمت میں مقابلہ کر سکیں ۔ اور قیمت میں مقابلے کیلئے حکومت کی پالیسی بہت اہم ہوتی ہے ۔
بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اور ہمارے حکمران کبھی سنجیدگی سے سوچتے ہی نہیں ۔ اپنی اپنی آسائشوں اور سیاسی جھگڑوں میں اسطرح الجھے رہتے ہیں کہ کسی مثبت پیش رفت کا وقت ہی نہیں ملتا ۔ قوم کو لالی پاپ دیتے رہتے ہیں جس سے روز بروز معیشت کمزور سے کمزورتر ہو رہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ دسمبر ٢٠١٨
Monday, 3 December 2018
تجارت اور صنعت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment