" بہت جی لیا ہے "
زندگی کے جھمیلے , دنیا داری کی تگ و دو , حالات کے نشیب و فراز کی جنگ , زندگی میں ملنے والے انعامات اور اپنی کوتاہیوں پہ ملنے والے سبق . لگتا ہے زندگی یونہی بے سود گذر گئی . جو بھی کیا یہاں پر ہی کھیتی بوئی اور یہاں ہی چھوڑ دی . نہ ہاتھ میں کچھ اور نہ اعمال میں کچھ کہ جسے رخت سفر بنا سکوں . جہاں چند سانسوں کا ٹھہراو تھا . سب کچھ اسی کیلئے کرتا رہا . جہاں اصل ٹھکانا تھا وہاں کیلئے کچھ نہیں کیا . جب زندگی کی بیاض کھول کر بیٹھتا ہوں تو دامن خالی نظر آتا ہے . سمجھ ہی نہیں آیا کہ میری تخلیق , بحیثیت اشرف المخلوقات تھی اور میں نے اس اعزاز کیلئے کیا کیا . کیا جواب ہے میرے پاس اپنے رب کے سامنے . عمر شیطان کو راضی کرتے گذار دی , اپنے رحیم و کریم کے احکامات کی خبر ہی نہیں ہوئی . یوں لگتا ہے کہ بے مقصد زندگی تو بہت جی لیا ہے . اگر اور جی کے بھی یہی کچھ کرنا ہے تو زندگی کا کیا فائدہ .
جب عمرے کی سعادت نصیب ہوئی تو اللہ کے حضور تین دعائیں مانگی تھیں . ایک اولاد کے صالح اور کامیاب زندگی کی . دوسری اللہ اور اللہ کے حبیب کے حرمین کی بار بار حاضری کی . تیسری اللہ کے بندوں اور اللہ کے دین کی خدمت کی . اللہ نے پہلی قبول فرما لی . اپنے انعامات میری اولاد کو عطا فرما دئے . دوسری کا انتظار ہے کہ کب قبول ہو . تیسری کے وسائل اور حالات کی جنگ میں الجھتے الجھتے تھکن محسوس ہونے لگی ہے . کبھی کبھی شیطانی وسوسے مذاق اڑانے لگتے ہیں . کہ میری دعا اللہ تک پہنچی ہی نہیں . مگر کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کے گھر پر نظر پڑتے ہی مانگی گئی دعا اللہ کی پاک ذات نے نہ سنی ہو . شاید میرے عمل اس قابل نہیں کہ اسکے سامنے قبولیت مل جاتی . اللہ کریم ہے . وہ تو صالح دعائیں قبول فرماتا ہے . بے مقصد زندگی جتنی بھی طویل ہو جائے کیا فایدہ . با مقصد زندگی جینے کے تو لمحے بھی جنت سماں ہوتے ہیں .
اے اللہ ! اگر میری دعاوں میں اخلاص کی کمی ہے تو اپنی رحمت سے اخلاص عطا فرما . اگر میرے اعمال رکاوٹ ہیں تو میرے اعمال کی اصلاح فرما . تیری دی ہوئی زندگی تو بہت جی لیا . اب مقصد والی زندگی کی طلب کے سوا کچھ نہیں مانگتا ہوں . ہمت اور اسباب کی بھیک مانگتا ہوں صرف تیرے دین اور تیرے بندوں کیلئے کام کر سکوں . ایمان ہے کہ تیری پاک ذات نے کبھی مایوس نہیں کیا . جو ضرورت ہوئی تیری رحمت سے پوری ہوئی . اس آرزو کو بھی میری اخروی ضرورت ہی سمجھ کر پورا فرما دے .
ازاد ھاشمی
2 نومبر 2017
Monday, 3 December 2018
بہت جی لیا ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment