Saturday, 8 December 2018

آو! دعائیں مانگیں

" آو ! دعائیں مانگیں "
کائنات میں اللہ کے حبیب سے زیادہ کونسی دعا ہو گی جو قبول ہو جاتی ہو گی. آپ صل اللہ علیہ وسلم چاہتے تو دعا کرکے پورے عرب و عجم کو اسلام میں داخل فرما لیتے . کربلا کی تپتی ریت پر اگر حسین ابن علی علیہ السلام دعا مانگ کر یزید ملعون کی ناپاک خواہش کو روکنا چاہتے تو روک لیتے . مگر ان تمام اسلام کے محافظوں نے میدان کارزار کا انتخاب فرمایا . کفر کے خلاف جب اور جہاں ضرورت پڑی تلوار سونت لی . یہ سوچے اور سمجھے بغیر کہ اس میں جان بھی جا سکتی ہے , اسلام کے دشمنوں سے میدان میں فیصلہ کیا . یہ ہے سنت یہ ہے اسوہ حسنہ اور یہ ہے اہل بیت کا راستہ .
آج کا مولوی , یہی درس دیتا رہا کہ شلوار کا پا ئینچہ کہاں ہو , داڑھی کی لمبائی کتنی ہو , تبلیغ کیلئے گھر چھوڑنا کتنا ثواب ہے , اولیاء کو وسیلہ بنا کر اللہ سے مانگنا ٹھیک ہے  یا غلط . طاغوت نے ہماری شہ رگ دبوچ لی اور ہم نے مساجد میں بیٹھ کر لمبے لمبے خطبے دئیے . رو رو کر دعائیں مانگیں مگر سب بے سود . اللہ کوئی دعا سننے پر راضی ہی نہیں . اللہ کو ہمارا عملی ایمان دیکھنا ہے . ہمارا میدان کار زار میں اللہ کی مدد آنے کا یقین دیکھنا ہے . یہ سب روضے , مزار اور حرمین ہمارے لئے محترم ہیں . کفار کیلئے یہ سب قبریں ہیں . ہمیں القدس چاہئیے , تو میدان کا انتخاب کرنا ہوگا . موت میں زندگی تلاش کرنا ہو گی . یہ کافروں سے بھیک میں نہیں ملے گی . دعائیں مانگنے سے کچھ نہیں ہو گا , جلسے اور جلوس کچھ کام نہیں آئیں گے . حقیقی مسلمان بننا ہو گا . وہی مسلمان جن کو اکٹھے بیٹھ کر مسواک کرتے دیکھ کر کفر کا دل دہل جائے . جو نہ طاقت سے ڈریں نہ تعداد سے . جن کو اپنی اولاد اور اپنے ماں باپ سے زیادہ اللہ کا حبیب عزیز ہو . جو اللہ کی رسی کو ایک ہو کر پکڑیں , جو مسلم یگانگت کو فروعی مسائل پر قتل نہ کریں .
اگر ایسا ہوا تو بن مانگے بھی دعائیں قبول ہونگی . اللہ دلوں کے حال جانتا ہے وہ مسلمانوں کی نصرت کیلئے فرشتے بھی بھیجے گا اور چھوٹے چھوٹے کنکروں کو میزائیل بھی بنا دے گا . شک نہیں ہونا چاہئیے کہ اللہ اس پر قادر ہے .
ازاد ھاشمی
9 دسمبر 2017


No comments:

Post a Comment