" یا رحیم یا کریم "
جانتا ہوں تیری پاک ذات سے مایوسی کفر ہے . جانتا ہوں کہ تو شہ رگ سے قریب ہے . ایمان ہے کہ تو اپنے بندوں سے ستر ماوں کے پیار سے زیادہ پیار کرتا ہے . مانتا ہوں کہ تیرا ذکر دلوں کو طمانیت دیتا ہے . سب ٹھیک سب درست . مگر انسان ہوں , کمزور ہوں , خطاکار ہوں . نہ عابد ہوں کہ عبادت کا حق ادا کر سکوں . نہ زاہد ہوں کہ زہد کے رموز سمجھ لوں . چند سجدے اور وہ بھی خشییت سے خالی ہیں انہیں بھی عبادت نہیں کہہ سکتا . شعور اور اعصاب مفلوج ہوتے جا رہے ہیں . تیری رحمتیں میری تمام عبادتوں سے کہیں بڑھ کر ہیں . حق شکر بھی ادا نہیں کر سکتا . مانگتا ہوں جو دل اور دماغ چاہتا ہے . تیری ذات کے , تیری رضا کے تیرے دینے یا نہ دینے کے اپنے پیمانے ہیں . اس پر بھی دل ملول ہو جاتا ہے کہ یہ کیوں نہیں ملا , وہ کیوں نہیں ملا . اپنے سے اوپر دیکھتا ہوں تو شکایت ہوتی ہے کہ آخر مجھے کیوں محرومی ہے . اپنے سے نیچے دیکھتا ہی نہیں . یہ اضطراب , بے چین کرتا ہے . بس اپنی رضا پر رہنے کی سوچ دے دے . جو عطا کیا ہے اس پر شکر کرنا سکھا دے . اعمال کی روش کو درست کرنے کی فکر دے دے . وہ علم دے دے جو سچائی کی راہنمائی میں کام آئے . وہ الفاظ دے دے جو کسی بھی انسان کی فلاح بن جائیں . اپنی خطاوں پر ندامت کا احساس بخش دے .
اے کریم ! جس دنیا کے حصول میں عمر گزار دی , اب باقی عمر سیدھے راستے پر چلنے کی ہمت دے دے . اے قادر مطلق ! موت کو برحق مانتا ہوں . زندگی بھی کشش رکھتی ہے . موت دے تو اپنی راہ پہ دے , زندگی دے تو اپنے بندوں کی بھلائی کی سوچ بھی دے . دل اضطراب میں ڈوب رہا ہے , جیون سے طبیعت اچاٹ ہو رہی ہے . اے قادر مطلق ! رحم فرما . جن مضبوط اعصاب سے نواز رکھا تھا ان اعصاب کی شکستگی کے عذاب میں مبتلا نہ کر . شاکر رہنے کی طاقت بخش دے . اے اللہ ! میری کمزوریوں کو نہ دیکھ اپنی شان کو دیکھ . تجھے تیری عظمت کا واسطہ . جو کہا وہ بھی سن لے جو نہیں کہہ سکا وہ بھی سن لے .
ازاد ھاشمی
10 دسمبر 2016
Sunday, 9 December 2018
یا رحیم یا کریم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment