" عبادت اور تفریق "
پوری امت مسلمہ اللہ احکامات کے مطابق عبادت کا فرض نبھانے کا ہر جتن کرتی ہے۔ نمازوں کو پابندی اور لگن سے ادائیگی پر توجہ دینے کو نجات کا اولین فرض خیال کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی عقیدے کا حصہ ہے کہ نماز کی کوتاہی بخشش کی راہ میں رکاوٹ ہوگی ۔ ایسے ایسے نماز گذار بھی ہیں جن کی پیشانی پر سجدوں کے نشان واضع ہوتے ہیں ۔ اسی طرح حج اور عمرے کی ادائیگی پر بھی خصوصی توجہ رہتی ہے ۔ کچھ تو ایمان کے اس درجے پر فائز ہو چکے ہیں کہ انہیں یاد بھی نہیں کہ کتنے عمرے کر لئے ہیں اور ہر سال حج کرنے والے بھی بیشمار ہیں ۔ زکوٰة دینے والے بھی ہیں جو ایک ایک پائی کا حساب کر کے زکوٰة ادا کرتے ہیں ۔ روزہ دار بھی کمال کا حق ادا کرتے ہیں کہ فرض روزہ چھوٹنے کا سوال ہی نہیں بلکہ نفلی روزوں کا بھی فرض کیطرح اہتمام کرتے ہیں ۔ اللہ اجر عطا فرمائے ۔
یہ فرائض تو اللہ تعالیٰ کیطرف سے لگائی گئی ذمہ داریاں ہیں ۔ یہ سب اللہ اور بندے کے درمیان طے ہیں ۔ اللہ کا ہر حکم اٹل اور پورا کرنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح ابتدائی ارکان اسلام ۔ مگر یہاں ہم نے کوتاہی کرکے اپنی تمام عبادات کی قبولیت کو مشکوک بنا لیا ۔ مسجد اللہ کا گھر تھا اور اللہ کا گھر ہے ۔ یہ وہ جگہ جہاں ہر سجدہ کرنے والے کو حق ہے کہ وہ سجدہ کر سکے ۔ مسجد کے ماتھے پر ہم نے اپنے مسلک کا نام کندہ کر کے اسے مسلک کا دفتر بنا دیا ہے ، اللہ کا گھر نہیں رہنے دیا ۔ ہم نے مساجد میں تفریق پیدا کردی ۔ ہم نے روزہ رکھنے میں بھی اوقات میں تفریق کو بنیاد بنا لیا ۔ اللہ نے حکم دیا کہ
" اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو "
کیا اس حکم عدولی کے بعد ہماری عبادات کا مقام باقی رہ جاتا ہے؟ ہم اپنے مالک کی ایک بات مانتے ہیں اور دس نہیں مانتے تو کیا مالک ہم سے خوش ہو گا ۔ اللہ نے ذخیرہ اندوزی سے منع کیا ، زائد از ضرورت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم ہے ، تو گنتی کرکے دی گئی زکوٰة افضل تھی یا ذخیرہ اندوزی نہ کرنا ۔
ہمیں عبادات کے ساتھ ساتھ یہ تفریق بھی ختم کرنا ہوگی کہ کونسا حکم مان لیا جائے اور کونسے حکم پر آنکھیں موندھ لی جائیں ۔ من و عن احکامات ربی ماننے ہونگے وگرنہ جبیں پر پڑا ہوا نشان ، مشقت کا نشان ہے عبادت کا نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١١ دسمبر ٢٠١٨
Tuesday, 11 December 2018
عبادت اور تفریق
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment