" یہود کا فیس بک ، یہود کی پیپسی "
اگر کسی معاملے پر اسلام کا کوئی موقف دہرایا جاتا ہے تو چبا چبا کر انگریزی بولنے والے دانشور ایک مشورہ دیتے ہیں
" اگر آپ کو اسلام سے اتنا ہی پیار اور کفر سے اتنی ہی نفرت ہے تو پھر انگریز اور کفر کی ایجادات استعمال کرنا چھوڑ دیں ۔ جب آپ کی بات میں وزن ہو گا وگرنہ آپ منافق ہیں "
یہ ہے دلیل کہ اپنی زبانیں بند کر لی جائیں اور اسلام کے ساتھ ہونے والے کھلواڑ کا تماشا کیا جائے ۔ ان دانشوروں میں اکثر " ممی ڈیڈی " والے برگر ہوتے ہیں ، یا وہ جن کو انگریزوں کے در پہ نوکریاں ملی ہوئی ہیں ۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کا یہ رویہ کہ وہ کفار کی ایجادات کے بغیر ادھورے ہو جاتے ہیں ، تشویشناک ضرور ہے ۔ فکر کی بات ہے کہ ہم نے اسلام کو شلوار کے پائنچے ، نماز میں ہاتھ باندھنے کے طریقے اور کہانی قصوں تک محدود کر دیا ہے ۔ اسلام کو سمجھنا چاہئے تھا کہ اصل پیغام کیا ہے ۔ جس میں ہم مسلسل کوتاہی کرتے آئے ہیں اور کرتے جا رہے ہیں ۔ مگر اسکا یہ قطعی مطلب نہیں کہ اگر ہم یہود و نصاریٰ کی ایجادات استعمال کرنے کے بعد ان پر تنقید یا اپنی مدافعت کا حق کھو بیٹھے ہیں ۔ یہ تجارت ہے اور ہم انکی اشیاء کی قیمت ادا کرتے ہیں ۔ دشمن کی ترکیب کو ناکام کرنے کیلئے اسکے ہتھیار اسی کے خلاف استعمال کرنا بھی حکمت عملی ہے ۔ اچھا تو یہی تھا کہ ہم اپنے ہتھیار خود تیار کرتے۔ فیس بک ایک سماجی ہتھیار ہے جس سے ذہن تبدیل کئے جا رہے ہیں ، اس سے بے خبری ہمارے مفاد سے ٹکراو ہے ۔ اسی ہتھیار کو مدافعت کیلئے استعمال کرنا حماقت بھی نہیں اور کمزوری بھی نہیں بلکہ دانشمندی ہے ۔
ہونا یہ چاہئے کہ مسلمانوں کو اس طرف مائل کیا جائے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی حاصل کریں ، نہ کہ یہ کہا جائے کہ اسلام کی رٹ لگانا بند کرو اور کفر کے لباس پہنتے ہو تو کفر کا عقیدہ ، عادات و اطوار بھی اختیار کر لو ۔ طاغوت کو موقع دو کہ وہ تمہاری گردن دبوچ لے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ دسمبر ٢٠١٨
Saturday, 15 December 2018
یہود کا فیس بک ، یہود کی پیپسی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment