Saturday, 15 December 2018

گناہ میں شراکت داری

" گناہ میں شراکت داری "
قانون ساز اسمبلی میں ایک بل پیش ہوتا ہے ، بل پیش کرنے والا ہندو ہے جو بہت سارے خداوں کو اپنا معبود مانتے ہیں ۔ وہ اقرار کرتا ہے کہ " شراب " ایک برائی ہے اور اس برائی سے اللہ بھی روکتا ہے ، رسول اللہ بھی ، قرآن بھی ۔ بائبل بھی ، گیتا بھی اور سکھوں کی گرنتھ بھی ۔ مگر اسمبلی والوں سے رائے لی جاتی ہے کہ اللہ کے قانون کو لاگو کرتے ہوئے ، اس پر پابندی لگائی جائے ۔ اسمبلی میں اللہ کے ماننے والے ، رسولؐ کی رسالت کی گواہی دینے والے ، جن کے کانوں نے پہلی آواز " اللہ اکبر " سنی تھی ۔ اللہ کے حکم کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اصل قانون " انسانوں کی اکثریت " کا ہے ۔  پس ہم انکار کرتے ہیں کہ شراب پر پابندی نہیں لگائیں گے ۔ اور یہ مان لیا جاتا ہے ۔
دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی میں بیٹھے لوگ ، یہاں اس اختیار کے ساتھ کس نے بٹھا رکھے ہیں ۔ ان کی طاقت کے پیچھے کونسا ہاتھ ہے کہ یہ اللہ کے حکم کو " رد " بھی کرتے ہیں اور معتبر بھی ٹھہرتے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کفر میں شراکت دار کون کون ہے ؟
میری رائے میں وہ تمام جو ان کو ووٹ دیکر یہاں لائے ہیں ، اس انکار کے مجرم ہیں ۔ میرے خیال میں وہ قانون مجرم ہے جو انکو اسلام کے منافی قانون بنانے کا اختیار دیتا ہے ۔ میری رائے میں ہر وہ شخص مجرم ہے جو اس فیصلے کی اعانت کرتا ہے ، وہ بھی اس گناہ میں شریک ہے جو خاموش رہتا ہے ۔
اگر ایسے معاشرے کو زوال آ جاتا ہے ، تو اس میں تعجب نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ جس نے بھی اللہ کے قانون سے ٹکر لی ہے وہ معتوب ہوا ہے ، اسے دنیا میں نشان عبرت بنایا گیا ہے ۔
اپنا اپنا احتساب کیا جانا چاہئے کہ ہم اس جرم میں شریک ہیں یا نہیں ؟ دیکھنا ہو گا کہ اگر میرا نمائندہ اس جرم میں شامل ہے تو میں بھی شریک ہوں ، کیونکہ میں بھی اسکی طاقت کا ایک حصہ ہوں ۔
آزاد ھاشمی
١٣ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment