Monday, 10 December 2018

ہماری ترقی کے راز

" ہمارا ترقی کے راز "
دنیا میں ایک ہی اصول کار فرما ہے کہ اپنی تجارتی منڈیاں بڑھاو ۔ تجارتی  منڈیاں بڑھانے کا ایک ہی گر ہے کہ آپکی اشیاء معیاری ہوں اور قیمت میں سستی بھی ہوں ۔ تیسرا اہم اقدام یہ ہے کہ آپ اپنی مصنوعات کو منڈیوں میں متعارف کرانے میں متحرک ہوں ۔ یہی وہ گر ہیں جو ترقی یافتہ ممالک نے اپنائے ۔ ہم ناکام ہوگئے اور آہستہ آہستہ عالمی منڈیوں سے باہر نکل گئے ۔ ہم معیاری اشیاء اس لئے نہیں بنا سکے کہ کرپشن ہماری جڑوں میں بیٹھ چکی ہے ۔ چند روز پہلے پاکستان کی معروف کمپنی کا باسمتی چاول دیکھنے کا اتفاق ہوا ، بہترین پیکنگ میں " مرغیوں کی خوراک " والا ٹوٹا پھوٹا بد بو دار چاول تھا ۔ اس میں تاجر کی بد دیانتی کے ساتھ ساتھ وہ ادارے بھی شامل تھے ، جنہوں نے یہ چاول ملک سے باہر جانے دیا ۔ جہاں تک قیمت کا سوال ہے ، جب ایک صنعتکار بجلی کے بل پر بھی ٹیکس دے گا ، خام مال کی خریداری پہ ٹیکس دے گا ، برآمد کنندگان کو بیچنے پر بھی ٹیکس دے گا ، جب ہر مرحلے پر ٹیکس " اپ لوڈ " ہوتا جائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ بین الاقوامی منڈی ہمارے ہاتھ میں رہے ۔ جہاں تک اپنی مصنوعات کو متعارف کرانے کا تعلق ہے تو ہمارے سفارتکار اپنی توہین سمجھتے ہیں کہ وہ مارکیٹ کا جائزہ لینے کیلئے خود نکلیں ۔ وہ یا تو سفارشی چودہری ہوتے ہیں یا پھر کلف زدہ گردن والے جرنیل ۔ وہ کسی بھی مقامی چپڑاسی کو مارکیٹ میں بھیج کر " نو سکوپ " کا مژدہ سنا دیتے ہیں ۔ ایکسپورٹ پرموشن والے " جھوٹی سچی " نمائش کا اہتمام کرتے ہیں اور اس میں چند مخصوص لوگ مستفید ہوتے ہیں ۔
ایک محب وطن شہری ، بولے گا ، شور مچائے گا تو اسکے اپنے لوگ اسے " چریا " کہیں گے ۔
یہ ہیں ہماری ترقی کے چند بنیادی راز ۔
" آزاد ھاشمی "
١٠ دسمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment