Saturday, 9 June 2018

میلاد النبی

" میلاد النبی "
خطہ عرب کی معاشرتی زندگی کی بدتر حالت ، جہالت کا یہ عالم کہ معمولی تکرار پر نسل در نسل دشمنی کا باب شروع ہو جاتا تھا -  تکبر , رعونت ، غلاموں سے وحشیانہ سلوک ، عورت محض ایک ہوس پرستی کا کھلونا ، بیٹی کو برائی سمجھنا ، سہل پرستی ، نہ کوئی عقیدہ نہ مذہب ، جس قبیلے کا دل چاہتا اپنا بت کعبہ میں لا کر سجا لیتا ۔ اندھیرا ہی اندھیرا ،  جہالت کا راج ،  شراب و مستی کے کھیل ، لوٹ مار کا دور دورہ ۔  یہ نہ صرف عربوں کا حال تھا بلکہ پوری دنیا میں جبر و استبداد ، گمراہی ہی گمراہی ، تمام تہذیبیں اپنی مثبت اقدار کھو چکی تھیں ۔ ہر کوئی ایک ایسی روشنی ، ہدایت اور مسیحائی کا منتظر تھا ، جو بے کسوں ، بے سہارا ، مظلوموں ، یتیموں اور بے نواوں کو تحفظ دے ۔یہ ہستی عرب کے ریگزار میں ظہور میں آئی ۔
ایک غیر معمولی روشنی کی کرن ، ایک ہمہ گیر رحمت کا سایہ ، باد صموم میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ، ایک مسرت اور شادمانی  کا احساس لے کر  آنے والی ہستی سے منسوب ماہ مبارک ، کیسے عید نہیں ہو گا ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی
2 دسمبر 2016

کیسا مذاق ہے

یہ کیسا مذاق ہے کہ جب بیسیوں لوگ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں , سینکڑوں زخمی اور اپاہج ہو جاتے ہیں - تو یاد آ جاتا ہے کہ ہمیں ان واقعات کے محرک لوگوں کو سزا دینی چاہیے - ہمیں اسوقت پتہ چلتا ہے کہ  جب پانی سر سے اونچا ہو جاتا ہے - گھنٹوں میں سینکڑوں مشکوک لوگ گرفتار کر لئے جاتے ہیں - یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو شائد پہلے سے معلوم ہوتے ہیں , یا شائد یہ لوگ محض خانہ پری کے لئے پکڑے جاتے ہیں -
ہمارے امراء اور بیگمات موم بتیاں , پھول اور اگر بتیاں لے کر اس جگہ سجانے آ جاتے ہیں , جہاں بد قسمت لوگوں کے چتھڑے پڑے ہوتے ہیں -
کیا یہ تمام لوگ جو ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ہیں , جب انکو کو معلوم ہوتا ہے کہ کون لوگ مشکوک ہیں , تو یہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں , انکو اپنے آہنی ہاتھ کیوں نہیں دکھاتے - کیا انکو پکڑنے کے لئے بہت ساری جانوں کا نذرانہ ضروری ہوتا ہے -
اور جن لوگوں کو پکڑ لیا جاتا ہے , انکے ساتھ بعد میں کیا ہوا , قوم کو بتایا کیوں نہیں جاتا -
کوئی بتا سکتا ہے کہ ایسے واقعات میں گرفتار کیۓ جانے والے کتنے مجرم پھانسی دیے گئے -
کوئی بتا سکتا ہے کہ یہ مارے جانے والوں میں کتنے لیڈروں کے رشتہ دار تھے , کتنے جنرلوں کے عزیز تھے , کتنے پولیس افسران کے قریبی تھے -
غریب مارے گئے , پانچ لاکھ دے کر آنسو پونچھ دیے جایں  گے - اور جو اپاہج ہو گئے انکو بیساکھیاں تحفے میں دے دی جاینگی -
اب کون ہے جو اس گناہ کی جرات کرے کہ قوم کے مسیحا سے پوچھے کہ صاحب بہادر بلا امتیاز کاروائی کیلیے اتنی جانوں کا نذرانہ کیوں ضروری تھا - پہلے خیال کیوں نہیں آیا -
یہ گناہ تو بڑے سے بڑا میڈیا  کا ہیرو بھی نہیں کرے گا - یہ ہے
وہ مجرمانہ خاموشی جس کے ہم سب ذمہ دار ہیں - موت قریب قریب ہر آنگن میں پہنچ گئی ہے -
بد قسمتی اور قوم کے بے حس ہونے کا اندازہ لگائیں کہ جس وزیر کو اس واقعہ کی تحقیق کا انچارج بنایا گیا ہے , اسے کل ایک ٹی وی  پروگرام میں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اس گلشن کے دروازے کتنے ہیں , جہاں موت ناچی ہے - اور موصوف پروگرام میں اینکر کو آنکھیں دکھا رہے تھے -
ایسے غنڈہ راج میں جو ہو رہا ہے کچھ عجب نہیں -
پتہ نہیں قوم کو یہ سزا کب تک ملتی رہیگی -
آزاد ہاشمی
28 مارچ 2016

ناصح بھی بادہ کیش ہے

" ناصح بھی بادہ کیش ہے "
ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جسے اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں ۔ جس کی مسیحائی کو آخری ضرورت خیال کرتے ہیں ۔ اسکے ھاتھ کا وہ خنجر نہیں دیکھتے جو اسنے کمر کے پیچھے چھپا رکھا ہوتا ہے ۔ ہر دور میں ایک ہی آواز اٹھتی ہے کہ حکمران وطن کو لوٹ رہے ہیں ۔ پھر شور مچانے والے خود آ جاتے ہیں ۔ تو دوسرے وہی راگ الاپنے لگتے ہیں ۔ یہ سمجھنا کہ سچ کیا ہے نا ممکن ہو گیا ہے ۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے ہمیں جو شعور بخش رکھا ہے ہم نے اسے استعمال کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ، ورنہ یہ سمجھنا نہایت آسان ہے کہ سب کے سب سیاستدان تاجر ہیں ۔ انتخابات پہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ضرب کے عمل سے منافع کماتے ہیں ۔
صرف ایک سوال ان ہمدردان ملک و ملت سے کہ کیا وہ مراعات جو وہ اسمبلی ممبر ہونے کے ناطے حاصل کرتے ہیں ۔ انکا جائیز استحقاق ہے ۔ کیا اسے کرپشن کا نام دینا غلط ہے ۔ کیا یہ ملکی وسائل کا بے جا استعمال نہیں ۔ اس جرم میں کون کون شامل نہیں ۔
کوئی بتانے کی زحمت کرے گا کہ یہ سارے نیلی ، پیلی ، گلابی میٹرو ، ٹرین ، پل ، سڑکیں اتنی اہم ہیں تو ہسپتال ، کارخانے ، تعلیمی ادارے ، تحقیقی انسٹیٹیوٹ  ، زراعت پر عدم توجہ کا کوئی تو سبب ہو گا ۔ شائد اسکی وجہ وہ کمیشن ہے جو اصل وجہ دلچسپی ہے ۔
ہم جن ناصحین کی تقلید میں چل نکلتے ہیں ، پتہ یہی چلتا ہے کہ وہ خود بھی بادہ کیش ہیں ۔ وقت ملا تو وہ بھی ملکی وسائل کے جام پہ جام  لنڈھائیں گے ۔
اس ساری بے راہروی کو روکنے کا ایک ہی حل ۔ اسلام کا نظام ۔
یہ وہ چھلنی ہے جس سے سارا گند الگ ہو جائے گا ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
15 اکتوبر 2016

قلم کاجہاد

" قلم کا جہاد "
اللہ کا خاص کرم ھے ان لوگوں پر جن کو قلم کی قوت بخشی ۔ زبان سے کہے ھوے الفاظ کبھی کبھی اتنے اثر انگیز نہیں ھوتے ، جتنا گہرا اثر لکھے ہوئے الفاظ چھوڑ جاتے ھیں - اس قوت کا مثبت اور منفی استعمال کرنا انسانی فکر پر منحصر ھے ۔ تاریخ عالم پر غور کریں تو بالکل واضع طور پر اندازہ ھو جائے گا کہ جن لوگوں نے قلم انسانی بہتری کے لئے استعمال کیا وہ آج بھی زندہ ھیں۔ اور جو قلم خو شامد ، جبر کی حمایت اور حق کو شکست دینے کی غرض سے استعمال کرتے رھے ، رسوائی کی نیند سو چکے ھیں ۔ 
ھمارے قلمکاروں میں صحافی اور دانشور انتہائی اہم ھیں ، شومئ قسمت سے ان  میں سے چند اپنے قلم کے تقدس سے واقف ھیں ، بیشتر اس کو تجارت بنائے بیٹھے ھیں ۔ یہ سوچے بغیر کہ اللہ نے انہیں یہ خوبی عطا فرمائ ، جس  سے وہ قوم ، دین ، بنی نوع انسان اور وطن کی خدمت کا اہم فریضہ ادا کر کے اپنی آخرت بھی سنوار سکتے ھیں اور دنیاوی آسائشیں بھی حاصل کر سکتے تھے ۔ اگر وہ اپنے قلم سے تجارت کی بجائے جہاد کرتے تو ھمیشہ امر ھو جاتے  ۔ یہ وہ لوگ ھیں جو شعور ھوتے ہوئے بھی ، لالچ ، حرص اور خود غرضی کی دلدل میں پھنسے بیٹھے ھیں . آنکھیں ھوتے ھوے بھی اندھے ھیں .
کاش یہ اپنے قلم کے تقدس کو پہچان سکیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
17 اگست 2016

اسلامی نظام کیوں اور کیسے

" اسلامی نظام کیوں اور کیسے "
جب سے یہ مملکت وجود میں آئ , ہر طرح کے حکمران اے , سیاسی لوگ بھی خوبصورت نعروں کے ساتھ آتے رہے , اور ملک کے محافظ حب الوطنی کا جھنڈا لہراتے ہوے  دس دس  بارہ بارہ سال  حکمرانی کرتے رہے - نہ سیاستدانوں نے مساوات لاگو کی , نہ جاگیر داری ختم ہوئی , نہ روٹی ملی , نہ مکان , نہ کپڑا - نہ قرضوں والا کشکول ٹوٹا نہ غریب کی داد رسی ہوئی - سپہ سالاروں نے نہ عدل قائم کیا نہ عام شہری کو تحفظ ملا , نہ کرپشن ختم ہوئی -
ہر طرح کی جمہوریت بھی آزمائی گئی , سوشلزم کو بھی پرکھا گیا - وزارتی نظام بھی آیا , صدارتی بھی -
کیا یہ سارا تجربہ کافی نہیں - رہا موجودہ سیاسی ڈھانچہ تو مسلم لیگ کے نام سے بننے والی , الف , ب , پ جماعتوں میں کونسی مسلم  کی  آواز ہے - عوام کی نمائدگی کی دعویدار کونسی جماعت میں عام کارکن کی شنوائی ہے - اسلام کے نام پر کونسی جماعت مکمل  طور  پر متحرک ہے - عجیب سا تماشا ہوتا رہا , مداری آتے رہے اور نئی نئی ڈگڈگی بجا کر سادہ لوح عوام کو اکٹھا کرتے رہے - میڈیا , دانشور اور قلمکار بکتے رہے - شرابی , زانی , کرپٹ , ملک بیچنے والے , مغرب کے پرستار , چونگم چبانے والے اور ملک دشمنوں کے ایجنٹ اپنے قدم جماتے رہے - ان سب کو اسلامی نظام سے خوف رہا - علماء مسجدوں میں بیٹھے فرقہ پرستی میں الجھے رہے -
اب سب کے سب اس تذبذب میں ہیں کہ نظام کی تبدیلی کے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں - رستہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیسے اس جمہوری سسٹم  سے نجات حاصل کی جاے -
ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہر ایک فرد کو نظام اسلام کی آواز بننا ہو گا - اپنے اپنے حلقہ احباب میں یہ شعور دینا ہو گا کہ ہمارا نظام ہر نظام سے بہتر ہے - خود بھی اچھی طرح سے سمجھنا ہو گا اور دوسرے دوستوں کو بھی آگاہی دینی ہو گی - رہی کامیابی تو الله کے نظام پر کامیابی کی کوشش پر الله کی مدد ضرور ہو گی - کیا  ایسا ممکن نہیں کہ اپنے حصے کی ایک ایک شمع جلائی جاے تو ایک روز ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیل جائیگی -
مایوسی شیطانی وسوسہ ہے جو ہمیں عمل سے روکتا ہے - توکل ایمان ہے جو الله کی تاید کا سبب بنتا ہے - کوشش ہم پر فرض ہے - ہمیں فرض نبھانا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
30 جولائی 2016

اگلا قدم

" اگلا قدم " 
ہمارے اردگرد کا ماحول کلی طور پر موجودہ سیاسی قیادت ، موجودہ نظام حکومت ، حکومتی اداروں ، عدالتوں ، پولیس ، بیوروکریسی سے دل برداشتہ ہے ۔ مگر اب سمجھ نہیں آرہا کہ اس لوٹ کھسوٹ ، بدامنی ، چور چکاری سے چھٹکارا کیسے ملے ۔ جمہوریت کی چڑیل کیلئے کونسا دم درود کیا جائے کہ یہ آنگن سے راستہ لے ۔ پوری قوم جس مسیحا سے بھی امید لگاتی ہے وہی بالآخر اسی تھالی کا چٹا بٹا ثابت ہوتا ہے ۔ معجزوں کی منتظر قوم اب صرف کسی معجزے کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ کہ رات ہی رات میں کوئی اچنبھا ہو گا اور صبح ہوتے ہی سب برائی ختم ہو گی ۔ ایسے خواب شیخ چلی کے خواب کہلاتے ہیں ۔  اگلا قدم کیا ہو ، کیسے ہو ، بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ۔ ایسے بہت سارے مخمصے ہر ذہن کو پریشان کئے بیٹھے ہیں ۔ میری محدود سوچ کے مطابق جب مصمم ارادہ کر لیا جائے تو کوئی ایسا پہاڑ نہیں ، جس کی بغل میں راستہ نہ ہو ۔  ہمارا اگلا قدم انفرادی تحریک کے تحت ہم خیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا اور یہ کام سوشل میڈیا نے آسان کر دیا ہے ۔ جمہوریت کے ثمرات اور جمہوریت کے پرستاروں کے کردار کو پوری قوت سے اجاگر کرنا ہو گا ۔ لبرلز کی منافقت کو تقسیم کر کے اس تحریک کو زیر کرنا ہو گا ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ان لبرلز کے پاس چند سوالوں کے بعد عذر ختم ہو جاتے ہیں ۔ ہمارا اگلا قدم اپنے اردگرد جمہوری نظام سے متاثر لوگوں کو اگاہی دینی ہو گی کہ وہ کسی جمہوری مبلغ کی سٹریٹ پاور نہ بنیں ۔ یہ چھوٹی سی کوشش ایک طاقت بننے میں وقت نہیں لے گی ۔ یہ پہلا کمزور قدم ایک مضبوط محاذ ثابت ہو گا ۔ اور یہ سب کرنے میں نہ کوئی قانونی سقم ہے ، نہ جماعت بندی درکار ہے ، نہ اشتہاری مہم کی ضرورت ہے ۔ ایک سے دو ، دو سے چار ، چار سے سولہ کا عمل شروع ہو گیا تو انقلاب کی راہ ہموار ہو جائے گی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
26 دسمبر 2016

فتوے اور غداری کے سرٹیفیکیٹ

" فتوے اور غداری کے سرٹیفکیٹ "
ہمارے یہاں دو روایات بہت عام ہیں , ایک کفر کے فتوے اور دوسرا غداری کے سرٹیفکیٹ - الله کی وحدانیت کو ماننے والے , رسول کی رسالت پر ایمان رکھنے والے , قران کے احکامات پر چلنے والے اور تمام ایمان کی شرائط پر چلنے والے کسی بھی مسلمان کو چند فروعی اختلافات پر کافر کہہ دینا ایک معمول سا بن کر رہ گیا ہے - اس ایک سوچ اور فکر نے مسلمانوں کی یکجہتی کو بالکل ختم کر دیا ہے - سمجھنا نا ممکن ہو گیا کہ اصل اسلام کونسا ہے , اور کیا راہ حقیقت سے قریب تر ہے - اگر بات یہاں تک رک جاتی تو شاید واپسی کی امید باقی رہ جاتی - مگر ایک دوسرے کو قتل کرنا , جب سے جہاد بنا دیا گیا ہے , تب سے تمام راستے بند ہو گئے ہیں -
دوسرا رحجان , غداری کے وہ کھلے سرٹیفکیٹ ہیں , جو ہمارے سیاستدانوں نے , ہماری نا اہل ایجنسیوں نے اور چند لسانی متعصب لوگوں نے اپنے مخالفین کو بانٹے - جبر کر کے اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما دی - یہ ثابت کرنے کے لئے کہ جو ہم نے سوچا وہی ٹھیک تھا - اصل مقاصد صرف اور صرف حق گوئی  کی جرات کو ختم کرنا تھے - بنگلہ دیش بن گیا , بلوچستان میں نفرت بڑھ گئی , سندھ کی سوچ تبدیل ہو گئی , پختون سوچ میں پڑ گئے , پنجابی الزامات کی زد میں آ گئے , مہاجر حق تلفی پر برہم ہو گئے - کون بچا جو اس غداری کے بے سرو پا الزامات کا نشانہ نہیں بنا - حقیقت یہ ہے کہ اصل غدار وہ ہیں , جنہوں نے بھائیوں میں نفرت کا بیج بویا - مذھب کے نام پہ یا حب الوطنی کے نام پہ -
یہ اصل غدار آج بھی حب الوطنی کا چوغہ پہنے , اپنے مفادات کی جنگ میں وطن اور قوم کو شکست دینا چاہتے ہیں - اور ہم نے انہی لوگوں کو ہیرو مان رکھا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
28 جولائی 2016

تقریر نہیں تدبیر

" تقریر نہیں تدبیر "
ھم یہ سمجھے بیٹھے ھیں کہ اسلام کے خلاف طاغوت کی منظم سازش دعاوں سے ٹل جائے گی۔  مذمت اور نفرت کا سخت ترین لفظوں میں اظہار کفر کو روک لے گا  ۔ مذہبی اجتماعات میں لمبی لمبی تقریریں ، خضوع و خشوع سے کی گئی دعائیں اس بے لگام یلغار کو روک لیں گی ۔ اپنی کاہلی کو اللہ پر توکل کا نام دے کر بری الذمہ ہو جائیں گے اور یہ کفر کا عفریت ٹل جائے گا ۔ ہمیں اس کاہلی اور کمزور سوچ نے مفلوج کر رکھا ہے . کفر نے اپنا نظام زبردستی ھم پر مسلط کر رکھا ہے ۔ ایک عام مسلمان تو دور کی بات ہے ، ہمارے علماء بھول گئے ہیں کہ ہمارا نظام اللہ کا نافذ کردہ نظام ہے جمہوریت نہیں . ھمارے دانشور اور فلاسفر بھی اسی جمہوری نظام کا راگ الاپ رہے ھیں ۔ طاغوت اپنی مسلسل جدوجہد سے اپنی زبان بولنے والے حکمران ہم پر مسلط کر چکے ہیں۔ انہی کا قانون ، انہی کا تعلیمی سسٹم ، انہی کا طرز زندگی اور انہی کی تہذیب  ، ہمارے رگ و پے میں سرائت کر گئی ہے ۔ ہم خوف زدہ ہیں کہ اگر کوئی چوں و چراں کی تو ہمارا بھی وہی حشر ہو گا جو عراق کا ھوا ، جو لیبیا کا ھوا ، جو سوڈان کا ھوا اور جو شام کا ھونے والا ہے ۔ ہمیں اب تقریر و تحریر سے ہٹ کر سوچنا ہو گا ۔ تدبیر کرنا ہو گی کہ ایسا مثبت راستہ تلاش کیا جائے ، جو ہماری اصل منزل کی طرف جاتا ہو ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ اگر چڑیاں متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ھیں ۔آیئے مثبت سوچ کے ، ہم خیال دوستوں کا نیٹ ورک ترتیب دیں اور تدبیر کے ساتھ اس جہاد کا آغاز کریں ، جس کی منزل اللہ اور حبیب اللہ کا نظام ہو۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
18 اگست 2016

ظلم اور معافی

"میں یہ منطق آج تک نہیں سمجھ سکا کہ ہم ظلم و زیادتی انسانوں کے ساتھ کرتے ہیں.
جبکہ معافیاں خدا سے مانگتے ہیں."
میرے ایک محترم دوست کی بات کچھ اسطرح سے اثر انگیز ہوئی کہ بیان کے احاطہ سے باہر ہے - ہم نے حقوق الله بھی احسن طریقے سے کبھی ادا نہیں کئے , جو بھی عبادت کرتے ہیں اس میں ریا , اپنی ضرورتوں کا سوال یا پھر رسمی ادائیگی کی جاتی ہے - الله کے احکامات سے سر کشی کرتے ہیں , چند سجدے , چند روز کی بھوک پیاس اور چند روز کے طواف کعبه کر کے سمجھتے ہیں  کہ حق بندگی ادا ہو گیا , اب جو من میں آئیگی کر لیں گے -
یہ تو حقوق الله ہیں , وہ در گزر کر سکتا ہے -
مگر حقوق العباد بندے کا بندے سے معاملہ ہے - اسکی معافی اور تلافی بندوں کے درمیان ہی ہو گی - کسی کی حق تلفی , کسی کی دل آزاری , کسی کے مال میں خیانت , ملاوٹ, کاروباری بد دیانتی اور اسی طرح کی بے بیشمار حقوق العباد ہیں جو روز مرہ کی زندگی میں ہم ارادی طور پر یا غیر ارادی طور پر کرتے ہیں - اور سمجھتے ہیں کہ ہم خیرات , عبادت یا مذہبی معاملات میں اعانت کر کے بری ہو جاینگے - یہ وہ اصل غلطی ہے , جسے ہم نہ سمجھتے اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں - جو  قومیں حقوق العباد کو اولیت دیتی ہیں وہی آج معاشی طور پر خوشحال ہیں , وہی مہذب کہلاتی ہیں اور وہی سکون کی زندگی گزار رہی ہیں - اسلیے کہ الله اپنے بندوں سے پیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے - مگر ہم یہ سمجھ نہیں پاتے کہ حقوق الله بھی لازم ہیں تو حقوق العباد بھی لازم ہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
24 مئی 2016

علاج میں دیر کیوں

" علاج میں دیر کیوں "
شیخ مجیب الرحمن بیمار ھوا ، اور وطن کے حکیم سوچتے رہے ، انتظار کرتے رھے کہ شائد از خود ٹھیک ہو جائے ۔ مرض ٹھیک نہیں ھوا ۔ اچھوت مرض نے پورے مشرقی پاکستان کے بچے بچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ بالآخر وطن کا ایک بازو کٹ گیا۔
خبریں آتی رہتی ہیں کہ مجیب والی بیماری اس لیڈر کو بھی لگ گئی ہے ، اس لیڈر پر بھی حملہ ہو رھا ہے اور ہلکا ہلکا بخار قرب و جوار میں بھی شروع ہو گیا ہے ۔
سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے حکیم علاج کرنے میں اتنی دیر کیوں کر دیتے ہیں ، کہ ناخن کاٹنے سے ٹھیک ہو جانے والے زخم کو بازو کاٹنے کی نوبت پر کیوں لے جاتے ہیں ۔  یا تو پیشہ ورانہ مہارت میں کمی ہے کہ اچھے معالج نہیں ، یا مرض کے جراثیم پھیلانے والوں سے کوئی مفاد ہے ، یا پھر  کاہلی ہے ۔  کتنے ہی مریض ہو گئے ہیں اور وہ پورے جتن سے اپنے مرض کے جراثیم دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ۔ معالجوں نے ہوش نہ کیا تو مرض نا قابل علاج ہو جائے گا۔ جسم سے ایک بازو تو کاٹ چکے ہو ، اور کون کون سا حصہ کاٹو گے۔ مرض پھیلنے کے اسباب پر غور کرو اور علاج ابتدائی مرحلے پر کرو گے تو آسانی رہے گی۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
27 اگست 2016

اسلام دشمن گماشتے

" اسلام دشمن  گماشتے "
ہمارے کچھ مفکر , جو یا تو کسی گوروں کے دیس میں بیٹھے شراب کی چسکیاں لیتے ہیں - یا گوروں کی تہذیب پر فریفتہ ہیں - یا انگریزی کو روانی سے بول لیتے
ہیں - یا مسلمان ہو کر بھی اندر باہر سے انگریز بنے بیٹھے ہیں - یا الله  کے  دیے ہوے  مال و زر نے  بہکا رکھا ہے - یا وہ لوگ جن کو اپنی علمیت کا خبط ہے -
سوشل میڈیا پہ بہت وثوق سے ہزیان گوئی کرتے نظر آتے ہیں - کہ اسلام تو عملی زندگی میں ختم ہو چکا - گروہ بندی اور مساجد کے اندر کی کہانی باقی ہے -
اسلام اگر عملی طور پر ختم ہو سکتا تو آج پورا عالم کفر اسلام کے خلاف بر سر پیکار نہ ہوتا -
یہی ایک دکھ تو ہے جو صیہونیت , یہودیت اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کو سونے نہیں دیتا - اسلام کو سمجھنے کی دیر ہے , پھر ذہنوں کو بدلنا نا ممکن ہو جاتا ہے -
رہا یہ کہ اسلامی حکومت نہ دنیا میں باقی ہے اور نہ طویل عرصے پر چل سکی - یہ خامی اسلامی نظام کی نہیں , یہ خامی مسلمانوں کی تربیت کی ہے - کہ ہم سازشوں کا حصہ بن جاتے ہیں - شروع سے آج تک تاریخ یہی بتاتی ہے - اسلام دشمن سازشیں کرتے رہے اور ہم شکار ہوتے رہے - ان تمام سازشوں کا ہراول دستہ بھی ہمیشہ آپ جیسے لوگ رہے , جو اسلام کی چھتری کے نیچے بھی بیٹھے ہیں اور چھید بھی کر رہے ہیں - اب اصل ضرورت اس بات کی ہے - کسی بھی کوشش سے پہلے اس منافقت کی جڑیں کاٹی جایئں - جس روز دشمن کی پہچان ہو گئی اس روز اسلام کے نظام کو روکنا نا ممکن ہو جاے گا -
اور  اب یہ وقت بھی زیادہ دور نہیں - اسلام دشمن قوتوں کے گماشتے نہایت کم ہیں , کوئی بھی زی شعور تجزیہ کر سکتا ہے - کہ اسلامی  نظام کے حق  آواز روز  بروز  بڑھ رہی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
21 جولائی 2016

غلط فیصلے

" غلط فیصلے "
قوموں کی تقدیر میں فیصلوں کو بہت اہمیت ہوا کرتی ہے - غلط فیصلوں میں عجلت اتنا نقصان نہیں کرتی جتنا درست فیصلوں میں تساہل نقصان دہ ہوتا ہے - اسوقت پوری قوم متفق ہے کہ ہمارا تمام سیاسی نظام  نا اہل بھی اور کرپٹ بھی - ملکی اثاثوں کا ملک سے باہر چلے جانا , غداری اور ملک دشمنی ہے - جمہوری نظام نے جس طرح سے بد دیانت , خود غرض , اخلاقی اقدار سے نا بلد اور اسلام سے بے خبر لوگوں کو مسلط کیا ہے - اب ایسے لگ رہا ہے کہ قوم کو اس دلدل سے نکالنا ممکن ہی نہیں - بد قسمتی یہ بھی ہے کہ جو مذہبی جماعتیں تھیں , انکا یقین ہے کہ وہ جمہوریت کی کشتی پہ بیٹھ کے اسلام کا نظام لے آئیں گے - اب صرف اور صرف قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا - اور اس فیصلے میں سستی , کمزوری , سیاسی وابستگی , برادری , ذاتی مفادات سے ہٹ  کر قدم اٹھانا ہو گا -
صرف ایک انتخاب میں ,
الله کے نظام کی حمایت میں , الله کی رضا کی خاطر جمہوریت سے کنارہ کر لیں -ہر کسی انتخابی مہم سے دور ہو جائیں - یقین سے کہا جا سکتا ہے , کہ یہی سیاسی پنڈت عوام کی زبان بولنے لگیں گے - اگر ہم زندہ قوم ہیں تو کون ہے جو ہمیں زبردستی ووٹ ڈالنے پہ مجبور کرے گا -
کیا  آپ اسے درست سنجھتے ہیں - اگر جواب ہاں میں ہے , تو اٹھیں اور اپنے ارد گرد ہم خیال لوگ پیدا کریں - کسی جبر , کسی تحریک , کسی جماعت کی ضرورت کے بغیر جیت یقینی ہے -
الله ہمیں ہمت اور عقل دے - آمین
شکریہ
آزاد ہاشمی
11 جولائی 2016

کون جیتا کون ہارا

" کون جیتا کون ہارا "
یہ فکر چھوڑو - یہ پانسے پھینکنے کا کھیل ہے - جو جتنی اچھی چال چلے گا , وہی جیتے گا - اس میں نہ کردار کا کوئی رول ہے , نہ شرافت کا , نہ حب الوطنی کا اور نہ کسی مثبت سوچ کا -
اس کھیل میں اصل شکست میری اور آپکی ہے - ایسی شکست جس میں ہم نے اپنی عقل و فہم , اچھائی کی ہر  امید , اپنے ضمیر کی آواز , اپنے بچوں کا مستقبل اور اپنے دین سے وابستگی ہار دی ہے - ہم ان لوگوں کی جیت پر خوش ہیں , یا ان لوگوں کی شکست پر اشکبار , جن کا ہم سے کوئی رشتہ ہی نہیں - جو کرسی پر بیٹھنے کے بعد بادشاہ بن جاتے ہیں - ہمارے حصوں کی روٹیاں بھی چھین کر اپنے محلوں پہ لگا دیتے ہیں - ہمارے بچوں سے تختی اور سلیٹ بھی دور کر کے اپنے بچوں کو یورپ پڑھنے بھیجتے ہیں - ہم غلاموں کو جنم دیتے ہیں اور یہ آقا جنتے ہیں - ہم سے زندگی بچانے کا حق چھین لیتے ہیں اور خود سر درد کا علاج یورپ سے کراتے ہیں - ہمارا پیسہ ہم سے چھین لیتے ہیں اور ہمارے لئے مانگی ہوئی بھیک بھی ہڑپ کر جاتے ہیں - ہماری نسلوں کو بیچ کر اپنے بنک بنائے بیٹھے ہیں - یہ سب درندے اور ہم سب بھیڑیں بن گئے ہیں -
بتایے شکست کس کو ہوئی - اور کون جیتا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
23 جولائی 2016

ایک اور سازش

" ایک اور سازش "
پاکستان میں جتنے بھی ادارے ہیں -  سیاستدانوں , وڈیروں , جاگیرداروں , سرمایہ داروں کے عزیز و اقارب سے بھرے پڑے ہیں - اہلیت اور معیار کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا - جس کا آج یہ نتیجہ نکل رہا ہے ,کہ پورا حکومتی نظام مفلوج ہے - کوئی ایک ادارہ ایسا نہیں جس کی کارکردگی قابل ستائش ہو - کوئی بھی کام درست کرنا ہو یا تو فوج کو بلا لیا جاتا ہے , یا فوج خود کود پڑتی ہے - چلیں اگر اس عمل سے بہتری آ گئی ہو تو اقدام کی وجہ سمجھ آتی ہے - مگر ہر کام ویسے کا ویسا ہی رہا , جس سے فوج کی کارکردگی بھی تعریف کے قابل نہیں ہوئی - اسکا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ فوج اپنی پیشہ ورانہ ڈگر سے ہٹ گئی - تیسرا نقصان یہ ہوا , جسکا اب ازالہ کرنا ممکن نہیں کہ فوج کا احترام کم ہو گیا -
یہ وہ راستہ ہے , جس پر چل کر ہم نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا - ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے سیاستدان نا اہل ہیں , ہمارے سول سروس کے اہلکار نا اہل ہیں , ہماری ایجنسیاں نا اہل ہیں , اسلیے فوج کو بلانا پڑتا ہے - حالانکہ یہ اس سازش کی کڑی ہے - جس میں عوام اور فوج کے درمیان  ایک نفرت کی خلیج حائل کی جاتی ہے - اور پھر گوریلا جنگ چھیڑ کر مذموم مقاصد حاصل کر لئے جاتے ہیں -
حیرانی ہوتی ہے کہ ملکی غداروں کی یہ سازش   دنیا کی نامور ایجنسی کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی - اور بہادر جرنیل ہر وقت ڈنڈا تھامے ہر آگ میں چھلانگ کیوں لگا دیتے ہیں - حکومتی اداروں کی برائی پر توجہ دیکر انھیں بہتر کیوں نہیں کرتے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
28 جون 2016