Saturday, 9 June 2018

ابا رویا مت کر

وہ بھیگی ہوئی آنکھوں  سے  دفتر جانے کی تیاری کر رہی تھی - فالج زدہ باپ چارپائی پہ پڑا بیٹی کو دیکھ کر رو رہا تھا - کھانستی ہوئی ماں بھی آزردہ نظر آ رہی تھی - باپ نے بیٹی کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور روتے ہوے گلے سے لگا لیا - بیٹی باپ کے سینے سے چمٹے روے جا رہی تھی -
" کیا فرق پڑتا ابا , اگر تو بھی ایمانداری کے جنون کو چھوڑ دیتا - کیا دیا ہمیں تیری دیانتداری نے "
وہ ایک دیانتدار افسر تھا , جس نے اپنی پوری زندگی کسی سے ایک تحفہ بھی لینا حرام سمجھا - یہ سن کر ماں آگے بڑھی,  بیٹی کو ممتا کی ٹھنڈک دینے کے لئے سینے سے لگایا , تو بیٹی کی چیخ نکل گئی -
" ماں تجھے تو بہت تیز بخار ہے , بتایا کیوں نہیں "
" بیٹا ! میں تیری ماں ہوں , جانتی ہوں ہر روز ڈیوٹی پہ جاتے تیری آنکھیں کیوں بھیگ جاتی ہیں - کیا کروں بیٹا , ہم اکیلے ہو گئے ہیں "
" ماں دفتر کا ہر شخص مجھے نوچ کھانا چاہتا ہے - سب بلا وجہ ڈانٹتے رہتے ہیں - سب کو دوستی چاہیے میری - کوئی نہیں جو مجھے بہن یا بیٹی کی نظر سے دیکھے - کل میری دوسری ساتھی کہہ رہی تھی - دفتروں کا طریقه سیکھ لو , خوش رہو گی "
باپ چارپائی پر بیٹی کی باتیں سن رہا تھا - اور بیٹی کی طرف ہاتھ جوڑے کچھ کہہ  رہا تھا - معصوم بچے کی طرح روتے ہوے باپ کے قدموں سے چپک کر اسکی آنکھوں کا سمندر  بھی کناروں  سے اچھل رہا تھا -
" نہیں ابا ,  مت رویا کر - مجھے آپ  پہ فخر ہے "
یہ  کہہ کر وہ درندوں کے جنگل کی طرف نکل پڑی - اسکے لئے ضروری تھا کیونکہ اسے اپنے مجبور ماں باپ کو زندہ رکھنا تھا - وہ ایک بے حس معاشرے میں رہ رہے تھے - جہاں کوئی غریب کا رشتے دار نہیں ہوتا - جہاں غرض کے پجاری بستے ہیں - جہاں ہر لڑکی  کو آوارہ سمجھنے والوں کا راج ہے - جہاں  صرف اپنی بیٹی ہی بیٹی ہوتی ہے , اپنی بہن ہی بہن ہوتی ہے , اپنی ماں ہی ماں ہوتی ہے - یہ ہوس کے مارے ہوے لوگ اخلاقیات سے بہت دور ہو چکے ہیں - سمجھتے ہی نہیں کہ انہی بازاروں میں , انہی دفتروں میں , انہی پارکوں اور سڑکوں پہ انکی اپنی بہن بیٹیاں بھی چلتی پھرتی ہیں - کون جانے کہ ایک دفتر میں کام کرنے والی لڑکی کی کیا مجبوری ہو -
شکریہ
آزاد ہاشمی
18 مارچ 2016

No comments:

Post a Comment