ہم عمر بھر ایک ہی لگن میں اندھے ہو کر چلتے رہتے ہیں - ایک ہی کوشش میں آرام اور چین کو بھلا دیتے ہیں کہ دنیا کا مال ہماری جھولی میں بھرا رہے - نہ الله کے حقوق کی فکر نہ حقوق العباد کا غم - جس سے مفاد نہیں اس سے کوئی رشتہ بھی نہیں , جس سے مفاد ہے وہ پیر بھی ہے , بھائی بھی - سارے رشتے اسی سے ہیں - غریب نہ دوست ہے نہ رشتہ دار - یہ ہے آج کی دنیا -
ہم الله کے گھر کے چکر لگاتے ہیں اور اپنی تصویر پوری دنیا میں چھاپ دیتے ہیں , مانگتے الله سے ہیں دکھاتے دنیا کو ہیں - گویا ایمان کا ہر عمل تشہیر ہونے لگا ہے - اسی دکھاوے نے ہمارے ایمان کو کمزور کر ڈالا اور ہم نے بے خبری میں پورے جتن سے قبر کی طرف دوڑ لگا رکھی ہے - اور پورے جتن سے دنیا کے مال کی ہوس کو ایمان سے زیادہ قریب کرنے کی فکر میں ہیں -
اور پھر ایک دن چار کندھوں پہ سوار ہو کر مٹی اوڑھ کر سو جائیں گے - جو اکٹھا کیا تھا کچھ بھی ساتھ نہیں ہو گا - حقوق الله کی پرسش بھی ہو گی اور حقوق العباد کا حساب بھی مانگا جاےگا - بخشنے والا راضی نہ ہوا تو کیا ہو گا - بس صرف اتنا سوچنے سے بہت ساری منزلیں آسان ہو سکتی ہیں - آئیے اسی رمضان سے فکر کے رستے کو اپنا لیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
Friday, 8 June 2018
آئیے ! اپنی فکر کریں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment