" رخ بدلنا ہو گا"
ہر نئی صبح ، ایک نئی کہانی لیکر طلوع ہوتی یے اور ایک نئی مایوسی پر ختم ہو جاتی ہے . کبھی چیف جسٹس سے امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں ، کبھی فوجی سربراہ سے ۔ یہ خواب دیکھتے دیکھتے نئی نسلیں پروان چڑھ گئیں اور کئی زیرک حسرتوں کے ساتھ قبروں میں جا سوئے ۔ کبھی ھمسایہ دشمن کا خوف ، کبھی متعصب جنونیوں کا راگ ۔
ایک مخلوق جو عوام کہلاتی ھے ، کبھی کسی بنسری کی دھن پر ناچنے لگتی ھے کبھی کسی مداری کو مسیحا مان لیتی ہے ، کبھی کسی چوغہ بردار کو سر پہ بٹھا لیتی ہے .
سیاست کے پنڈتوں کا نہ کوئی دین ہے نہ مذہب ، نہ اخلاقیات سے کوئی واسطہ نہ کسی تعلق کا لحاظ ۔ اقتدار کی ہوس میں جس کے ساتھ چاہا مخاصمت کر لی ، جس کو چاھا حلیف بنا لیا ۔
آج جو غدار ہے ، کون جانے کل اسی کے سر پر حب الوطنی کا تاج سج جائے ۔
کمزور حافظے کی عوام کو کچھ بھی یاد نہیں ، کہ اسکی سادہ لوحی کا کس نے اور کیسے فائدہ اٹھایا ۔
اگر سب یوں ہی چلتا رھا تو وہ دن بہت قریب ہیں ، جب زبان ہوتے ہوئے بول نہیں سکیں گے ۔ آنکھیں دیکھ نہیں سکیں گی ۔ حقوق کی آواز گلوں میں اٹک جائے گی ۔
جمہوریت کی بچھی ہوئی بساط پر یہی کھلاڑی کھیلتے رہیں گے اور باری باری جتتے رہیں گے ۔ جو آج غدار ہے ، کل محب وطن ہو جائے گا ۔ جو آج معتبر یے کل غنڈہ گردی پہ اتر آئے گا۔
جب تک ہم ہوا کا رخ نہیں موڑیں گے ، اپنے اللہ کے دین اور رسول پاک کا اسوہ کو اپنی راہ نہیں بنائیں گے ۔ سب یونہی چلتا رہے گا ۔ اگر ہم اپنے آپ سے ، اپنی نسلوں سے ، وطن کی مٹی سے ، مخلص ھیں تو ہمیں رخ موڑنا ہو گا۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
24 اگست 2016
Friday, 8 June 2018
رخ بدلنا ہو گا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment