Saturday, 9 June 2018

کیسی کامیابی کیسا کنٹرول

" کیسی کامیابی کیسا کنٹرول "
پہلے عبادت گاہیں ، پھر سکول ، پبلک مقامات ، نجی تقریبات اور اب وکلاء کا ایک تسلسل کے ساتھ قتل ۔ کیا اسے کنٹرول کہتے ہیں ۔ کیا یہ تمام حفاظت کے ذمہ دار اداروں کے لئے شرمناک ناکامی کا اعلان نہیں ۔ کیا یہ میرے اور آپکے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ اب کس پر یقین کریں ۔ کیا یہ کافی ثبوت نہیں کہ حکمران ، سیکورٹی ادارے ، ایجینسیاں ، سب نا اہل بھی ہیں اور دروغ گو بھی ۔کیا  یہ وہ کیفیت نہیں جہاں سے غداری کا بیج پودا بننا شروع کرتا ہے ۔  عام شہری کو بنیادی ضروریات  کا حق پہلے ہی حاصل نہیں ہے ، وطن کے تمام وسائل حکمران اور نا اہل ادارے ہڑپ کر جاتے ہیں ، اب موت کا خوف گھروں میں قید کر رہا ہے۔ کون ہے جو ان دھماکوں کی بھینٹ چڑھنے والوں کے بچوں کی ضروریات زندگی پوری کرے گا ۔  کون ہے ذمہ دار اس بے ہنگم دہشت کو پروان چڑہانے کا ۔ کون ہیں یہ لوگ جو لاکھوں سیکورٹی اہلکاروں کو واقعہ سے پہلے یا بعد میں بھی نظر نہیں آتے۔  مجبوراً انہیں  اپنی جھینپ مٹانے کی غرض سے بیرونی ہاتھوں پر الزام لگانا پڑتا ھے جو اور بھی شرمناک بات ہے اور ہماری نا اہلی کی تصدیق کرتی ہے ۔ کیا دھماکے کی جگہ پر سرعت سے پہنچ جانا ، میڈیا پہ بیان داغ دینا ، ھسپتالوں میں زخمیوں کی تیمارداری کر لینا ، اپنی اصل ذمہ داری سے سبکدوش کر دیتا ہے ۔ کیا یہ ایک بیہودہ مذاق نہیں ۔
وطن دشمن صرف یہ نہیں جو دھماکے اور دیشتگردی کرتے ہیں ، وطن دشمن وہ بھی ہیں جنہوں نے اہنے فرائض سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں ۔ جب تک ان سب وطن دشمنوں کا احتساب نہیں ہوتا ، عوام کا خون یوں ہی بہتا رھے گا ۔ بچے یتیم ہوتے رہیں گے ۔ سہاگ اجڑتے رہیں گے ۔ جھولیاں خالی ہوتی رہیں گی ۔ وکلاء برادری کو ایسے عناصر کی داد رسی سے ہاتھ اٹھانا ہو گا، جو وطن کے سکون ، امن اور سالمیت کے دشمن ہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
یکم ستمبر 2016

No comments:

Post a Comment