Friday, 8 June 2018

جڑیں کاٹنا ہونگی

" جڑیں کاٹنا ہونگی "
مایوس قوموں کے  سامنے صرف دوراستے باقی رہ جاتے ہیں ،ایک مکمل بربادی کاانتظار دوسرا انقلاب کی تحریک ۔ 
انقلاب سے مراد محض مقتدر لوگوں کو اتار پھینکنا نہیں ہوتا ، بلکہ برائی کی ہر جڑ کو کاٹ پھینکنے کا نام انقلاب ہے ۔ اور یہ ایک فرد ، یا چند افراد کی تحریک نہیں ہوا کرتی ایک کثیر تعداد ہوتی ہے ، جو شعوری طور پر برائی اور بھلائی کی تمیز رکھتے ہیں اور ہر اس کوشش کی حتی المقدور مدد کرتے ہیں ۔ جو برائی کی بیخ کنی کرنے کی خاطر کی جاتی ہے ۔
ہم بحثیت قوم کچھ ایسے مسائل کا شکار ہو چکے ہیں ، جن کوئی حل سمجھ نہیں آ رہا ۔ عدلیہ ، پولیس ، کسٹم ، پارلیمنٹ ، سیکورٹی ادارے ، محافظین وطن ، تاجر ، سیاستدان حتی کہ مذہبی  مبلغ تک کسی نہ کسی رنگ میں ، ایسے مشاغل سے جڑے ہوئے ہیں ، جو وطن اور قوم کے مفادات سے متصادم ہیں ۔
یہ وہ بیماری ہے جسے معاشرتی ،  سماجی ،  سیاسی کینسر کہنا غلط نہیں ۔ اس بیماری سے چھٹکارہ پانا ہو گا ۔
ہمیں ایسے ذہنوں کی آبیاری کرنا ہو گی ، جن میں اخلاص ہے ۔ ایسی تمام کوششوں کو کامیاب کرنے کی جرات کرنا ہو گی ۔
بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس انقلاب کو بھلا دیا جو سر زمین عرب پہ اللہ کے پیارے رسول صل الله علیہ وسلم نے برپا کیا ۔ یہ آسان بھی ہے اور قابل عمل بھی ۔ برائی کی جڑیں کاٹنے کا اس سے بہتر حل نہ تھا نہ ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
16 اکتوبر 2016

No comments:

Post a Comment