"حوا کی بیٹی "
وہ ایک رقاصہ تھی اور چند روز پہلے ایک جاگیردار کو قتل کر کے گرفتار ہوئی تھی . حسین و جمیل تو تھی مگر اتنی ذہین ہو گی , عدالت میں سب حیران تھے . وہ جج سے مخاطب تھی .
" میں تو اس کتاب کی حرمت سے آگاہ ہوں , جو کہوں گی سچ کہوں گی . مگر تم تو جانتے ہو "
جیسے ہی اس نے جج کو " تم " کہہ کے مخاطب کیا وکیل سرکار نے لقمہ دیا کہ عدالت میں احترام لازم ہے .
" ارے چھوڑو , میں کوٹھے والی ہوں , میں کیا جانوں ادب آداب . یہ چونچلے تو تم عزت داروں کی منافقت کو چھپاتے ہیں . ہاں میں نے سچ کہنے کا گواہ اس پاک کتاب کو بنایا ہے . گندی عورت ہوں , اسکی عظمت کی وجہ سے سچ ہی بولوں گی . مگر تم لوگ دن میں کتنی بار اس سے مذاق کرتے ہو , کتنا جھوٹ بولتے ہو , کتنے غلط فیصلے لکھتے ہو . سب جانتے ہیں . میں جسم بیچتی ہوں , اپنی آنا بچتی ہوں , گنہگار ہوں , مگر کیا لکھو گے ان خریداروں کے خلاف جو اپنی حیوانیت کی تسکین کی خاطر , اپنی بیویوں سے جھوٹ بول کر ہمارے پاس آتے ہیں . جو اپنی ماں کے پاک دودھ کا تقدس کوٹھے پر گنوا کر چلے جاتے ہیں . مجھ سے یہی پوچھو گے نا , کہ میں نے اس امیر زادے کو قتل کیوں کیا . یہ نہیں پوچھو گے کہ میں اس کوٹھے پہ کیوں آئ . کون لایا مجھے . مجھے روز قتل کیا جاتا ہے , یہ نہیں پوچھو گے کون کون قاتل آتے ہیں یہاں . میری ماں , میرا باپ قتل ہوۓ , میں یتیم تھی , ابھی چھوٹی تھی , ان بھیڑیوں نے مرے جسم کو لباس کے اندر جھانکنا شروع کر دیا . اور ایک لمبے دکھ کے ساتھ کوٹھہ میرا نصیب بن گیا . کوئی عدالت میرے ماں باپ کے انصاف کو موجود نہیں تھی . ہزاروں کتے میرے جسم کو نوچ چکے ہیں . میں نے ان سب کو قتل نہیں کیا . اس درندے کو قتل کرنے کی کوئی خاص وجہ تو ہو گی . نہ تیری سمجھ میں آیگی اور نہ تیرے اس جج کی . لے سن "
وہ بے خوف بول رہی تھی .
" جب یہ کوٹھے پہ آیا , میں اپنے رب کی عدالت میں تھی . اپنے پیدا کرنے والے سے باتیں اور شکوے کر رہی تھی . نجات مانگ رہی تھی گناہ کی زندگی سے . حوا کی پاکباز بیٹی بننے کا ارمان کر رہی تھی . یہ شیطان نشے میں تھا , اندھا تھا . اس نے مجھے گالی دی , میری ماں کو گلی دی . یہ گالیاں تو میرا معمول بن چکی ہیں . "
وہ رونے لگی .
" اس نے میرے ایمان کا امتحان لے ڈالا , میں کامیاب ہو گئی , الله نے سبب پیدا کر دیا , مجھے گناہ سے دور کرنے کا . الله نے میرے سارے گناہوں کا مداوا کر دیا . اس نے وہ سب کہا , الله کے بارے میں , اسکے پیاروں کے بارے , جو میری برداشت سے باہر ہو گیا . میں نے مار دیا اسے . اب افسوس ہے کہ صرف ایک بار مار سکی . کاش بار بار مار سکتی . کاش "
وہ روے جا رہی تھی . عدالت پہ ایک سکوت تھا . خاموشی تھی . عدالت کیا لکھے گی . قانون کیا کہے گا . انصاف کا ترازو کدھر جھکے گا . کسی کے پاس کوئی جواب نہیں .
شکریہ
آزاد ہاشمی
14 جنوری 2017
Friday, 8 June 2018
حوا کی بیٹی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment