" کرپٹ کون کون "
ایک جہاندیدہ دوست پوچھتے ہیں ۔ کہ کرپٹ سے آپکی مراد کیا ہے؟ ۔
ایک دوسرے دوست کا استفسار ہے کہ کرپٹ کسے کہتے ہیں ۔ وہ جسے اسٹیبلشمنٹ کرپٹ کہہ دے یا وہ جسے آپ کرپٹ سمجھیں ؟۔
مجھے شائبہ ہوا کہ شاید دونوں محترم دوستوں کی وابستگی کسی سیاسی جماعت سے ہے ۔ دونوں یہی سمجھے کہ میں انکے قائدین کو کرپٹ کہہ رہا ہوں ۔
اب یہ رحجان ہو گیا ہے کہ ہر سیاسی کارکن کسی نہ کسی بات پہ چڑنے لگا ہے ۔ اسکا ایک مطلب تو یہ ہے کہ دلی طور پر وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مخصوص برائی انکی قیادت کا حصہ ہے ۔ مگر وہ نہیں چاہتے کہ کرپٹ کی مروجہ تعریف برقرار رہے ۔
خیر ! مدعا یہ ہے کہ میری نظر میں ہر وہ شخص کرپٹ ہے ، جو کسی بھی طرح ذاتی مفادات کیلئے ، وطن کو ، قوم کو اور اپنے معاشرے کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ اب اس تعریف کے تحت ، آپ خود جائزہ لے لیں کہ کون کون کرپٹ کہلائے گا ۔
میری نظر میں وہ متقی ، پرہیز گار ، صوم و صلاة والا زاہد و عابد بھی کرپٹ ہے ، جو دین کو فساد کیلئے استعمال کرتا ہے ۔ وہ تاجر بھی کرپٹ ہے جو اشیائے خورد و نوش کو ذخیرہ کرتا ہے تاکہ اپنے منافع کا تناسب بڑھا سکے ۔ ہر وہ شہری کرپٹ ہے جو جانتے بوجھتے ایسے افراد کو ووٹ دیتا ہے ، جن کا ماضی اور حال کرپشن کا شکار ہے ۔ میں اس جج کو بھی کرپٹ مانتا ہوں جو عدل کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف نہیں کر پاتا ۔ وہ سیاستدان بھی کرپٹ ہیں ، جنکے نظریات ہر چند سال بعد تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ ہر وہ سیاستدان بھی کرپٹ ہے جو اقتدار کے حصول کیلئے جھوٹے وعدے کرکے قوم کو بیوقوف بناتا ہے ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کون کون کرپٹ ہے ، پھر بھی آنکھیں بند کر لینے والا ہر شہری بھی کرپٹ ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ جون ٢٠١٨
Sunday, 3 June 2018
کرپٹ کون کون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment