Friday, 8 June 2018

چھپا ہوا سچ یا کھلا جھوٹ

" چھپا ہوا سچ یا کھلا جھوٹ "
ایک پوسٹ میں یہ لکھا کہ غداری کے طوق جن لوگوں کو پہنائے گئے، وہ اور انکے اباو اجداد پاکستان کی تحریک میں ھراول دستوں میں تھے - اور آج جو اقتدار میں آئے بیٹھے ھیں ، ان میں اکثر پاکستان کی تحریک کے مخالفین کی اولاد ھیں - جنہوں نے قربانیاں دیں اگر وہ اپنے حقوق مانگتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں -ان کو اس حد تک لے جانے والے کہ وہ بغاوت پر آمادہ ہو جائیں ، غدار نہیں تو کیا نام دیں گے ان لوگوں کو -
جو ملک کو دونوں ھاتھوں لوٹ رھے ھیں ، انکو محب وطن مان لینا بھی غداری نہیں تو کیا ھے - اور جو حقوق کی بات کرتے ھیں انکے تحفظات کو حل کرنے کی بجائے ، تشدد کی راہ پہ ڈال دینا ، بھی غداری ھی کہلائے گا -
اس حقیقت پہ ایک صاحب بصیرت دوست ، جو مقتدر سیاسی لوگوں کے ہم خیال ہیں - بہت سیخ پا ہو گئے ۔ انکے پاس کئی انگریز دانشوروں کے اقتباسات ہیں ، جن  سے وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ آج جو بھی ہو رہا ھے ، وہی حب الوطنی ھے ۔ یہ سارا شور و غوغا ہے ، یہی غداری ھے - محترم کی ایک مجبوری ہے کہ وہ چھپا ہوا سچ نہیں بتا سکتے ،  اسلیے کھلے جھوٹ کی وکالت پہ قائم ہیں ۔
یہ ہیں وہ مجبوریاں کہ ھم نے سیاسی وفاداریوں کی پٹیاں اپنی آنکھوں پہ باندھ رکھی ہیں ، اور اپنے اپنے مفادات کی خاطر سچ کو چھپاتے ہیں اور جھوٹ کےلیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں ۔ میری ذاتی رائے ہے کہ غداری کا پہلا زینہ یہی ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
11 اگست 2016

No comments:

Post a Comment