" آخرت کی کھیتی "
" او بابا جی ! کیا زندگی ہے جو آپ گذار رہے ہیں ۔ آپ کا دل نہیں کرتا کہ آپ سکون اور اطمینان کی زندگی گذاریں ۔ آپ تھکے نہیں یہ پکوڑے اور سموسے بنا بنا کر ۔ "
خوش باش نوجوان نے بابا جی کو سلام دعا کہے بغیر سوال داغ دیا ۔
" یہ بھی کوئی زندگی ہے ، نہ ڈھنگ کا کھایا نہ ڈھنگ کا پہنا ۔ یہ توکل ،
ثواب ، نیکی اور شکر اپنے آپ کو تسلی دینے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔نیکی بھی دولت سے کمائی جاتی ہے ، روز ایک غریب کو کھانا کھلا دو ، روزہ رکھنے کی کیا ضرورت ، آپکا روزہ ہو گیا "
بابا جی کے چہرے کے اتار چڑھاو اور ناگواری کے تاثرات شدت اختیار کرتے نظر آ رہے تھے ۔ میں نے نوجوان کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
" یار مجھے ترس آتا ہے اس بابا جی پر ۔ اسلئے کہہ رہا ہوں ورنہ مجھے کیا انکے نصیب میں یہی آگ پہ جلنا لکھا ہے جلتے رہیں "
بابا جی کا صبر ٹوٹ گیا ۔
" او امیر زادے ! تو میرے رب سے زیادہ جانتا ہے ؟ میرا رب سورہ الشوریٰ میں فرماتا ہے ۔
" اور جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ۔ ہم اسکی کھیتی میں اور اضافہ کریں گے ۔ اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ، ہم اسے اسی میں سے دے دیں گے ۔ آخرت میں اسکا کوئی حصہ نہیں "
مجھے یہ تو ایک عرصے سے معلوم تھا کہ پکوڑوں کے نیچے جلنے والی آگ نے بابا جی کو دانش دی تھی مگر یہ پتہ نہیں تھا کہ انکا مطالعہ بھی خوب ہے ۔
" میں نے اللہ سے دنیا کی کھیتی تو اسی دن مانگنا چھوڑ دی تھی ، جس دن یہ آیت پڑھی تھی ۔ مجھے تو نیکیاں خریدنے کا کبھی شوق نہیں رہا ۔ نیکیاں کرنے کا جتن کرتا ہوں خریدنے کی کوشش نہیں ۔ تم تاجر لوگ نیکیوں کی تجارت کا دھندہ کرتے ہو ، کرتے رہو ۔ "
بابا جی جب بھی غصے میں ہوتے ہیں ۔ اپنا چولہا بند کرکے ساتھ ٹوٹی دیوار پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ آج بھی یہی ہوا ۔
" اوئے ! نیکیوں کے بیوپاری "
تعجب ہوا کہ آج بابا جی کا لب و لہجہ بہت مختلف تھا ۔ اوئے اوئے کر کے بولتے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ شاید روزے کی شدت سے حواس بے قابو تھے ۔
" مجھے اس آگ کی گرمی سے ہی تو پتہ چلتا ہے کہ دوزخ کی آگ کتنی شدید ہو گی ۔ میں خوش ہوں اور جانتا ہوں کہ میرا رب مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے ۔ میرے ایمان میں جو بھی تبدیلی آئی ، اسی کڑاھی پر آئی ۔ مجھے ایسے ہی سکون ملتا ہے ۔ میں اپنے رب کو راضی کرنے کیلئے دنیا کی طمع والا نفس مار چکا ہوں ۔ یہ تم دنیا داروں کی ضرورت ہے ۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔"
یہ حقیقت بھی تھی کہ بابا جی کا توکل قابل ستائش تھا ۔
" دنیا کی چاندنی کتنے روز تک رہے گی ۔ اسکے لئے کیوں سوچوں جو مجھ سے چھن جانا ہے ، اسکے لئے کیوں نہ سوچوں جو میرا اصل مقدر بنے گا ۔ میں ان بوڑھے ہاتھوں سے مزدوری کر کے راحت پاتا ہوں ۔ "
بابا جی نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور آسمان کیطرف منہ اٹھا کر بولنے لگے ۔
" اے میرے مالک ! مجھے تیری ذات سے کوئی گلہ نہیں ۔ میں اسی حال میں خوش ہوں جس میں تو رکھے ۔ بس میرا ایمان سلامت رکھنا "
آزاد ھاشمی
٤ جون ٢٠١٨
Monday, 4 June 2018
آخرت کی کھیتی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment