" شیطنت "
شیطان نے زہد و عبادت میں اللہ کا ایسا قرب حاصل کر لیا کہ فرشتوں میں ممتاز ہو گیا ۔ یہ صلہ اسکے رب کا انصاف تھا ۔ جب تخلیق آدم ہوئی تو شیطان نے اسی زہد و عبادت کے غرور سے نہ صرف حکم ربی سے انکار کیا ، بلکہ حجت کرنے لگا ۔ اللہ کے نظام میں کجی کی نشاندہی کرنے کی جسارت کر ڈالی ۔ قادر مطلق ، جو ہر کسی کا خالق و مالک ہے ، خواہ انسان ہوں ، چرند و پرند ہوں ، ارض و سما ہو ، جن ہوں فرشتے ہوں ۔ جو کچھ بھی ہو سب اسی کی تخلیق ۔ تخلیق نے اٹھ کر خالق کو چیلنج کر دیا ۔ استدلال سے دوسرے فرشتوں کی اطاعت کو غلط ثابت کرنے کی کوشش
کرنے کی جرات کر ڈالی ۔
یہ ہے شیطنت ۔
اللہ کے ہاں کسی حکم کی نفی ، اس نفی کا استدلال ، سرکشی سے میدان میں اتر پڑنا ، زہد و عبادت پر غرور اور رعونت ، اور اظہار کبر شیطان کا خاصہ ہے ۔
اللہ نے ہمارے لئے جو بھی حکم دیا ، اسے من و عن ماننا ، بغیر کسی سوال و استفسار کے اس پر چلنا ، رب کی رضا کا راستہ ہے ۔
آئیں ہم اپنا اپنا احتساب کریں کہ ہم نے بھی کہاں کہاں اللہ کے حکم کو نہ مانتے ہوئے حجت بازی شروع کر رکھی ہے ۔ کہیں ہمارا زہد و عبادت ہماری رعونت کا باعث تو نہیں بن رہا ۔ ہم اللہ کے احکامات سے راہ فرار کا استدلال تو نہیں بنائے بیٹھے ۔
اللہ نے فرقہ بندی سے منع کیا ، ہم نے استدلال گھڑ لئے اور فرقوں کی ایک لائین لگا دی ۔ اللہ نے سود کو اپنے ساتھ جنگ کہہ دیا ہم نے شیطان کی راہ پر چلتے ہوئے اللہ سے جنگ چھیڑ دی ۔ اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو روکنے کی ہر ممکن سعی کر رکھی ہے ۔ عبادت پر اترانا ہماری گھٹی بن گئی۔ الغرض اللہ کے تمام احکامات سے عملی انکار ہمارا وطیرہ بن گیا ۔
آئیے سوچتے ہیں ۔ اگر ایسا ہے تو شیطان, اللہ اور انسان کا اعلانیہ دشمن ہے ۔ ہم شیطان کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ اپنے دشمن سے ملکر اللہ سے دشمنی کر رہے ہیں ۔ اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہیں ۔ اللہ کی راہ کو اختیار کرتے ہیں ۔ اسی میں فلاح ہے ۔ اسی میں امن ہے ۔ اسی میں طمانت ہے ۔
شکریه
ازاد ھاشمی
27 دسمبر 2016
Friday, 8 June 2018
شیطنت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment