Saturday, 9 June 2018

صرف ایک حل ، حسینیت

" صرف ایک حل ، حسینیت "
اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون ، ہر کوئی چاہتا بھی ہے ، تقاضا بھی کرتا ہے اور اسے مسائل کا آخری حل بھی مانتا ہے ۔ کچھ دبے دبے لفظوں میں ، کچھ ببانگ دہل ، کچھ قوت کے ساتھ اور کچھ گفتگو میں اظہار کرتے ہیں ۔ یزیدیت کا تسلط توڑنے کے لئے  ، کربلا کا میدان سجائے بغیر بات بن سکتی تو حبیب اللہ کا نواسہ اپنے اور اپنے احباب کے خون سے ریگ کربلا کو تر نہ ہونے دیتے ۔  دنیا نے دیکھا کہ ہزاروں کی جابر فوج ، جسے فتح سمحھتی رہی وہ کسقدر ذلت آمیز شکست تھی ۔  چند رضائے ربی کے طالب ، جو کمزور اور بے بس نظر آتے رہے ، کس شان سے فتح مند ہوئے کہ آج صدیوں پہ محیط زمانہ انکے نقش قدم کو اسلام کی راہ مانتا ہے ۔ کوئی نہیں جو کہہ سکے کہ یزید جیت گیا ۔ کوئی نہیں جو لب کشائی کر سکے کہ حسین ع کو شکست ہوئی ۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یزیدی اطوار کا کوئی دوسرا حل ہے تو وہ گمراہی کی راہ کا مسافر ہے ۔ آج کے تمام یزیدی  فکر و اطوار کے پیرو کار اگر خوف زدہ ہیں تو صرف حسین ع کی جرات والے انداز سے ۔ کسی نے کیا خوب کہا
" اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد "
اللہ کے احکامات کی اطاعت ، اسکے حبیب کے لائے ہوے دستور سے لگن ، نماز کا ادراک و عمل ، گمراہی اور برائیوں سے اجتناب ، اسلام کے نظام میں رخنہ اندازیوں سے بچنے ، جبر و استبداد کا ہا تھ روکنے کےلیے ایک ہی راہ ہے اور وہ حسینیت ۔ صرف یا حسین یا حسین کہنا کافی نہیں ۔ حسین ع  کا طرز حیات اپنانا اصل ضرورت یے ۔ یہ ہے حسین کی اصل محبت ۔ اور اصل محبت ہی فلاح ہے ۔
شکریہ 
ازاد ھاشمی
8 اکتوبر 2016

No comments:

Post a Comment