Friday, 8 June 2018

کیسا میڈیا ، کیسی صحافت

" کیسا میڈیا ، کیسی صحافت "
صحافت کا پیشہ مہذب  ، تعلیم یافتہ اور با کردار لوگوں کا پیشہ ہوا کرتا تھا ۔ حق اور سچ کےلئے کسی بھی قربانی سے گذر جانا ، ایک سچے صحافی کی شان ہوا کرتی تھی ۔ برائی کی نشاندہی سے لیکر اسکے خاتمے تک کی سعی صحافت کا مسلک تھا ۔  قلم سے جہاد کرنا اعزاز ہوا کرتا تھا ۔ ایسے لوگوں کا معاشرے میں احترام  بھی تھا ۔ لوگ انہیں مسیحا سمجھا کرتے تھے ۔
آج کی  صحافت تجارت تک ہی محدود رہ جاتی تو بھی قابل قبول تھا ۔  مگر بلیک میلنگ کے بعد اب ایک غنڈہ گردی کی راہ پر چل نکلنا ، صحافت کی موت ہے ۔ میڈیا کا بے ہنگم انداز کہ سیکولر تربیت کے نوجوان ، آزاد خیالی کا ڈنڈا پکڑے ، جسے چاہیں سر بازار بے آبرو کر ڈالتے ہیں ۔ نہ بات کرنے کا سلیقہ، نہ اخلاقیات کا ڈھنگ ، نہ روایات سے سرو کار ۔  ایسے ہی کچھ خواتین ، جن کا لباس ، لہجہ ، بودوباش اور  بےباک انداز مغرب زدہ ہے ۔  خاتون ہونے کے ناطے ساری حدوں سے باہر ہو کر صحافت کی خدمت میں لگ جاتی ہیں ۔ ایسا ہی ایک واقعہ چند روز پہلے پیش آیا ۔
ان نو خیز دانشور صحافیوں کا نشانہ پولیس کے وہ اہلکار جو چند سکے رشوت لیتے ہیں، بنتے ہیں ۔ کبھی اعلیٰ افسران نہیں ہوتے جو تھانوں سے ماہانہ وصول کرتے ہیں ۔  جعلی ایف آئی آر کٹواتے ہیں اور شرفاء کی پگڑیاں اچھالتے ہیں ۔ کتنے جج بے گناہوں کو پابند سلاسل کئے بیٹھے ہیں ، کتنے سیاسی لیڈر ناجائز اثرو رسوخ سے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہیں ۔ کتنے میڈیا مالکان وطن دشمنوں کی زبان بولتے ہیں ۔ کتنے اخبارات کے مالکان قلم فروشی کر رہے ہیں ۔ کتنے صحافی لفافہ کیش ہیں ۔ یہ وہ اصل ناسور ہے ، جسکا علاج ضروری ہے ۔ ایک کلرک ، خوانچہ فروش ، پولیس کا سپاہی  کتنی کرپشن کر لیتا ہو گا ۔ کتنے اختیارات ہوتے ہیں ان چھوٹے اہلکاروں  کے پاس ۔
کہاں ہیں وہ صحافی ، جو سچ کی کھوج میں دیانتداری کے امین ہیں ۔ جب کسی بڑے صاحب کی بات آتی ہے تو ساری صحافت ، سارا میڈیا اپنے لبوں کو سی لیتا ہے ، جب کسی غریب کی کہانی مل جائے تو سب کے منہ سے جھاگ نکلنے لگتی ہے ۔
دیانت دار صحافیوں سے معذرت کے ساتھ ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
24 اکتوبر 2016

No comments:

Post a Comment