Monday, 4 June 2018

ڈاکٹر کی تنخواہ اور جج کی مراعات

" ڈاکٹر کی تنخواہ اور جج کی مراعات"
چیف جسٹس آف پاکستان نے جہاد کے نام پر ایک تلوار اٹھا لی ہے ، جو اندھا دھند گھمائے جا رہے ہیں ۔ عجیب سا احساس اجاگر کیا جا رہا کہ کوئی نہ کوئی ایشو ڈھونڈھ نکالا جائے ، جس سے سابقہ حکمرانوں کے گلے میں پھندا پڑ سکے ۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے کرپشن کی طرف بڑھنے کا رحجان قوم کو تباہی کے کنارے پہ ڈال دے گا ۔ ایک وکیل ، قانون سے کھیلتے کھیلتے ہائی کورٹ کا جج بن جاتا ہے ، اور اس وکالت کے دوران اسے قطعی سروکار نہیں ہوتا کہ اسکا سائل کرپٹ ہے امانتدار ۔صرف اپنی فیس عزیز ہوتی ہے ۔ پھر سپریم کورٹ کا  جج اور کرپٹ حکمرانوں کی آنکھ تارا بن کر سب سے بڑا قاضی بن جاتا ہے ۔ تعلیمی قابلیت ، ایل ایل بی یا بیرسٹر ہوتی ہے ۔ تنخواہ ، مراعات اور اوپر نیچے کی کمائی کا حساب ہی نہیں ہوتا ۔ نہ کوئی پوچھ سکتا اور نہ کوئی احتساب کر سکتا ہے ۔ کون جانے اس پل کے نیچے سے کرپشن کا کتنا پانی گذر گیا ۔ چیف صاحب نے ایک ڈاکٹر کی تنخواہ پر جو تلوار گھما دی ہے ۔  واحد ہسپتال جس پر بارہ ارب روپیہ خرچ ہوا ، اس میں ایک ڈاکٹر بیرون ملک اپنی ملازمت کو چھوڑ کر آیا ہے ۔  معلوم ہونا چاہئیے کہ ڈاکٹر اور پھر سپیشلسٹ ڈاکٹر بننے تک کا وقت وکیل اور جج سے کہیں زیادہ محنت طلب بھی ہے اور اس پر جو اخراجات اٹھتے ہیں وہ کسی بھی وکیل یا جج سے کہیں زیادہ ہیں ۔ ایک اچھے ڈاکٹر کیلئے دس بیس ہزار ڈالر تنخواہ دنیا میں معمول کا حصہ ہے ۔ جبکہ آپ کی سیکورٹی اس سے گئی گنا مہنگی ہے ۔ آپ کے نوکر ، ڈرائیور ، باورچی ، گاڑی کا پیٹرول ، سیر سپاٹے اور مہمان نوازی پر جو اخراجات قوم برداشت کرتی ہے ۔ وہ ایسے پانچ دس ڈاکٹروں سے بھی زیادہ ہیں  ۔ کیا یہ کرپشن نہیں ۔ ڈاکٹر بننے کیلئے تعلیمی قابلیت کا جو معیار ہے وہ وکیل بننے کیلئے نہیں ۔ یہ آپ اس کرسی پر بیٹھ کر بخوبی پتہ ہونا چاہئیے ۔
ڈاکٹر ایک مسیحا اور مہذب شخص ہوتا ہے ، ہسپتال عدالتوں سے بہتر خدمت کی جگہ ہے ۔ پھر آپ نے ایک ڈاکٹر کو اسقدر ہراساں کرنے سے کونسا جہاد کر لیا ہے ۔ ابھی تو آپ نے عدالتوں سے کرپشن کا سقم نہیں توڑا ؟  ابھی کتنا لوٹا ہوا مال واپس آیا ؟  کتنے لٹیرے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھیجے ؟ کارکردگی کیا ہے؟؟ اصل معرکہ وہاں کا وہاں ہی ہے ۔ اب ایک تھانیدار کیطرح مجرموں سے آنکھ بچائے ہوئے ادھر ادھر سے شرفاء کی تذلیل کرنا کونسا عدل ہے ؟
رحم کریں ، قابل لوگوں کے گلے میں رسوائیاں مت ڈالیں ۔ ڈاکٹر قوم اور وطن کا اثاثہ ہیں اور تا عمر اثاثہ ہیں ۔ مہربانی فرمائیں ۔ 
آزاد ھاشمی
٤ جون ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment