Saturday, 9 June 2018

اگلا قدم

" اگلا قدم " 
ہمارے اردگرد کا ماحول کلی طور پر موجودہ سیاسی قیادت ، موجودہ نظام حکومت ، حکومتی اداروں ، عدالتوں ، پولیس ، بیوروکریسی سے دل برداشتہ ہے ۔ مگر اب سمجھ نہیں آرہا کہ اس لوٹ کھسوٹ ، بدامنی ، چور چکاری سے چھٹکارا کیسے ملے ۔ جمہوریت کی چڑیل کیلئے کونسا دم درود کیا جائے کہ یہ آنگن سے راستہ لے ۔ پوری قوم جس مسیحا سے بھی امید لگاتی ہے وہی بالآخر اسی تھالی کا چٹا بٹا ثابت ہوتا ہے ۔ معجزوں کی منتظر قوم اب صرف کسی معجزے کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ کہ رات ہی رات میں کوئی اچنبھا ہو گا اور صبح ہوتے ہی سب برائی ختم ہو گی ۔ ایسے خواب شیخ چلی کے خواب کہلاتے ہیں ۔  اگلا قدم کیا ہو ، کیسے ہو ، بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ۔ ایسے بہت سارے مخمصے ہر ذہن کو پریشان کئے بیٹھے ہیں ۔ میری محدود سوچ کے مطابق جب مصمم ارادہ کر لیا جائے تو کوئی ایسا پہاڑ نہیں ، جس کی بغل میں راستہ نہ ہو ۔  ہمارا اگلا قدم انفرادی تحریک کے تحت ہم خیال لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہو گا اور یہ کام سوشل میڈیا نے آسان کر دیا ہے ۔ جمہوریت کے ثمرات اور جمہوریت کے پرستاروں کے کردار کو پوری قوت سے اجاگر کرنا ہو گا ۔ لبرلز کی منافقت کو تقسیم کر کے اس تحریک کو زیر کرنا ہو گا ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ان لبرلز کے پاس چند سوالوں کے بعد عذر ختم ہو جاتے ہیں ۔ ہمارا اگلا قدم اپنے اردگرد جمہوری نظام سے متاثر لوگوں کو اگاہی دینی ہو گی کہ وہ کسی جمہوری مبلغ کی سٹریٹ پاور نہ بنیں ۔ یہ چھوٹی سی کوشش ایک طاقت بننے میں وقت نہیں لے گی ۔ یہ پہلا کمزور قدم ایک مضبوط محاذ ثابت ہو گا ۔ اور یہ سب کرنے میں نہ کوئی قانونی سقم ہے ، نہ جماعت بندی درکار ہے ، نہ اشتہاری مہم کی ضرورت ہے ۔ ایک سے دو ، دو سے چار ، چار سے سولہ کا عمل شروع ہو گیا تو انقلاب کی راہ ہموار ہو جائے گی ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
26 دسمبر 2016

No comments:

Post a Comment