Saturday, 9 June 2018

ممتاز قادری اور محقق

ایک محقق , جنھیں بہت سارے علماء سکالر تو کیا , مذھب کا طفل مکتب بھی نہیں مانتے , مگر میڈیا زندہ باد جو بھی انکی زبان بولتا ہو , راتوں رات مذہبی سکالر بن جاتا ہے - اسکی زمہداری صرف اتنی ہوتی ہے , چند نئی نئی باتیں بتاۓ اور عوام الناس کی راے تبدیل کرے -
تو حضرت فرماتے ہیں کہ ممتاز قادری نے دو بڑے جرم کیۓ , ایک یہ کہ قران میں لکھا ہے کہ کسی کو نا حق قتل کرنا پوری انسانیت کا قتل ہے - قران کا فیصلہ کون جھٹلا سکتا ہے - مگر جو قران کے احکامات کو جھٹلاۓ , الله کے احکامات کا منکر ہو , اور الله کے حبیب کی شان میں گستاخی کرے , تو کیا یہ قتل نا حق ہو گا -
حضرت فرماتے ہیں کہ دوسرا جرم یہ ہے کہ اس نے اپنے حلف سے انحراف کیا - ہم  سب نے مسلمان ہونے کا اقرار کر کے ایک حلف الله سے اٹھا رکھا ہے , کہ ہم اپنی جان , مال , اولاد , ماں باپ , غرضیکہ ہر چیز سے زیادہ محبت رسول پاک سے رکھیں گے - ہم نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ جب ہمارے دین , ایمان کا تقاضہ ہو گا , ہم تلوار بھی اٹھائیں گے اور کفر کا راستہ روکیں گے -
باقی سارے حلف اسکے بعد ہیں -
میں ایک سوال حضرت سے پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں , کہ کتنے لوگ مذھب کے نام پہ قتل کر کے آزاد ہو گئے , کتنے لوگ سالوں سے سزاے موت سن کر آج بھی زندہ ہیں - حضرت سے پوچھنا چاہوں گا کہ کیا ہمارا قانون اسلامی قانون سے مطابقت رکھتا ہے - کیا ہمارے جج اسلام کی شرائط پہ پورے اترتے ہیں - کیا اسلام گناہ کبیرہ کے مرتکب کو حکمرانی کی اجازت دیتا ہے -
شاید بہت سارے سوالوں کا جواب نہیں میں ہو گا -
آزاد ہاشمی
10 مارچ 2016

No comments:

Post a Comment